×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ویکسین ہوتی کیا ہے ؟

آذر 26, 1393 296

لفظ ویکسین لاطینی زبان کا لفظ ہے جو vacca  سے نکلا ہے اور لاطینی زبان میں vacca  گائے کو کہا جاتا ہے ۔ ویکسین کے لفظ کو دنیا میں سب

سے پہلے ایک برطانوی سائنسدان بنام ایڈورڈ جنر نے استعمال کیا ۔ اس دور میں چیچک کی طرح کی ایک بیماری cow pox  ہوا کرتی تھی اور اکثر اوقات گوالے اس بیماری کا شکار ہوا کرتے تھے ۔ جب small pox یعنی چیچک کی بیماری سامنے آئی تو اس سائنسدان نے یہ مشاہدہ کیا کہ جو لوگ cow pox  کا پہلے شکار ہو چکے ہیں ان کو چیچک کا مرض لاحق نہیں ہو رہا ہے ۔ یہی نقطہ اس کی تحقیق کی بنیاد بنا اور اس نظریے کی بنیاد پر اس نے اپنی تحقیق کا آغاز کیا ۔ اس نے تجرباتی بنیادوں پر ایک بچے کو cow pox  کے ہلکے جراثیموں سے متاثر کیا جس سے وہ بچہ ہلکا سا بیمار ہوا لیکن جب بچہ تندرست ہوا تو اس نے اسی بچے کو چیچک کے جراثیموں سے متاثر کیا اور اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ چیچک کے جراثیم بچے کو بیمار نہیں کر سکے ہیں ۔
ویکسین میں یہ کیا جاتا ہے کہ کسی بھی بیماری کے ہلکے اور کمزور جراثیم انسانی جسم میں داخل کئے جاتے ہیں ۔ جسم میں ہر بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے مدافعاتی نظام ہوتا ہے ۔ جیسے ہی یہ جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے جواب میں اینٹی باڈیز بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور یہ اینٹی باڈیز باہر سے جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کو ختم کر دیتے ہیں ۔ یوں جسم کا دفاعی نظام اس خاص جراثیم سے آشنا ہو جاتا ہے اور جب کبھی دوبارہ اس طرح کے طاقت ور جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں تو ویکسین کی وجہ سے پہلے سے موجود اینٹی باڈیز اس طاقتور جراثیم کو آسانی کے ساتھ ختم کر دیتے ہیں اور یوں انسانی جسم بہت سارے خطرناک امراض سے محفوظ رہتا ہے ۔
ویکسین کو لیباریٹری میں اسی بیماری کے کمزور یا مردہ جراثیموں سے تیار کیا جاتا ہے جس بیماری کے خلاف ویکسین کو تیار کرنا ہوتا ہے ۔
* ویکسین کا استعمال کن مواقع پر یا کن جگہوں پر کیا جاتا ہے ؟
ویکسین کا استعمال دو طرح کا ہے ۔
1۔ محافظت کے طور پر
حفاظت کے طور پر اس کو بیماری لگنے سے پہلے استعمال کیا جاتا ہے اور جسم کو اس بیماری کے خلاف پہلے ہی آگاہ اور تیار کر دیا جاتا ہے اور جیسے ہی مستقبل میں کوئی ایسا جراثیم یعنی اس بیماری کا جراثیم جسم میں داخل ہوتا ہے تو جسم آسانی سے اس جرثومے کو قابو کر لیتا ہے ۔
2۔ معالجے کے طور پر
علاج کی غرض سے اس وقت ویکسین کو استعمال کیا جاتا ہے جب انسانی جسم کسی خاص بیماری کا شکار ہو چکا ہوتا ہے اور اس بیماری کو قابو کرنے کے لئے بعد میں دوائی یا علاج کے طور پر ویکسین کا استعمال کروایا جاتا ہے ۔
ویکسین کو اس کی تیاری کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
1۔ کمزور مگر زندہ جراثیموں سے تیار ہونے والی ویکسین
2۔ مردہ جراثیموں سے تیار ہونے والی ویکسین
3۔ غیر متحرک زہر سے تیار ہونے والی ویکسین
4۔  جرثومے کے خاص حصّے کو زیر استعمال لا کر تیار ہونے والی ویکسین
1۔  ویکسین کو محفوظ ہونا چاہئے یعنی ایسا نہیں ہو کہ اس کو استعمال کرنے سے متعلقہ شخص میں کوئی بیماری وجود میں آئے ۔
2۔ ویکسین کی قابل اعتماد کارکردگی یعنی اس ویکسین میں بیماری کو روکنے کی صلاحیّت موجود ہو ۔
3۔ کم قیمت ہو یعنی اس کی قیمت اس حد تک ہونی چاہئے کہ معاشرے کا ایک عام فرد اسے آسانی سے خریدنے کی طاقت رکھتا ہو ۔
* کن بیماریوں کے خلاف ویکسین دریافت ہو چکی ہے ؟
اب تک تقریباً 25 بیماریاں ایسی ہیں جن کی ویکسین دریافت ہو چکی ہے مثال کے طور پر چیچک ، پولیو، ٹی بی ، یرقان ، فلو وغیرہ وغیرہ ۔
* بعض بیماریوں کے خلاف ویکسین کی تیاری میں کامیابی نہیں ہو رہی ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہوتی ہے جن بیماریوں کے خلاف ویکسین تیار نہیں ہو پا رہی ہے ان کے جراثیم ایک خاص مدّت کے بعد اپنی شکل تبدیل کر لیتے ہیں یعنی بنیادی وراثتی اکائی میں تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔ ان بیماریوں میں ڈینگی ، ملیریا اور ایڈز سب سے اہم بیماریاں ہیں ۔
* قوّت مدافعت کے لحاظ سے کون سی ویکسین اچھی ہے ؟
اگر قوّت مدافعت کے لحاظ سے ویکسین کا جائزہ لیا جائے تو کمزور اور زندہ جراثیموں سے تیار ہونے والی ویکسین بہتر ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بڑے پمانے پر قوّت مدافعت ہوتی ہے اور تھوڑی مقدار میں طولانی مدّت کے لئے جسم میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے ۔
اس طرح کی ویکسین کے دوسرے فوائد یہ بھی ہوتے ہیں کہ یہ کم قیمت ہوتی ہے اور مدافعاتی نظام کو تقویت بخشتی ہے ۔
 * کونسی بیماریاں ایسی ہیں جن کو ویکسین کی ایجاد کے بعد کنٹرول کر لیا گیا ہے :
ان بیماریوں میں چیچک ، پولیو ،خسرہ ، کالی کھانسی ، یرقان  وغیرہ وغیرہ ایسی بیماریاں ہیں جو ماضی میں بہت جان لیوا ہوا کرتی تھیں مگر موجودہ دور میں ان کا آسانی سے علاج کر لیا جاتا ہے ۔

Login to post comments