×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

آج کا لطیفہ

مرداد 22, 1393 282

بادشاہ سلامت اپنے مشیروں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ شاہی باورچی نے بادشاہ سلامت کے سامنے بیگن کی ڈش پیش کی۔

بادشاہ نے فرمایا کہ یہ بیگن بھی کیا خوب سالن ہے۔ اس کے کثیر فائدے گنوائے تو وزیر اعظم نے بھی کئی فائدے ساتھ گنوا دیئے۔ چند نوالے بیگن کے کھانے کے بعد بادشاہ سلامت نے بچے کھچے بیگن کی پلیٹ سامنے سے ہٹاتے ہوئے فرمایا مگر بیگن کھانے سے پیٹ خراب ہوتا ہے ، مروڑ بھی ہو سکتی ہے ، طرح طرح کی بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔ ابھی بیگن کی برائیاں جاری تھیں کہ وزیر اعظم صاحب نے لقمہ دیا بجا فرمایا حضور نے بے شک بیگن کھانے سے انسان ہلاک بھی ہو سکتا ہے۔ کیا بد شکل ہو تا ہے یہ بیگن اس کی تو ایک سے زیادہ گرگٹ کی طرح شکلیں بدلتی رہتی ہیں اور تو اور یہ ایک ساخت بھی نہیں رکھتا۔کہیں لمبوترا تو کہیں گینڈے کی طرح موٹا۔ بھلا بیگن بھی کوئی کھانے کی چیز ہے لا حول ولا قوۃ۔ابھی وزیر اعظم مزید عیب گنوانے پر تلے تھے کہ بادشاہ نے وزیر اعظم کو ڈانٹا کہ تم ابھی تو اس کی اچھائیوں میں میرا ساتھ دے رہے تھے اور اب جب میں نے بیگن کی برائیاں گنوائیں تو تم بھی اس کی برائیاں گنوا رہے ہو۔ تم کیسے وزیر اعظم ہو ؟ وزیر اعظم نے ہاتھ باندھے اور عرض کیا حضور غلام آپ کا وزیر ہے نہ کہ بیگن کا۔

Login to post comments