×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کھڑے ہو کر کام کرنا اور اچھی صحت

آذر 26, 1393 297

انسانی جسم ایک مشین کی مانند ہوتا ہے اور اس مشین کو آپ جتنا استعمال میں رکھیں گے یہ اتنا ہی فعال  رہے گی ۔ اگر اس مشین سے کام

لینا چھوڑ دیں یا کم کام لیں تب اس میں مختلف طرح کے نقائص سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ آج کے جدید دور میں جب نت نئی سائنسی ایجادات نے  انسانی زندگی میں بہت آسائشیں لا دی ہیں وہیں کم مشقت کی وجہ سے ہمارا جسم مختلف طرح کی مشکلات کا شکار ہو رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دن میں زیادہ وقت بیٹھے رہنے کے مقابلے میں کھڑے رہنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔
کیا آپ نے کبھی اندازہ لگایا ہے کہ آپ دن میں کتنے گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں؟ آٹھ سے کم یا دس سے زیادہ؟
ایک سروے کے مطابق ہم دن میں تقریباً بارہ گھنٹے کمپیوٹر یا ٹی وی کے آگے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ اگر اس میں نیند کے سات گھنٹے بھی شامل کر لیں تو اس کا مطلب ہوا کہ ہم انیس گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں۔ اتنے زیادہ گھنٹے بیٹھے رہنا ہمارے لیے اچھا نہیں ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو افراد پورا دن بیٹھے رہتے ہیں ان کی زندگی ان افراد سے دو سال کم ہوتی ہے جو نسبتاً زیادہ چست ہوتے ہیں۔
ہم میں سے کئی زیادہ تر بیٹھے رہنے کے قصوروار ہیں۔ کام پر، گاڑی میں، گھر پر اور بس اسی وقت اٹھتے ہیں جب ایک سیٹ سے اٹھ کر دوسری سیٹ پر جانا ہو۔ کھڑے ہو کر کام کرنا عجیب تو لگتا ہے لیکن یہ ایک پرانی روایت ہے۔ آج کل کی ٹیکنالوجی نے ہمیں تاریخ میں سب سے زیادہ بیٹھے رہنے والے انسان بنا دیا ہے۔ تو آخر بیٹھے رہنا کس طرح اتنا نقصان دے ہے؟ بیٹھے رہنا اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہمارا جسم شوگر سے کس طرح نمٹتا ہے۔ جب ہم کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اس خوارک کو توڑ کر گلو کوز میں تبدیل کر دیتا ہے جو خون کے ذریعے دوسرے خلیوں تک پہنچتا ہے۔
گلو کوز اہم ہے اور ہمارے لیے ایندھن مہیا کرتا ہے لیکن اس کی سطح میں اضافے سے ذیابطیس اور دل کی بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے۔ لبلبہ ایسی انسولین پیدا کرتا ہے جس سے گلو کوز کی مقدار کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں مدد ملتی ہے لیکن اس عمل کے مؤثر ہونے کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ جسمانی طور پر کتنے چست ہیں۔
دس لوگوں کے ایک ایسے گروہ کو اس تجربے میں شامل کیا گیا جو اپنے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں اور ان سے کہا گیا کہ وہ کچھ گھنٹے کھڑِے ہو کر گزاریں۔
ہمارے معاشرے میں جو لوگ محنت مشقت کرتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔ مشقت کرنے والے افراد دل کی بیماریوں میں بھی مبتلا نہیں ہوتے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ ایک محنت کش کسی ایسی فیکٹری میں کام کرتا ہو جہاں پر کیمیائی مادے کی وجہ سے اس کی صحت خراب ہو مگر یہ ایک الگ بات ہے ۔ ایک محنت کرنے والے فرد کو اگر صاف ستھرا ماحول میسر ہو تب وہ آرام طلب زندگی گزارنے والے فرد سے صحت مند اور جسمانی طور پر مضبوط رہتا ہے ۔
