×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر حصّہ چهارم

مهر 19, 1392 590

او سی ڈی کیوں ختم نہیں ہوتا؟بعض دفعہ او سی ڈی کے مریض اپنی علامات کو کم کرنے کے لیے جو کوششیں کرتے ہیں انھیں

سے ان کے خیالات بڑھتے ہیں، مثلاً:  آبسیشنز  کو ذہن سے باہر نکالنے کی کوشش کرنا اور کوشش کرنا کہ یہ خیالات ذہن میں نہ آئیں۔اس کوشش سے عام طور سے یہ خیالات بڑھ جاتے ہیں۔

  کمپلشنز کو بار بار انجام دینے سے، کاموں کو بار بار چیک کرنے سے، یا لوگوں سے بار بار تسلی طلب کرنے سے کچھ دیر کے لیے تو گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے ، لیکن اس سے مریض کا یہ خیال اور پختہ ہو جاتا ہے کہ ان کاموں کو کرنے سے کوئی بری بات ہونے سے رک جاتی ہے، اس لیے اگلی دفعہ ان کاموں کو بار بار کرنے کے لیے پریشر اور بڑھ جاتا ہے۔

 ایسے"صحیح"  خیالات ذہن میں لانا جن سے "برے خیالات" ختم ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور انتظار کریں جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ ختم ہو جائے۔

 اپنی مدد آپ کرنا۔

  اپنے  آبسیشنز کا سامنا  کریں۔ یہ آپ کو سننے میں  عجیب سا لگے گا مگر اس سے اپنے خیالات پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔ اپنے آبسیشنز  کو بول کر ریکارڈ کر لیں اور انھیں بار بار سنیں، یا انھیں لکھ لیں اور بار بار پڑھیں۔ آپ کو یہ با قاعدگی سےروزانہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے کرنا ہوگا جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ  کم نہ ہو جا ئے۔

  کمپلشنز سے رکنے کی کوشش کریں مگر آبسیشنز کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔

  گھبراہٹ  دور کرنے کے لئے شراب نہ پیئیں ۔

  اگر آپ کے خیالات آپ کو  مذہبی اعتبار سے پریشان کرتے ہیں تو کسی عالم سے بات کر کے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کہیں آپ کے خیالات او سی ڈی کی وجہ سے تو نہیں ہیں۔

 او سی ڈی کا علاج۔

 میں دو طریقے استعمال ہو تے ہیں۔ CBT او سی ڈی کے لئے یہ طریقئہ علاج گھبراہٹ اور کمپلشنز کو ایک دوسرے کو بڑھانے سے روکتا ہے۔  اگر انسان کسی ذہنی دباؤ والی صورتحال میں  کافی وقت تک رہے تو آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے۔اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اس علاج میں مریض کو ان حالات کا سامنا کروایا جاتا ہے جن میں اس کو وہم ہوتے ہیں مثلاً گرد آلود چیز کو چھونا  لیکن اس کے تقاضے پہ عمل کرنے سے روکا جاتا ہے مثلاً بار بار ہاتھ دھونا ، جب تک اس کی گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔اس علاج  کو اچانک پورا کرنے کے بجائے بتدریج  کرنا بہتر ہے۔

   ان چیزوں کی فہرست بنا ئیں جن سے آپ کو بہت گھبراہٹ ہوتی ہے یا جن سے آپ دور رہتے  ہیں۔

  ان حالات یا خیالات کو اپنی فہرست میں سب سے نیچے رکھیں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے، اور ان کو اوپر رکھیں جن سے آپ کو سب سے زیادہ  گھبراہٹ ہوتی ہے ۔

  سب سے پہلے ان حالات کا سامنا کریں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے اور پھر ان چیزوں کی طرف آئیں جن سے زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ اگلے درجے پہ اس وقت تک نہ جا ئیں جب تک اس سے نچلےوالے درجے میں گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔

 اس مشق  کو روزانہ ایک دو ہفتے تک کریں۔  ہر بار اس کو  اتنی دیر تک کریں جب تک آپ کی گھبراہٹ انتہا سے کم از کم آدھی نہ ہو جائے۔ شروع میں اس میں آدھہے سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

  آپ ایک سائیکو  تھراپسٹ کے ساتھ ان اقدام کی مشق کر سکتے ہیں، مگر زیادہ تر وقت آپ کو یہ خود ہی کرنا ہو گا ۔ اس کو اسی رفتار سے کریں جسے آپ آرام سے برداشت کر سکیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ آپ کی گھبراہٹ پوری ختم ہو، بس اتنی کم ہونا ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کر سکیں۔- یاد رکھیں کہ آپ کی گھبراہٹ:

  تکلیف دہ ضرور ہے مگر یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔  بلا آخر دور ہو جا ئے گی۔  مستقل مشق کے ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی۔

  ERP  کو کرنے کے دو اہم طریقے ہیں:

 رہنما ئی کے ساتھ اپنی مدد آ پ کرنا۔

 آپ کسی کتاب ، ٹیپ ، وڈیو، ڈی وی ڈی یا کسی سوفٹ وئیر کی رہنما ئی لیں۔ آپ کبھی کبھی  کسی پیشہ ور تھراپسٹ سے صلاح مشورہ اور مدد لے سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار اس وقت بہتر ہے جب آپ کو ہلکا او سی ڈی ہو اور آپ کو خود پراتنا  اعتماد ہو کہ آپ  اپنی مدد آپ کے طریقے خود استعمال کر سکیں۔

 مدیر: ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک

 نظرَثانی: ڈاکٹر مراد موسیٰ خان ایم آر سی سائیک

Last modified on دوشنبه, 19 خرداد 1393 11:20
Login to post comments