×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

والدین کے باہمی تعلقات بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں

مهر 27, 1392 538

محققین کے مطابق اگر والدین کے باہمی تعلقات اچھے نہ ہوں تو اس کا اثران کے گھٹنوں کے بل چلنے والے بچوں پر بھی پڑتا ہے ۔ ایسے والدین کے بچے

نیند میں بےسکونی کا شکار رہتے ہیں ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان بچوں کی  نیند میں تسلسل  برقرار نہیں رہ پاتا اور آگے چل کر  یہ مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

 ’چائلڈ ڈیولپمینٹ‘ نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں امریکہ میں مقیم تین سو ستاون گود لیے گئے بچوں اور ان کے خاندانوں پر تحقیق کی گئی ہے۔

 اس تحقیق میں والدین کے ساتھ تب گفتگو کی گئی جب ان کے بچے نو ماہ اور پھر اٹھارہ ماہ کے تھے۔ ان سے اس طرح کے سوالات پوچھے گئے جس سے ان کے آپس کے رشتے اور کام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ان کے بچے کو نیند آنے اور پھر سوتے رہنے میں مشکلات پیش آتی ہیں یا نہیں۔

 محققین کے مطابق نو ماہ کی عمر پر والدین کے رشتے کا اثر بچے کی نیند پر اٹھارہ ماہ کی عمر میں سامنے آتا ہے۔ تحقیق کے مطابق شادی شدہ زندگی میں مسائل سے بچوں کی نیند پر منفی اثر پڑتا ہے۔

 یونیورسٹی آف لیسٹر کے پروفیسر گارڈن ہیرولڈ کا کہنا ہے کہ :

 ’بچپن میں اچھی اور باقاعدہ نیند دماغی اور جسمانی نشونما کے لیے اشد ضروری ہے۔ ٹوٹی نیند کا براہ راست اثر ذہن پر پڑ سکتا ہے جس سے آگے چل کر بچوں کے رویے کے علاوہ کئی سماجی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

 جن بچوں پر تحقیق کی گئی انہیں پیدا ہوتے ہی گود لیا گیا تھا۔ پروفیسر ہیرلڈ کا کہنا ہے کہ ’جینیاتی عناصر کا اثر کسی حد تک تو ہوتا ہے مگر اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماں باپ کے رشتہ کا اثر بچوں پر ہر حال میں ہوتا ہے۔‘

 سکاٹ لینڈ کے ’لارن اینڈ آئیلینڈس‘ ہسپتال کے بچوں کے ڈاکٹر جیمی ہوسٹن کا کہنا ہے کہ ’ماں باپ کو خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اب یہ بات بار بار سامنے آ رہی ہے کہ زندگی کے پہلے کچھ سالوں کا اثر باقی زندگی پر پڑتا ہے۔

Last modified on دوشنبه, 05 خرداد 1393 12:11
Login to post comments