پانچ دن تک روزانہ تین گھنٹے کھڑے رہنا ایک سال میں دس میراتھنز میں حصہ لینے کے مترادف؟
یونیورسٹی آف جیسٹر کے ڈاکر جان بکلے اور تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے ایک عام سا تجربہ کیا۔ پراپرٹی کا کام کرنے والے دس افراد کو ایک ہفتے تک دن میں تین گھنٹے کھڑے ہو کر کام کرنے کو کہا گیا۔ اس تجربے کے دوران ان کی حرکت، دل کی دھڑکن اور گلو کوز کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا گیا۔
اس بات کے شواہد کم از کم سنہ انیس سو پچاس سے موجود ہیں کہ کھڑے ہونا بیٹھنے سے بہتر ہے۔ اس وقت ایک ایسی تحقیق کی گئی تھی جس میں بس کے کنڈیکٹر (جو کھڑے رہتے ہیں) اور ڈرائیور (جو بیٹھے رہتے ہیں) کا موازنہ کیا گیا تھا۔ اس تحقیق سے پتہ چلا کہ بس ڈرائیوروں کے مقابلے میں کنڈکٹروں میں دل کی بیماری ہونے کا خطرہ آدھا تھا۔
برطانیہ میں اس قسم کی تحقیق پہلی مرتبہ کی گئی لیکن تحقیق کاروں کو ایک فکر یہ تھی کہ کیا اس تجربے میں شامل افراد ایک ہفتے تک ایسا کر سکیں گے؟
انہوں نے ایسا کیا یہاں تک کہ جوڑوں میں سوجن کی ایک مریض نے کھڑے رہنے سے اپنی صحت میں بہتری محسوس کی۔
کن باتوں سے فرق پڑتا ہے ؟
چھوٹی موٹی حرکت جیسے فون پر بات کرتے ہوئے کھڑے ہونا، کام پر کسی کو ای میل بھیجنے کے بجائے ان کے پاس جا کر بات کرنا یا سیڑھیوں کا استعمال بھی بہت مؤثر ہو سکتا ہے ۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد بیٹھنے کے بجائے کھڑے رہنے سے خون میں گلو کوز کی مقدار جلد معمول پر آ گئی۔
دل کی دھڑکن کو مانیٹر کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ کھڑے رہنے سےان کی کیلوریز کی مقدار میں تیزی سے کمی ہو رہی تھی۔
ڈاکٹر جان بکلے کے مطابق ’اگر ہم ان کے دل کی دھڑکن کو دیکھیں تو وہ معمول سے تیز ہے۔ اوسطاً ہر منٹ میں معمول سے دس دھڑکنیں زیادہ اور اس سے فی منٹ 0.7 کیلوری کا فرق پڑتا ہے۔
یہ زیادہ نہیں لیکن مجموعی طور پر اس سے فی گھنٹہ پچاس کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ اگر آپ پانچ دن تک روزانہ تین گھنٹے کھڑے رہیں تو اس کا مطلب ہے 750 کیلوریز کی کمی۔ اس حساب سے ایک سال میں تیس ہزار کیلوریز۔
ہم سب کام پر کھڑے نہیں رہ سکتے لیکن تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ چھوٹی موٹی حرکت جیسے فون پر بات کرتے ہوئے کھڑے ہونا، کام پر کسی کو ای میل بھیجنے کے بجائے ان کے پاس جا کر بات کرنا یا سیڑھیوں کا استعمال بھی بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ  میں جب کوئی چیز لینے جائیں تو کوشش کریں کہ اپنی گاڑی مارکیٹ سے ذرا فاصلے پر کھڑی کریں تاکہ آپ کو چل کر مارکیٹ تک جانا پڑے ۔ دفتر میں کام کرتے وقت اپنے کسی ساتھی سے کام ہو تو کوشش کریں کہ خود چل کر اس کے پاس جائیں تاکہ آپ کا جسم حرکت میں رہے ۔

Login to post comments