×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

چین میں شادی کی رسم

آبان 06, 1392 491

چین کے مذہبی دستور کے مطابق ہمنام خانوادے ایک دوسرے سے شادی نہیں کر سکتے،لیکن عملی طور پر اس مذہبی حکم کو ترک کیا گیا ہے۔

بیٹے اپنے والد کے زیرِ تسلّط ہوتے تھے اور لڑکیاں شادی کے بعد اپنے شوہر کے تسلّط میں جاتیں۔ وہ شوہر کے گھر اپنا جہیز نہ لے جا سکتی تھیں ، فقط پہننے کے کپڑوں کی ایک گٹھڑی اٹھا کر شوہر کے گھر چلی جاتی تھیں۔ ایک چینی مرد کو درجہ اوّل کی ایک عورت رکھنے کا حق ہوتا تھا ، ہاں اگر وہ اس قدر دولت مند ہو کہ خرچ برداشت کر سکے تو پھر جس قدر ازدواج چاہتا رکھ لیتا۔ لیکن ایسی شادیاں درجہ دوم شمار ہوتی تھیں اور حقِ میراث فقط پہلے درجے والی بیوی کی اولاد کو ہوتا تھا۔ لے پالک اور منہ بولا بیٹا بنانا بھی ان کے ہاں گوناگوں انداز سے زیرِ عمل رہا ہے۔ چنانچہ داماد کو بھی منہ بولا بیٹا بنایا جا سکتا تھا۔ ایسی صورت میں ان کے سارے اخراجات سسر کی ذمہ داری بن جاتی تھی۔کنفسیوس کے قانون کے مطابق سات موارد میں عورت کو طلاق دی جا سکتی تھی۔ اور زنا کے ارتکاب کی صورت میں طلاق قطعی ہوتی تھی۔

Last modified on سه شنبه, 20 خرداد 1393 12:43
Login to post comments