×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیاٹیکا کی بیماری

آذر 26, 1393 1016

تندرستی ہزار نعمت ہے اور اس نعمت سے مستفید ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم خود بھی اپنی صحت کا خیال رکھیں اور اپنے انسانی اعضاء

کا استعمال کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔ کسی بھی چیز کی زیادتی بری ہوتی ہے اور ہمارے انسانی جسم کا بھی وہی حصّہ زیادہ متاثر ہوتا ہے جس کا ہم استعمال زیادہ کرتے ہیں یا استعمال کرتے ہوئے بنیادی حفاظتی نکات کا خیال نہیں رکھتے ہیں ۔
ہمارا انسانی جسم مختلف طرح کی ہڈیوں ، پٹھوں ، اعصاب ، شریانوں اور وریدوں کا ایک بڑا منظم اور مرتب قسم کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ صبح سے شام تک ہم حرکت میں رہتے ہیں اور اس حرکت کے نتیجے میں ہمارے جسم کو مختلف طرح کے مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔ اس میں ہمارا اعصابی نظام متاثر ہو سکتا ہے ، پٹھے متاثر ہو سکتے ہیں یا ہڈیوں کو چوٹ لگ سکتی ہے جس کے نتیجے میں ہمیں درد کا احساس ہوتا ہے ۔ بعض پیشے بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں انسانی جسم کے بعض حصّوں کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ڈرائیور حضرات اکثر اوقات کمر کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔ جو لوگ لگاتار کرسی پر بیٹھے رہتے ہیں ان میں کمر کا حصّہ متاثر ہوتا ہے ۔ جو لوگ وزن اٹھانے کا کام کرتے ہیں یا ایسے کام جن میں گھومنے والی جسمانی حرکات زیادہ ہوتی ہیں وہ لوگ کمر کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔
شیاٹیک انسانی جسم کی سب سے موٹی عصب ہے جو کمر کے نچلے حصّے سے نکلنے والی پانچ اعصابی جڑوں کا ایک مجموعہ ہے اور ٹانگ کے پچھلے حصّے کو اس کی ترسیل ہوتی ہے ۔ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ عصب مسائل کا شکار ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی علامات واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اس عصب کے درد کو شیاٹیکا کہتے ہیں ۔ یہ بیماری اس دور کا ایک اہم طبی مسئلہ ہے جو تقریبا ہمارے معاشرے کے چالیس فیصد افراد کو عمر کے کسی نہ کسی حصّے میں متاثر کر رہا ہوتا ہے ۔
یوں تو شیاٹیکا کوئی جان لیوا بیماری نہیں ہے مگر درد کی وجہ سے انسانی جسم پر اس کے اثرات بڑے بھیانک قسم کے ہوتے ہیں ۔ روز مرّہ کے کام کاج کی انجام دہی کے دوران بہت دشواری ہوتی ہے اور اقتصادی اور نفسیاتی طور پر انسان کو بہت متاثر کرتی ہے ۔
20 سال سے کم عمر کے افراد میں یہ مسئلہ بہت کم دیکھا جاتا ہے ۔ جو لوگ زیادہ تر اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں ان کی عمریں 30 سے 50 سال کے لگ بھگ ہوتی ہیں ۔
شیاٹیکا یا درد عرق النساء ، ایک ایسے درد کو کہا جاتا ہے جو کمر کے نچلے حصّے سے شروع ہوتا ہے اور کولہے کی ہڈی سے ہوتا ہوا ٹانگ کی نچلی طرف کو جاتا ہے ۔ عام طور پر یہ ایک ٹانگ میں محسوس ہوتا ہے مگر بعض حالتوں میں یہ دونوں طرف بھی جا سکتا ہے ۔
شیاٹیکا کی علامات :
* اس بیماری میں درد کی نوعیت مختلف طرح کی ہو سکتی ہے ۔ یہ ہلکا سا درد بھی ہو سکتا ہے اور تیز ، چھبتا ہوا درد بھی ہو سکتا ہے ۔ بعض اوقات جلن کا احساس بھی ہوتا ہے ۔
* بعض مریضوں میں کرنٹ نما جھٹکے لگتے ہیں ۔
* اس بیماری میں مبتلا مریض جب کھانسی کرتے ہیں یا ان کو جب چھینک آتی ہے تو ان کے درد کی شدّت میں اچانک اضافہ ہوتا ہے ۔
* مریض کا متاثرہ حصہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔
* متاثرہ حصّے میں بےحسی کا احساس ہوتا ہے اور نوبت یہاں تک بھی آتی ہے کہ مریض اپنی ٹانگ یا پاؤں کو ہلانے جلانے سے قاصر ہوتا ہے ۔
*  مریض کو بیٹھنے والی حالت میں درد زیادہ محسوس ہوتا ہے ، جھکتے ہوئے یا گھومتے ہوئے بھی درد کی شدّت میں اضافہ ہوتا ہے ۔
* بعض مریضوں کو صرف ٹانگ میں درد محسوس ہو رہا ہوتا ہے جبکہ ان کو کمر میں بالکل بھی درد کا احساس نہیں ہوتا ہے مگر اصل مسئلہ کمر کے مہروں میں ہی ہوتا ہے جس کا درد سرایت کرتے ہوئے ٹانگ کے نچلے حصّے میں محسوس ہو رہا ہوتا ہے ۔
شیاٹیکا کی اقسام :
 یہ بیماری اپنے دورانیے کے لحاظ سے دو طرح کی ہو سکتی ہے ۔ ایک کم دورانیہ والی اور دوسری لمبے دورانیے والی ۔
1۔ کم دورانیے کا درد
