×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

پٹھوں کا درد (Fibromyalgia )

آذر 27, 1393 437

ہمارے معاشرے میں بہت سارے افراد پٹھوں کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ ایک انداز ے کے مطابق معاشرے کے چار یا پانچ فیصد افراد اس

مرض کا شکار ہوتے ہیں جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ مرد حضرت بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن خواتین میں یہ بیماری مردوں کی نسبت 6 سے 10 گنا زیادہ پائی جاتی ہے ۔ نوعمر کے افراد بھی اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر ادھیڑ عمر کے افراد اس بیماری میں زیادہ مبتلا دکھائی دیتے ہیں ۔
میڈیکل میں اس بیماری کے لئے Fibromyalgia کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ کوئی جان لیوا بیماری تو نہیں ہے مگر معاشرے پر اس کے اثرات بڑے بھیانک قسم کے ہوتے ہیں ۔ اگر ہم انسانی اعصابی نظام پر غور کریں تو ہمارا اعصابی نظام دو حصّوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ ایک کو Central Nervous System کہا جاتا ہے ، جس میں دماغ اور حرام مغز شامل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کو Peripheral Nervous System کہا جاتا ہے ۔ حالات سے باخبر رہنے کے لئے اور پورے جسم کو چلانے کے لئے جسم میں ایک منظم قسم کا اعصابی نظام ہوتا ہے ۔ دماغ تک پیغامات کی ترسیل ہوتی ہے جبکہ دماغ سے احکامات جسم کے دوسرے حصّوں تک آتے ہیں ۔
مختلف طرح کی کیفیات سے خبردار کرنے کے لئے مختلف طرح کے Receptors ہوتے ہیں جو خاص حالت کو دماغ تک پہنچاتے ہیں ، مثال کے طور پر حرارت یا گرمی کے لئے خاص Receptors ہوتے ہیں جبکہ دباو اور درد کی شناخت کے لئے بھی خاص Receptors ہوتے ہیں ۔ اس بیماری میں انسان کا اعصابی نظام درھم برھم ہو جاتا ہے اور درد کے Receptors ضرورت سے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں ، کسی بھی معمولی دباو یا تبدیلی کو درد کے Receptors شدید درد کے طور پر دماغ تک لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کو جسم کے مختلف حصّوں میں درد محسوس ہوتا رہتا ہے ۔
یہ ایک بہت ہی عام طبّی مسئلہ ہے جس میں بدن کا اچھا خاصا حصّہ درد محسوس کر رہا ہوتا ہے ، جسم کے حصّوں میں سختی پائی جاتی ہے ، لمس کرنے پر جسم بہت ہی حساس ہو جاتا ہے ۔ درد اور سختی کی کفیت کبھی ظاہر ہوتی ہے تو کبھی کچھ عرصہ کے لئے غائب ہو جاتی ہے ۔ ان علامات کی وجہ سے فرد کی معاشرتی اور روز مرّہ کی زندگی بہت حد تک متاثر ہوتی ہے ۔
1۔ درد کی شکایت
اس بیماری میں درد وسیع پیمانے پر ہوتا ہے ، مبہم سا ہوتا ہے ، بعض اوقات جلن اور چبھن کا احساس ہوتا ہے اور بعض اوقات درد کی شدّت بہت زیادہ ہو جاتی ہے ۔
2۔ جوڑوں میں سختی
جسم کے جوڑ اس حد تک سخت ہوجاتے ہیں کہ ان کو ہلانا جلانا مشکل ہو جاتا ہے ۔
3۔ تھکاوٹ کا احساس
تھکاوٹ کا احساس اس قدر زیادہ ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی کرنے کو دل نہیں کرتا ہے اور کسی بھی ذہنی دباو کی صورت میں یہ مزید بڑھ جاتا ہے ۔ مریض یہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے ان کے ہاتھ پاوں کے ساتھ کوئی اضافی وزن باندھ دیا گیا ہے ۔ ایسے مریضوں کو روز مرّہ کے کام کاج مثلا ہاتھ دھونا بھی عذاب لگ رہا ہوتا ہے ۔
4۔ نزلے زکام کا احساس
اس بیماری میں مبتلا افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے انہیں نزلے کی شکایت ہے اور ایسی حالت میں بستر سے اٹھنا بھی ان کے لئے محال ہوتا ہے ۔
