Print this page

یونان و ایتھنز میں ازدواج

آبان 06, 1392 651
Rate this item
(0 votes)

یونان میں شادی کا اصل مقصد حکومت کیلئے سیاسی لوگ پیدا کرنا ہوتا تھا،اس لئے ضروری تھا کہ شادی کے ذریعے اولاد پیدا کرائی جائے۔

چنانچہ افلاطون لکھتا ہے کہ اگر کسی شادی سے دس سال تک کوئی اولاد نہ ہو تو وہ شادی ختم ہو جائے گی۔ بعض کا کہنا ہے کہ ایتھنز کے لوگوں میں رواج تھا کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے اولاد نہ ہو تی ہو تو اسے حق حاصل تھا کہ اپنے شوہر کے رشتہ داروں میں سے کسی ایک سے ہمبستری کر لے۔ بعض کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں شوہر کیلئے ضروری تھا کہ وہ اپنی بیوی کسی دوسرے کے حوالے کرے تا کہ اس کے گھر کا چراغ روشن رہے۔ کیونکہ اس دوسرے کا جو لڑکا اس عورت کے بطن سے پیدا ہوتا وہ اسی اصل شوہر کا بیٹا شمار ہوتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس ہمبستری سے ہونے والا فرزند ہی خاندان کے باپ کی اولاد شمار ہوتا تھا۔ بہر حال یونانی ازدواج کے قوانین کا مطالعہ کرنے والے اس قسم کے ازدواج کے قانونی ہو جانے کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ البتہ یہ بات مسلّم ہے کہ اگرزوجین کی اولاد نہ ہوتی تو جو فریق بھی بے اولاد ہوتا وہ قاضی کے ہاں مراجعہ کرتا اور قاضی ان کے ازدواج کے ختم ہونے کا حکم لگا دیتا۔ یونان یا شاید ایتھنز میں بھی دو قسم کے ازدواج موسوم رہے ہیں، ایک ازدواج قراردادی اور دوسرے ازدواج حکمی… کہ اس کے مطابق لڑکی کو اپنے رشتہ داروں کے ہاں زیر سرپرستی رکھا جاتا تھا۔ ہر عورت تین قسم کے سر پرست رکھتی تھی… ایک بچپن کی عمر کا سرپرست اور وہ باپ، یا دادا، یا چچا ہوتا تھا۔ دوسرا تزویج کا حقدار سرپرست کہ مذکورہ بالا بزرگان میں سے کوئی ایک یہ حق استعمال کرتا تھا یا وہ اس کی وصیت کر دیتے اور تیسرا سرپرست شوہر ہوتا تھا۔ جو گذراوقات میں اپنی زوجہ کو کمک دیتا تھا۔ کبھی اس کو بھی حق تزویج حاصل ہو جاتا تھا۔ اس لئے شوہر اپنی وفات کے وقت خود اپنی بیوی کا عقد کسی دوسرے شخص سے کر دینے کا اختیار رکھتا تھا۔ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنا دراصل شادی کر لینے کی وصیت شمار ہوتی تھی، اس لئے عورت کو یہ حق حاصل رہتا کہ وہ اس کے مطابق عمل کرنے سے انکار کرد ے۔ یونانی صراف لوگ اپنے علاقوں اور کنیزوں میں سے کسی کو اچھی خدمت کرنے کے عوض کبھی کبھی آزاد کر دیا کرتے تھے۔ لیکن ان کی شادی کا حق آزادی کے بعد بھی انہیں کے اختیار میں ہوتا تھا کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ آقا اپنی بیوی یا بیٹی اس آزاد کردہ غلام کو ھبہ کر دیتا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یونان میں تعدد زوجات قانونی تھا اور ہر مرد کو کم از کم دو بیویوں کا حق تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ ہم خوابگی یا متعہ بھی یونان میں رائج ہے۔ ٍ غیر یونانی سے شادی کرنا اُن کے ہاں ناجائز تھا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی ایسا کر لیتا تو غیر یونانی ماں کی اولاد کو میراث سے محروم رکھا جاتا۔یونانی قانون کے مطابق ایک عورت کو چند شوہر رکھنے کا حق حاصل تھا، لیکن اس طرح پیدا ہونے والے طبیعی فرزندان کو فقط اس صورت میں میراث کاحق ملتا تھا جب قانونی فرزند وجود نہ رکھتا ہو۔

Last modified on سه شنبه, 20 خرداد 1393 12:45
Login to post comments