×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کمر درد کی وجوھات سے آگاہی ضروری ہے

مهر 27, 1392 1546

انسان کی روز مرہ کی جسمانی  مشکلات میں آج کل ایک بڑا مسئلہ کمر درد بنتا جا رہا ہے ۔تقریبا تین چوتھائی لوگ اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے

میں کمر درد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔  دور حاضر کی مشینی زندگی اور انسان کی کم تحرکی کمر درد میں مبتلا  ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔

کمر درد ممکن ہے کہ تھوڑی مدت کے لیۓ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مسلسل اس مسئلے کا شکار بن رہا ہو ۔ کم مدتی کمر درد کا دورانیہ 4 سے 6 ھفتوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ طولانی مدت کی کمر درد اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیۓ رہتی ہے ۔ بعض افراد تمام عمر کے لیۓ بھی اس مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں ۔

 کمر درد کے فیزیولوجی لحاظ سے عوامل

 کمر درد کے کامیاب علاج اور حل کے لیۓ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کو کمر درد ہونے کی اصل وجہ کا پتہ ہو ۔ عام دوائیوں کے استعمال سے ہم عارضی طور پر درد سے تو چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہوتا ۔ اصل مسئلہ تو اپنی جگہ موجود ہوتا ہے مگر دوائی اور کیمیکل کے اثرات کی وجہ سے ہم درد کو محسوس نہیں کر رہے ہوتے ہیں ۔

 کمر درد کے مریض جب اپنی اس شکایت کے ساتھ کسی بھی قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو زیادہ تر ڈاکٹر ایسی دوائیوں کا استعمال کرواتے ہیں جو درد کو کم کرکے مریض کو عارضی سکون دیتی ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں فیزیوتھراپی  کے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مریض عام ڈاکٹروں سے  درد کی  دوائیں لے کر اپنا وقت گزارتا رہتا ہے ۔

 کمر درد کے وجود میں آنے کی متعدد  وجوھات ہو سکتی ہیں ۔ ریڑھ کی ہڈی پر جسم کی دوسری ہڈیوں اور ڈھانچے کا دارومدار ہوتا ہے۔ حقیقتاً یہ ایک ہڈی نہیں ہوتی بلکہ ہڈیوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جس کی لمبائی جوان آدمی میں قریباً 27 انچ ہوتی ہے اور یہ سلسلہ 33 بے قاعدہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو ریڑھ کے مہرے کہلاتے ہیں ان مہروں کے تین حصے ہوتے ہیں۔ پہلا جسم، دوسرا دو افقی شاخیں اور تیسرا ریڑھ کی شاخ ریڑھ کی ہڈی کا اصلہ حصہ 34 مختلف ہڈیوں سے مل کر بنا ہوتا ہے جو ایک دوسری سے اس طرح بندی ہیں کہ ان میں لچک پائی جاتی ہے اور ہم اپنی کمر کو آگے پیچھے، جدھر چاہیں موڑ سکتے ہیں ۔  اچھلنے کودنے ، دوڑنے اور کروٹ لینے میں بھی سہولت رہتی ہے ۔  اس ہڈی کے سلسلہ میں چار خم ہیں جن کے باعث کمر پر بوجھ اٹھانے میں آسانی رہتی ہے ۔ کوئی جھٹکا لگے تو اس کا اثر دماغ تک نہیں پہنچتا ۔ سینے اور پیٹ کے جوف کی وسعت زیادہ ہوجاتی ہے۔ ہر دو مھروں کے درمیان میں ڈسک موجود ہوتی ہے جس کا کام ریڑھ کی ہڈی میں ایک طرح سے لچک فراہم کرتے ہوۓ مختلف طرح کی ضربات کے اثرات کو زائل کرنا ہوتا ہے ۔  

 ریڑھ کی ہڈی کے عقب میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس میں سے حرام مغر عبور کرتا ہے  جس سے جسم کے مخلف حصوں کو اعصاب کی ترسیل ہوتی ہے ۔

 کمر کے ارد گرد پٹھوں ، لیگامنٹ اور ٹنڈان کا ایک جامع نظام ہوتا ہے جو ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہوۓ ریڑھ کی ہڈی کو مضبوطی فراھم کرتے ہیں ۔ یہاں پر خون کی نالیوں سے خوراک کی ترسیل ہوتی ہے ۔

  مندرجہ بالا حصوں میں سے اگر کسی میں بھی خرابی پیدا ہو جاۓ تو وہ کمر درد کا باعث بن سکتی ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود نرم حصوں میں کوئی کھچاؤ آ سکتا ہے ، چوٹ لگ سکتی ہے  لیکن اگر ہڈی ، عصب یا خون کی نالی اس حصے میں متاثر ہو جاۓ تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے ۔ اسی طرح ڈسک  کے بیرونی حصے میں خرابی کے باعث ڈسک کا داخلی مواد ایک طرف کو پریشر دے سکتا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی قریبی عصب پر دباؤ پڑنے سے درد اور مختلف طرح کی اعصابی علامتیں ظاہر ہونا شروع  ہو جاتی ہیں ۔

Last modified on دوشنبه, 05 خرداد 1393 12:06
Login to post comments