×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ایک وقت میں ایک ہی کام ٹھیک ہے

آذر 27, 1393 351

آج کی دنیا میں بیشتر لوگ ہر لمحہ جلدی اور بھاگ دوڑ میں رہتے ہیں اور اس کے سب ایک ساتھ کئی کئی کام کرتے ہیں جسے کمپیوٹر

کی اصطلاح میں ملٹی ٹاسکنگ کہا جاتا ہے۔ لیکن ملٹی ٹاسکنگ اب ایک ساتھ اور جتنی جلد ممکن ہو، اتنے کام کرنے کی انسان کے لیے ممکن ہے۔ اس میں ایک ساتھ کئی ٹکنالوجیوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ لیکن اس سلسلے میں کی گئی نئی تحقیقوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ملٹی ٹاسکنگ آپ کو دیوانہ بنا سکتی ہے۔
تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ گازی چلاتے وقت سیل فون اور دیگر الکٹرانک چیزوں کا استعمال کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسے کئی جگہ غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ تجارت کی دنیا میں ایک ساتھ کئی کام کرنے کے نقصانات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ 2005 میں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لندن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ای میل اور فون کالوں میں گھرے ہوئے لوگوں کا آئی کیونشیلی دوا‏ئیں استعمال کرنے والوں سے دوگنا متاثر ہوتا ہے۔ اس تحقیق سے وابستہ ماہرین نفسیات نے اسے "انفومینیا" یعنی معلومات کا عارضہ قرار دیا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کارکنوں کو دفتروں میں فون کالوں اور ای میل کا جواب دینے سے اتنی دشواری ہوتی ہے کہ انہیں ذہنی طور پر بحال ہونے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ ایک انداز ے کے مطابق امریکہ میں ملٹی ٹاسکنگ کے سبب ہر سال  650 ارب ڈالر کا پیداواری نقصان ہوتا ہے ۔ تحقیق کاروں نے ایک ساتھ بہت سے کام کرنے سے دماغ پر پڑنے والے بوجھ کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ یونیورسٹی آف کالی فورنیا کے ماہر نفسیات رسل بولڈ نے اپنی تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ ملٹی ٹاسکنگ سے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے ۔ اگر آپ ایک ساتھ کئی کام کرتے ہوئے کچھ سیکھ بھی لیں تو اس معلومات کو دوبارہ یاد کر پانا مشکل ہوتا ہے ۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکھنے اور معلومات کو ذخیرہ کرنے کے لیے دماغ مختلف حصے استعمال میں آتے ہیں۔ ملٹی ٹاسکنگ کرنے والوں کے دماغ کا وہ علاقہ سرگرم ہوتا ہے جو سیکھنے سے متعلق ہے جبکہ دیگر لوگوں میں معلومات ذخیرہ کرنے والا علاقہ سرگرم رہتا ہے ۔
ہمیں معلوم ہمنا چاہیے کہ ہمارے معاشرہ جس طرح بدل رہا ہے اس کی قیمت ہمیں چکانی ہوگی۔ انسان اس انداز سے کام کرنے کے لیے نہیں بنے ہیں ۔ ہم کسی بات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے بنے ہیں۔ جب ہم اپنے آپ کو ایک ساتھ کئی کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو ہم آگے چل کر اپنے کو کم اہل بنانے کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر لگتا ہے کہ ہم زیادہ باصلاحیت ہوتے جارہے ہیں۔
ملٹی ٹاسکنگ کی کوئی بات کرتے ہوئے ہم دھیان مرکوز کرنے اور دھیان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور فیصلہ کرنے کے سلسلے میں بھی بات کرتے ہیں۔ بڑے کام کرنے والے لوگ ہمیشہ دھیان کو کسی نقطے پر مرکوز کرنے وانے رہے ہیں ۔ نیوٹن کہتا تھ کہ : اس کی دریافتیں کسی بھی اور چیز کے بجائے دھیان مرکوز کرنے کا نتیجہ ہیں ۔

Login to post comments