×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

وائرس سے کينسر کے علاج کي اميد

مهر 27, 1392 540

کينيڈا ميں سائنسدانوں نے ايک ايسا جرثومہ تخليق کيا ہے جو جسم ميں کينسر کے خليوں کو چن چن کر نشانہ بناتا ہےاور اس

سے جسم کے صحت مند خليے محفوظ رہتے ہيں-

اس وائرس کو خون کے ذريعے جسم کے اندر پہنچايا جا سکتا ہے اور تخليق سے کينسر کے علاج کي نئي اميد پيدا ہوئي ہے-

 کينسر کے تئيس مريضوں پر کيےگئے تجربات سے پتہ چلا ہے کہ وائرس جسم ميں صرف کينسر کے ٹيومرز کو ہي نشانہ بناتا ہے اور صحت مند خليوں کو نہيں چھيڑتا ہے-

 محقيقين کا کہنا ہے کہ يہ دريافت مستقبل ميں ايک روز صحيح معنوں ميں تھراپي يا طريقۂ علاج بن سکتا ہے-

 وائرس کے ذريعے کينسر کا علاج کوئي نئي بات نہيں ہے ليکن کينسر مخالف وائرس کو براہ راست ٹيومرز ميں داخل کرنا پڑتا تھا تاکہ جسم کے دوسرے خليے متاثر نہ ہو سکيں-

 پروفيسر جان بيل: ہم بڑے پرجوش ہيں کيونکہ طبّي تاريخ ميں يہ پہلي بار ہے کہ وائرس تھراپي يا طريقۂ علاج ظاہر ہوا ہے، جو رگوں کے ذريعے انسانوں ميں پہنچ کر کينسر کے خليوں کو بدلنے کا کام کرتي ہے

 سائنس دانوں نے اسي وائرس ميں تبديلياں کي ہيں جو چيچک کا ٹيکہ تيار کرنے کے ليے معروف ہے- اس وائرس کا نام ’جے ايکس 594‘ ہے جو ايک کيميائي پاتھ واے پر منحصر ہے-

 اس وائرس کو تئيس کينسر کے مريضوں کے جسم ميں خون کے ذريعہ داخل کيا گيا تو جسم کے مختلف اعضاء ميں سرايت کرگيا- اس ميں سے آٹھ مريض جنہيں وائرس کي زيادہ خوراک مہيا کي گئي، ان ميں پايا گيا کہ وہ وائرس ٹيومرز کو سميٹ رہے ہيں جبکہ دوسرے خليے اس سے محفوظ تھے-

 اوٹاوا يونيورسٹي ميں اس منصوبے کے سربراہ پروفيسر جان بيل کا کہنا ہے کہ’ ہم بڑے پرجوش ہيں کيونکہ طبّي تاريخ ميں يہ پہلي بار ہے کہ وائرس تھراپي ظاہر ہوئي ہے، جو رگوں کے ذريعے انسانوں ميں پہنچ کر کينسر کے خليوں کو بدلنے کا کام کرتي ہے-‘

 پروفيسر جان کے مطابق ’ کينسر کے علاج کے ليے رگوں کے ذريعے پہنچانا بہت اہم ہے کيونکہ اس سے جسم کے اندر ٹيومر نشانہ بنتا ہے ناکہ براہ راست داخل کرکے-‘

 پروفيسر بيل کا کہنا ہے کہ ابھي اس نئي دريافت اپنے ابتدائي مراحل ميں اور بہت کچھ کام کرنے کي ضرورت ہے- تاہم انہيں يقين ہے کہ ايک دن وائرس اور دوسري بائيولوجيکل تھراپيز کينسر کے علاج کے ليے موزوں ثابت ہونگي-

Last modified on شنبه, 03 خرداد 1393 12:53
Login to post comments