×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ايم چِپ: خون کا تجزيہ کہيں بھي کبھي بھي

مهر 27, 1392 516

نئي سائنسي تحقيق کے مطابق خون کے نمونوں کے تجزيے کے ليے متعارف کروائي جانے واليايک ارزاں اور ’پور ٹيبل‘ کٹ

کے استعمال سے دنيا کے دوردراز علاقوں ميں بيماريوں کي تشخيص ميں بہت مدد مل سکتي ہے-

ايم چپ نامي يہ کِٹ حجم ميں ايک کريڈٹ کاя جتني ہے اور نيچر ميڈيسن نامي سائنسي جريدے کے مطابق اس سے خون ميں موجود انفيکشن کا منٹوں ميں پتہ چل جاتا ہے-

 جريدے کے مطابق افريقي ملک روانڈا ميں اس کِٹ کي مدد سے ايچ آئي وي اور سائفلس جيسي بيماريوں کے تجرباتي تجزيے کيے گئے اور ان کے نتائج تقريباً سو فيصد درست نکلے-

 اس ڈيوائس کي ابتدائي پراجيکٹ لاگت صرف ايک ڈالر ہے اور يوں يہ تجربہ گاہوں ميں خون کے تجزيے کے اخراجات کے مقابلے ميں کہيں سستي ہے-

 تجزيے کے ليے بنائي گئي پلاسٹک چپ ميں نشاندہي کے دس زون ہيں اور يہ خون کے صرف ايک قطرے سے کئي بيماريوں کے ٹيسٹ کر سکتي ہے-

 اس تجزيوں کے نتائج عام انساني آنکھ يا ايک کم قيمت کے ڈٹيکٹر کي مدد سے ديکھے جا سکتے ہيں-

 اس ڈيوائس کي خالق ٹيم کے سربراہ اور نيويارک کي کولمبيا يونيورسٹي کے پروفيسر سيموئل سيا کا کہنا ہے کہ ’خيال يہ تھا کہ دنيا کے کسي بھي علاقے ميں رہنے والے شخص کے ليے تشخيصي ٹيسٹس کي سہولت مہيا کي جائے، نا کہ آپ کسي کلينک ميں جائيں، وہاں خون کا نمونہ ديں اور پھر نتائج کے ليے کئي دن انتظار کريں‘-

 .اس تحقيق کے دوران روانڈا کے علاقے کيگالي ميں سينکڑوں ٹيسٹ کيے گئے اور ايچ آئي وي ٹيسٹ ميں پچانوے جبکہ سائفلس ميں چھہتر فيصد کے نتائج بالکل درست تھے-

 محققين کو اميد ہے کہ اس ڈيوائس کي مدد سے حاملہ خواتين ميں جنسي عمل سے منتقل ہونے والي بيماريوں کے ٹيسٹ کرنے ميں مدد ملے گي-

 اس ڈيوائس کو ايک اور شکل ميں پروسٹيٹ کينسر کي تشخيص کے ليے بھي تيار کيا گيا ہے-

Last modified on شنبه, 03 خرداد 1393 14:10
Login to post comments