×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

زمانہٴ جاہلیت کے عربوں میں ازدواج

آبان 04, 1392 540

عرب اقوام کے ہاں کنیزوں کی خریدوفروش کے رواج کیساتھ ساتھ آزاد خواتین اور لڑکیوں کی بھی کوئی زیادہ قدر نہیں  تھی۔ بعض لوگ تو اس قدر متعصب تھے

 کہ لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے۔ کچھ لوگ لڑکی کا وجود اپنے خاندان پر فقط اس لئے اضافی بوجھ سمجھتے تھے کہ وہ روزی کمانے میں زیادہ تعاون نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے ہاں لڑکی کی ولادت قابل نفرت اور ناپسند قرار دی جاتی تھی۔ وہ لوگ دوسرے اموال کی طرح عورتوں کو بھی میراث بانٹ لیتے تھے اور اس تقسیم میں عورتوں کی مرضی کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا تھا۔ گاہے ایسا بھی ہوتا کہ شوہر کوئی ہدیہ اپنی زوجہ کو دے دیتے تو پھر کبھی ان سے کنارہ گری کرلیتے اور شرط عائد کر دیتے کہ جب تک ہدیہ واپس نہ دو گی ہمبستری نہیں کروں گا۔ ان کے ہاں ازواج کی تعداد کی کوئی پابندی نہیں تھی، بلکہ ایک شوہر ایک وقت کئی ایسی عورتوں کو رکھ سکتا تھا جو باہم بہنیں ہوتی تھیں۔ اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لینا بھی ان کے ہاں رائج تھا اور ازدواج میں کوئی اخراجات نہیں ہوتے تھے، اپنی بیٹیوں سے جان چھڑانے کے لئے بہت آسانی سے ان کی شادی کر دی جاتی اورکچھ زیادہ شرائط نہ رکھی جاتی تھیں، قبیلے اختتام جنگ کی علامت کے طور پر ایک دوسرے کے ہاں شادی کر لیتے تاکہ یہ ازدواج صلح و آشتی کا نشان بن جائے۔ طلاق اور ترک زوجیت بھی بآسانی ہو جاتی تھی۔ عورتیں بعض اوقات اپنی تجارت کے لئے اجرت پر ملازم رکھ لیتی تھی، عورتوں میں اپنی آرائش کا حد سے زیادہ رواج تھا۔ اسی لئے قرآن مجید نے اس آرائش کو" تبرُّجَ الجاھلیة" کہہ کر اس سے سخت ممانعت فرمائی ہے۔

Last modified on سه شنبه, 20 خرداد 1393 12:53
Login to post comments