×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سردیوں میں آنکھوں کی خشکی

مهر 26, 1392 909

موسم سرما اور موسم خزاں   کی خشک اور سرد ہوا نہ صرف جلد کے خشک ہونے کا سبب بنتی ہے بلکہ بعض افراد  کی آنکھیں  بھی اس موسم 

میں خشکی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔آنکھوں سے بہنے والے پانی یا آنسو کا اصل کام آنکھ کو تر رکھنا ، لگاتار آنکھوں کی صفائی  کے علاوہ آکسیجن اور غذائی مواد کی ترسیل ہوتا ہے ۔

انسانی آنکھ کی شکل ایک گول کروی جسم کی ہوتی ہے جو کہ کاسہ سر یا کھوپڑی میں سامنے کی جانب استخوانی یا ہڈی سے بنے ہوۓ حلقہ چشم میں رکھی ہوتی ہے۔ اسکی ساخت کی مشابہت ایک ایسی گیند سے کی جاسکتی ہے کہ جسکی دیوار تین تہہ سے بنی ہو.

 ٭ صلبہ (sclera) یہ سب سے بیرونی پرت ہوتی ہے

 ٭ مشیمیہ (choroid) یہ درمیانی پرت یا تہـ ہوتی ہے

 ٭ شبکیہ (retina) یہ آنکھـ کی دیوار کی سب سے اندرونی تہ ہوتی ہے

 ہر بار  آنکھ  جھپکنے  کے دوران اضافی آنسو داخلی کنارے پر موجود دو سراخوں سے ناک میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ روتے وقت انسان کی ناک سے بھی پانی بہتا ہے ۔ 

 سردیوں میں کمروں کو گرم کرنے کے لیے گرم ہوا دینے والے پنکھے یا ہیٹر  استعمال کیۓ جاتے ہیں جو جسم پر خشکی لانے کا سبب بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر کافی مقدار میں پانی کا استعمال نہ کیا جاۓ تو  جسم  اور زیادہ جلدی خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ آنکھوں کے خشک  ہونے کے بعد ان میں خارش ، سوزش اور سرخی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے  ۔ اس حالت کو آسانی کے ساتھ قابو کیا جا سکتا ہے ۔

 محققین کا کہنا  ہے کہ ایسے افراد کو زیاد دیر تک ٹھنڈی ہوا اور سرد ماحول میں رہنے سے پرہیز کرنا چاہیۓ ۔ ایسے افراد کے لیۓ  کھانے پینے میں مچھلی ، زیادہ مقدار میں پانی اور شربت کا استعمال انہیں آنکھوں اور  جسم کی خشکی سے محفوظ رکھتا ہے ۔

 بعض افراد کو دھویں  سے الرجی ہوتی ہے  اس لیۓ  سگریٹ  کے دھویں سے ایسے افراد کو پرہیز کرنا چاہیۓ ۔

 

Last modified on سه شنبه, 13 خرداد 1393 10:47
Login to post comments