×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قدیم مصر میں شادی کی رسم

آبان 06, 1392 395

میلاد مسیح سے گیارہ صدیاں قبل مصر کے ایک بادشاہ یوشریس نےایک قانون بنایا جس کے باعث تمام معاہدے اور قراردادیں باہمی رضا مندی اور

 آزادیٴ ارادہ کے مطابق انجام دی جانے لگیں، چنانچہ زن و مرد کو بھی باہمی رضا مندی سے ازدواج کرنے کا حق مل گیا اور اس میں آزادی حاصل ہو گئی اور والدین کی رضامندی دونوں کیلئے ضروری نہ رہی۔ عورت اپنے اموال کی خود مالک رہتی، مرد قرار داد ززوجیت سے قبل مال کی ایک مقررہ مقدار عورت کو دینا نیز قراردادکے اندر ماہانہ یا سالانہ نفقہ کی مقدار بھی معین کی جاتی ۔ بوقت عقد جو اموال مرد کے پاس ہوتے یا مستقبل میں جو کچھ وہ کماتا وہ سب اس کی زوجہ کے اموال کا حصہ بنتا اور اس کے اختیار میں دے دیا جاتا۔ اس قانون میں تعدد زوجات کی بھی اجازت تھی اورمزاوجت گویا باہمی اشتراک کی نوعیت اختیار کر لیتی تھی۔ محارم اور اقارب کیساتھ شادی ممنوع نہ تھی۔ حتیٰ کہ بہن بھائی بھی باہم ازدواج کر لیتے تھے۔ اس قانون میں لے پالک فرزند کی اجازت بھی موجود تھی حقیقی فرزند اور منہ بولے بیٹے کو مساوی درجہ دے دیا جاتا تھا وہ دونوں میراث پاتے بلکہ مذکرومونث کے لحاظ سے بھی کوئی فرق نہ تھا۔ البتہ سب سے بڑے فرزند کو کچھ اضافی حصہ ملا کرتا اور اسے ہی یہ حق پہنچتا تھا کہ باپ کی میراث کو بقیہ وارثوں میں تقسیم کرے۔

Last modified on سه شنبه, 20 خرداد 1393 12:40
Login to post comments