×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ہاتھ کی اعصابی بیماری

آذر 26, 1393 355

ہمارا انسانی جسم بھی ایک مشین کی مانند ہوتا ہے ۔ اگر ہم اپنے روز مرّہ کام کاج کی انجام دہی کے دوران ضرورت سے زیادہ اپنے جسم کو

استعمال کرتے ہیں ، مناسب غذا استعمال نہیں کرتے ہیں ، جسمانی اعضاء کی حفاظت نہیں کرتے ہیں یا کسی بھی کام کو کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ہمارے جسم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بہت بڑھ جاتا ہے ۔
بہت سارے پیشے ایسے ہوتے ہیں جن میں ہم ہاتھ کا استعمال ضرورت سے زیادہ کرتے ہیں اور ایک تسلسل سے کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر درزی ، کسان ، ترکھان ، رنگ کرنے والے افراد ، مصوّر یا بہت سارے ہنرپیشہ افراد ہاتھ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے ۔ ماؤس کا استعمال کرتے ہوئے اور ٹائپنگ کرنے کی وجہ سے ہاتھ کو ایک پیچیدہ قسم کی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے جسے ہم میڈیکل کی اصلاح میں Carpal Tunnel Syndrome کہتے ہیں ۔
Carpal  درحقیقت لفظ Carpus  سے نکلا ہے جس کے معنی کلائی کے ہیں اور یہ اصل میں ایک یونانی لفظ karpos  سے لیا گیا ہے ۔ carpus  آٹھ چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کے مجموعے کو کہتے ہیں جو کلائی اور ہاتھ کے درمیان ہوتی ہیں ۔ Tunnel  کسی تنگ راستے کو کہا جاتا ہے اور یہاں پر جو تنگ راستہ بنتا ہے اس میں سے 9 ٹنڈون اور ایک عصب گزرتی ہے ۔ اس حصّے کو اوپر سے ایک لیگامنٹ نے گھیرا ہوتا ہے ۔ کسی بھی وجہ سے جب اس حصّےپر دباؤ پڑتا ہے تو اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ہمارے جسم میں ہڈیوں ، پٹھوں اور اعصاب کا ایک مرتب اور منظم قسم کا نظام موجود ہے ۔ دماغ ہمارے اعصابی نظام کا مرکز ہوتا ہے جبکہ یہاں سے اعصاب کے ذریعے سے پورے جسم کو قابو کیا جاتا ہے ۔ اس تنگ راستے سے جو عصب گزرتی ہے اسے میڈین کہا جاتا ہے اور یہ عصب ہاتھ کی چھوٹی انگلی اور آدھی انگھوٹی والی انگلی کو چھوڑ کر باقی ہاتھ کو عصب رسانی کرتی ہے ۔
 عام طور پر اس کی علامات بتدریج ظاہر ہوتی ہیں ۔ہاتھ کے جس حصے کو اس عصب کی ترسیل ہوتی ہے وہ حصہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے ، درد کا احساس ہوتا ہے ، بےحسی سی محسوس ہوتی ہے یا اس حصے میں ایک عجیب سی سرسراہٹ ہوتی ہے ۔
* اکثر اوقات رات کے وقت نیند کے دوران شدید درد کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے بیشتر اوقات متعلقہ شخص بیدار بھی ہو جاتا ہے اور مریض جب ہاتھ کو ہلاتا ہے تو اسے قدرے درد سے نجات ملتی ہے ۔ جب یہ مرض ذرا شدّت اختیار کر جاتا ہے تو یہی درد دن کے وقت بھی محسوس ہوتا ہے ۔
* مریض مکا یا مٹھی بنانے سے قاصر ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور یوں اسے روز مرّہ کے کام کاج کی انجام دہی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مثلا ڈرائیونگ ، ٹائپنگ اور حتی کسی کپ کو اٹھانے میں بھی دشواری ہوتی ہے ۔
*  اگر مرض کو بروقت قابو نہ کیا جائے یا حفاظتی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو  انگوٹھے کے نیچے والے پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں اور بعض افراد کی قوّت حس بھی متاثر ہوتی ہے جس کے بعد وہ ٹھنڈی اور گرم چیز کو تشخیص دینے سے قاصر ہوتے ہیں ۔
بیماری کی وجوہات :
اس بیماری میں زیادہ تر مسئلہ خود اس میڈین عصب کے اندر نہیں ہوتا ہے بلکہ کسی دوسری وجہ سے اس عصب پر دباؤ پڑتا ہے جس کے بعد اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر
* بعض افراد میں پیدائشی طور پر یہ  tunnel   تنگ ہوتا ہے اور کسی ذرا سی بھی ثانوی وجہ سے اس پر دباؤ پڑنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے ۔
*  بعض اوقات کلائی پر چوٹ لگنے کے باعث سوزش ہوتی ہے اور اس سوزش کے نتیجے میں اس عصب پر دباؤ پڑتا ہے ۔