اس حالت میں درد اچانک سے شروع ہوتا ہے اور چند دنوں یا ہفتوں میں مریض ٹھیک بھی ہو جاتا ہے ۔ درد کی شدّت کا انحصار یا بیماری کی شدّت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ چوٹ کس نوعیت کی ہے ۔ مثلا مسئلہ ریڑھ کی ہڈی کے جوڑوں میں ہو سکتا ہے ، مہروں کے درمیان موجود ڈسک میں ہو سکتا ہے ، اعصابی مسئلہ ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ کسی پٹھے یا لیگامنٹ کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے ۔
2۔ لمبے دوانیے کا درد
 اس حالت میں درد 3 ماہ سے زیادہ عرصہ رہتا ہے اور اس حالت میں بیماری کی وجہ کا پتہ لگانا قدرے مشکل ہوتا ہے ۔ اس میں درد لگاتار ہوتا ہے اور بعض خاص قسم کی حرکات کی انجام دہی کے دوران درد کی شدّت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں ۔
* اعصاب کی خرابی
* بافت میں تبدیلی
* آرتھراٹس
* نفسیاتی مسائل
شیاٹیکا کی وجوہات :
اس بیماری کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا مختصر طور پر ہم یہاں ذکر کریں گے ۔
1۔ Piriformis Syndrome
یہ ایک پٹھے کا نام ہے جو کولہے کی ہڈی کی پچھلی طرف ہوتا ہے ۔ شیاٹیک عصب اس پٹھے کے نیچے سے ہوتی ہوئی ٹانگ کے نچلے حصّے کو جاتی ہے ۔ جب کبھی اس پٹھے میں سوزش آتی ہے یا چوٹ لگتی ہے تو سوزش کے نتیجے میں یہ پٹھہ ، اس عصب پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔
2 ۔ بعض اوقات کسی چوٹ کے نتیجے میں کوئی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جاتی ہے یا پٹھے میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس عصب پر کسی نہ کسی جگہ پر دباؤ پڑتا ہے اور یوں بیماری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔
3۔ Disc Herniation
مہروں کے درمیان پائی جانے والی ڈسک کسی بیماری یا دباؤ کی وجہ سے کمزور پڑ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کا مائع نما مادہ باہر کی طرف دباؤ ڈالتا ہے اور اس دباؤ کے نتیجے میں اس عصب کے ابتدائی حصوّں کو دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں مریض کو درد کا احساس ہوتا ہے ۔
 4۔ آرتھرائٹس
 بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مہروں کی ساخت میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اور مہروں پر بننے والے ابھار مانند اوسٹیوفائٹس کی بدولت اس عصب پر دباؤ پڑتا ہے ۔
5۔ Spondylolisthesis
بعض اوقات مہروں کو اپنی جگہ پر برقرار رکھنے والی ارد گرد کی لیگامنٹ یا ارد گرد موجود پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور مہروں پر ان کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے جس کے باعث مہرے اپنی جگہ سے آگے یا پیچھے کی طرف پھسل جاتے ہیں ۔ اس عمل کے نتیجے میں بھی عصب پر دباؤ پڑتا ہے اور اس دباؤ کے نتیجے میں پھر سے شیاٹیکا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔
6۔ کولہے کی ہڈی کے جوڑ کے ارد گرد مسائل
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ٹانگ کی نچلی طرف جانے والا درد خود شیاٹیک عصب کا نہیں ہوتا ہے بلکہ کولہے کی ہڈی کے جوڑ یا کمر کی نچلی سطح کے دوسرے جوڑوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایسے مسائل کا درد یہاں پر واضح ہو رہا ہوتا ہے جس کے باعث شیاٹیکا کی طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں مگر حقیقت میں یہ درد شیاٹیکا کا نہیں ہوتا ہے ۔
شیاٹیکا کی تشخیص :
 اس کی تشخیص کے لئے معالج مرحلہ وار مریض کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے ۔ مختلف طرح کے ٹسٹ انجام دیئے جاتے ہیں اور پٹھوں اور ہڈیوں کو ایک ایک کرکے الگ کیا جاتا ہے اور یہ پتہ لگایا جاتا ہے متعلقہ درد کی اصل وجہ کیا ہے ۔
شیاٹیکا کا علاج :
 اس بیماری کا بہترین معالج فیزیوتھراپسٹ ہوتا ہے اور فیزیوتھراپسٹ معائنہ کرنے کے بعد فیصلہ کرتا ہے کہ اس بیماری کو سادہ فیزیوتھراپی طریقہ علاج سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے یا اس کے لئے سرجری کی ضرورت ہے ۔ اگر سرجری کی ضرورت ہو تو متعلقہ مریض کو سرجری کے لئے نیوروسرجن کے پاس بھیجا جاتا ہے ۔ سرجری کے بعد بھی ضروری ہے کہ مریض فوری طور پر فیزیوتھراپسٹ سے رجوع کرے تاکہ بعد میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جائے ۔
شدید درد کی صورت میں دوائی کا استعمال کریں مگر زیادہ عرصے کے لئے دوائی بھی مضر صحت ہوتی ہے اس لئے مرض کی اصل وجہ کا پتہ لگاتے ہوئے اپنی روز مرّہ کی زندگی میں تبدیلی لائیں اور بہتر انداز میں اس بیماری کا علاج کریں۔

Login to post comments