5۔ نیند میں خلل
ایسے مریضوں کو ٹھیک طرح سے نیند نہیں آتی ہے ۔ جب نیند آتی بھی ہے تو اٹھنے کے بعد انہیں یہ لگ رہا ہوتا ہے کہ جیسے وہ بہت تھکے ہوئے ہیں یعنی سونے کے باوجود بھی وہ ہشاش بشاش نہیں ہوتے ہیں ۔
6۔ یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی قوّت
ایسے افراد میں یادداشت کی کمزوری ہوتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی قوّت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے ۔ کسی بھی چیز پر وہ اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتے ہیں ۔
7۔ پٹھوں کی کمزوری
ایسے افراد ، پٹھوں کی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں اور انسان معاشرتی طور پر تنہائی پسند ہو جاتا ہے ۔
8۔ بعض افراد کو جبڑے کے جوڑ میں درد محسوس ہوتا ہے ، بعض کو سر درد کی شکایت رہتی ہے ، بعض کے کانوں میں آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔
9 ۔ زیادہ تر مریض ذہنی تناو کا شکار رہتے ہیں ۔
10۔ بعض افراد میں نظام انہظام بھی درھم برھم ہو جاتا ہے اور یوں وہ پیٹ کی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں ۔
اس بیماری کی وجوھات واضح نہیں ہیں ۔ اس کی وجوھات کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے ۔ مختلف افراد میں اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں ۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بعض خاص خاندانوں میں اس بیماری کی شرح قدرے زیادہ ہے جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس بیماری کے پھیلنے میں وراثتی اثرات بھی کارفرما ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض مخصوص قسم کے Genes بعض افراد میں پائے جانے کی وجہ سے انہیں یہ بیماری زیادہ لاحق ہوتی ہو ۔
بعض مخصوص عوامل کی وجہ سے بھی اس بیماری کے اثرات سامنے آتے ہیں اور بیماری کی شدّت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہ عوامل کوئی بھی ہو سکتے ہیں جیسے ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہو سکتے ہیں ، ارتھرائٹس کی کوئی قسم ہو سکتی ہے ، جسم پر پڑنے والا کوئی دباو ہو سکتا ہے ، کوئی انفکشن ہو سکتی ہے ، وائرس کا کوئی حملہ ہو سکتا ہے، کوئی ذہنی پریشانی یا تناو ہو سکتا ہے ۔ ان عوامل کی وجہ سے جسم سے دماغ کو ہونے والی ترسیل متاثر ہوتی ہے ، جسم میں بننے والے کیمیائی مادوں کا توازن بگڑنے لگتا ہے اور یوں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے ہم آواز کے بٹن کو اس کی آخری حد تک لے گئے ہیں اور یوں ہمیں بہت اونچی آواز سنائی دے رہی ہو ۔ اس طرح معمولی سا درد بھی بہت شدید درد کی صورت میں محسوس ہو رہا ہوتا ہے ۔
* اس بیماری میں زیادہ تر خواتین مبتلا ہوتی ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق خواتین میں مردوں کی نسبت یہ بیماری 6 سے 10 گنا زیادہ پائی جاتی ہے ۔
* ادھیڑ عمر کے افراد بھی اس میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں ۔ نوعمر افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں مگر زیادہ تر ادھیڑ عمری میں اس بیماری کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے ۔
* جو لوگ پہلے سے آرتھرائٹھس کی کسی خاص قسم میں مبتلا ہوتے ہیں ، ان میں اس بیماری کے لاحق ہونے کا خدشہ قدرے زیادہ ہوتا ہے ۔
تحریر : Dr. Syed Asadullah Arslan

Last modified on دوشنبه, 01 دی 1393 14:34
Login to post comments