* بعض ہارمونز کی زیادتی یا حد سے زیادہ فعالیت کی وجہ سے بھی اس پر دباؤ پڑنا شروع ہو جاتا ہے ۔
*  خاص طرح کی بیماریوں میں ثانوی طور پر یہ مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ مثال کے طور پر آرتھرائٹس یا ذیابطیس کے مریضوں میں یہ چیز اکثر دیکھنے کو ملتی ہے ۔
*  بعض متواتر اور لگاتار حرکات کے نتیجے میں یہاں پر دباؤ پڑنا شروع ہو جاتا ہے ۔
* خواتین میں سن یائستگی کے بعد یا حاملگی کے دوران مائعات کا توازن بگڑنے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ پیش آتا ہے ۔
* موٹے افراد زیادہ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں ۔
* سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں میڈین عصب تک خون کی رسائی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث یہ مسئلہ سامنے آتا ہے ۔
* معمولا چالیس سال سے زائد عمر کے افراد میں بھی اس مسئلہ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔
* ہاتھ کے اس حصے میں کسی پھنسی یا ٹیومر کے نتیجے میں بھی شکایت سامنے آتی ہے ۔
اس بیماری کی تشخیص کے لئے بہتر ہے کہ مریض کسی قریبی فیزیوتھراپسٹ ، آرتھوپیڈک سرجن یا نیوروسرجن سے رجوع کرے ۔ معاشرے کے ایک عام فرد کے لئے ہم چند طریقوں کا ذکر کر دیتے ہیں جس کو انجام دے کر بیماری کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
* Phalen  Maneuver  ایک ٹسٹ کا نام ہے جس میں ہاتھ کو ایک منٹ تک ایک خاص حالت میں رکھا جاتا ہے ۔ اگر اس دوران ہاتھ کے اس حصے میں جہاں اس عصب کی ترسیل ہوتی ہے ، علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو بیماری پر شک کیا جاتا ہے اور اس صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہئے ۔
کارپل ٹونل کی تشخیص
* Tinnel Sign   ایک دوسرا طریقہ ہے جس میں عصب کے راستے پر ہلکی ضربیں لگائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں بھی اس بیماری کی علامات شدّت اختیار کر جاتی ہیں ۔
کارپل ٹونل کی تشخیص
* الیکڑومائیو گرافی ، بھی تشخیص کے ایک بہتر طریقہ ہے جس میں متعلقہ عصب کی رفتار کے لحاظ سے کارکردگی کو جانچ لیا جاتا ہے اور یوں آسانی کے ساتھ اس عصب میں کسی بھی مسئلے کی تشخیص ممکن ہوتی ہے ۔
* کسی دوسری بیماری یا مسئلے کا پتہ لگانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے متعلقہ مریض کے خون کا لیباریٹری ٹیسٹ کیا جائے ۔
 بیماری کا علاج :
بیماری کے علاج کے لئے بہتر ہوتا ہے کہ پہلے بیماری کی اصل وجہ کا پتہ لگایا جائے ۔ مثال کے طور پر اگر اس حصّے پر کسی وجہ سے دباؤ پڑ رہا ہے تو اس دباؤ کو ہٹانے کی کوشش کریں ۔
اگر کسی خاص بیماری کی وجہ سے ثانوی طور پر یہ مسئلہ سامنے آ رہا ہے تو اس خاص بیماری کا علاج کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی روز مرّہ کی زندگی میں تبدیلیاں لائیں اور کسی قریبی فیزیوتھراپسٹ سے اس کے بارے میں بہتر جانکاری حاصل کریں ۔
* اگر کسی خاص طرح کی چیز کے استعمال سے ہاتھ کے اس حصے پر دباؤ پڑ رہا ہے تو اس کا استعمال کم کر دیں ۔
* ٹائپنگ کے دوران طبی معیار کے مطابق ماؤس پیڈ کا استعمال کریں اور میز اور کرسی کی اونچائی کا خیال رکھیں تاکہ ٹائپنگ کے دوران ہاتھ پر زیادہ دباؤ نہ پڑے ۔
* حاملہ خواتین میں اس بیماری کی علامات وقتی طور پر ظاہر ہوتی ہیں اور اس میں کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین میں جب مائعات کا توازن ٹھیک ہو جاتا ہے تو یہ بیماری خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے ۔
* بیماری کے علاج کے طور پر شروع میں درد سے نجات کے لئے دوائیوں کا استعمال کریں ۔ معالج بعض اوقات cortisone  کے انجکشن کا استعمال کرتا ہے اور اگر پھر بھی مرض کنٹرول نہ ہو تو آخری حل کے طور پر اس حصے کی سرجری کی جاتی ہے اور اس حصّے پر پڑنے والے زائد دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

Login to post comments