×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

بابل میں شادی کی رسم

آبان 06, 1392 447

بابل میں عورت کو خرید کر زوجیت میں لانے کا تصوران کے حموارئی قانون میں نہ تھا بلکہ شاید اس سے قبل بھی اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ ان کے

  ہاں ازدواج کی قرار داد کا تحریر کیا جانا ضروری تھا۔ ہر داماد کو ایک مقررہ رقم لڑکی کے والد کو "تیرھاتو "کے طور پر دنیا پڑتی تھی۔ جسے وہ جہیز سمیت اپنی دختر کو دیتا، جبکہ وہ سب کچھ اس لڑکی کا حصہ میراث سمجھا جاتا اور وہ ا سے اپنے شوہر کے گھر لے آتی۔ علاوہ ازیں عورت کو طلاق دینے کی صورت میں اس کا شوہر ایک مقررہ معمولی رقم اس کی گذران کے لئے اسے دیا کرتا تھا۔ مرد کو دو صورتوں میں دوسری شادی کر لینے کی اجازت ہوتی تھی، ایک یہ کہ پہلی بیوی سے اولاد نہ ہوئی ہو اور دوسرے جب پہلی بیوی بیمار ہو گئی ہو۔ لیکن اگر پہلی بیوی اپنی کنیزوں میں سے کوئی ایک اپنے شوہر کو بخش دیتی تو پھر شوہر کو کسی دوسری بیوی سے شادی کرنے کا حق نہ رہتا تھا۔ اگر اس کنیز سے اولاد ہو جاتی تو پھر اس کو فروخت کرنا جائز نہ رہتا تھا، بابل کے قدیمی قانون کے مطابق ہم خوابی میں آنے والی ایسی کنیز کے لیے اصلی بیوی کی اطاعت میں رہنا لازمی ہوتا اور اس کی اولاد بھی اس بیوی کی اولاد شمار ہوتی تھی۔ طلاق ہو جانے کی صورت عورت کو اس کے سارے اموال واپس کر دئیے جاتے مگر یہ کہ اس عورت سے کوئی تقصیر سرزد ہوئی ہو۔ ہاں اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو بلا قصور طلاق دے دیتا تو اسے شوہر کے اموال میں سے ایک حصہ دیا جاتا، اولاد کے حصے کی میراث بھی اس عورت کے اختیار میں دے دی جاتی اور پھر اولاد کی نگرانی اس عورت کے ذمہ ہوتی تھی۔ اگر کوئی شوہر اپنی زوجہ کو خرچہ دئیے بغیر غائب ہو جاتا تو عورت کو دوسرے کے گھر آباد ہونے کی اجازت تھی، اگر شوہر نے ایک سال تک کا خرچہ دے دیا ہوتا تو پھر عورت پر اس شوہر کا وفادار بن کر رہناضروری ہوتا اور ایسی صورت میں خیانت کرنا شدید جرم تصور کیا جاتا تھا۔ بیوی کو شوہر کی وفات پر ایک فرزند کے برابر میراث سے حصہ ملتا تھا۔ اگر اس بیوہ کا والد یا برادر زندہ ہوتا تو ان پر اس کے اموال کی نگرانی کرنا ضروری ہوتا اور اگر وہ دونوں فوت ہو چکے ہوں تو عورت کو اپنے اموال کی نگرانی کیلئے ایک مرد کو اجیر بنانا پڑتا تھا۔

Last modified on سه شنبه, 20 خرداد 1393 12:41
Login to post comments