×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ناک، ہونٹوں اور زبان میں سوراخ

مهر 26, 1392 599

Piercing) انگریزی زبان کا لفظ ہے جو ایسے کاموں کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے ۔ گذشتہ ادوار میں دنیا کے بیشتر ممالک میں کان میں سوراخ  کرنے کا

 عمل بہت  عام  دیکھنے میں آیا اور یہ دنیا میں  سب سے زیادہ پائی جانے والی (Piercing) کی قسم ہے ۔ آج کل دنیا کے بہت سے ممالک میں (Piercing) کا عمل جسم کے مختلف حصوں پر انجام دیا جاتا ہے ۔  زیادہ تر افراد جو یہ کام کرواتے ہیں ان کا بنیادی مقصد اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہوتا ہے ۔  اس طرح سے  یہ افراد اس عمل کے جانبی عوارض سے لاعلم اور غافل رہتے ہیں ۔ ایسے افراد بیشتر اوقات ایسے مراکز میں چلے جاتے ہیں جہاں پر سوراخ کرنے کے لیۓ جراثیموں سے پاک آلات جراحی دستیاب نہیں ہوتے یا پھر ایسے افراد سے علاج یا  سرجری کروانا شروع کر دیتے ہیں جو خود ان پڑھ اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں ۔

کان کے نرم حصے میں سوراخ کرنے کے عمل کے دوران یا بعد میں کوئی خاص پیچیدگی  یا عوارض کا سامنا نہیں کرنا پڑتا مگر پھر بھی بہتر یہی ہے کہ  الرجی اور انفکشن کے اثرات سے محتاط رہا جاۓ ۔

 ایک ماہر ڈاکٹر  نے ہم سے بات کرتے ہوۓ بتایا کہ (Piercing) کے عمل کے بعد الرجی بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے اور سوراخ کرنے کے بعد جب دھاتی اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے تو بہت سے افراد کے لیۓ یہ خطرے کا باعث بن جاتے ہیں ۔  جو خواتین عام طور پر گھڑی پہننے یا انگوٹھی   پہننے کے بعد خارش زدہ  ہو جاتی ہیں یا جسم کے حصے سرخ ہو جاتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ اس طرح کے سوراخوں سے پرہیز کریں اور اگر ان کو اس چیز کا شوق ہو تو کوشش کریں کہ ان سوراخوں میں صرف سونے سے بنی ہوئی اشیاء استعمال کریں کیونکہ سونا پہننے سے الرجی کا امکان بہت کم ہوتا ہے اور یہ دھات قدرے محفوظ تصوّر کی جاتی ہے ۔

 بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ الرجی کے اثرات اس جگہ پر نہ ہوں جہاں پر آپ نے کوئی دھاتی چیز پہن رکھی ہو بلکہ جسم کے دوسرے حصوں پر واضح ہونا شروع ہو جائیں ۔ اس لیۓ ان سب باتوں سے آگاہ ہونا آپ کے لیۓ بےحد ضروری ہے ۔

 

Last modified on چهارشنبه, 14 خرداد 1393 13:22
Login to post comments