×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خواتين ميں دل کے امراض

مهر 27, 1392 467

مردوں  ميں دل کے دورے کي وجہ  عموما خون کي کسي نس ميں رکاوٹ ہوتي  ہے-خون کي ناليوں کے ايکس رے،يا انجوگرافي کي مدد سے

اس رکاوٹ کي نشاندہي پہلے سے  کي جا سکتي ہے- اس ايکس رے کےليے خون کي نس  ميں ايک باريک سي نالي ڈالي جاتي ہے- ليکن انجوگرافي کي مدد سے خواتين کے دوران خون  ميں رکاوٹوں کي نشاندہي اتني آسان نہيں-  جس کي وجہ سے خواتين ميں دل کے دورے کا زيادہ خطرہ  ہوتا ہے-  عالمي ادارہ صحت  کے مطابق ہر سال  تقريبا  ايک کروڑ 80 لاکھ  خواتين اس مرض  کا شکار ہو تي ہيں- اور يہ مرض صرف بڑي عمر کي خواتين کو ہي متاثر نہيں کرتا -

خواتين کو امراض دل کے بارے ميں معلومات پہنچانے کےليے سسٹر ٹو سسٹر نامي ايک ادارہ خواتين کو اپنے بلڈ پريشر، کوليسٹرول اور ديگر مسائل پر نظر رکھنے کا مشورہ ديتا ہے-

 بوسٹن ميں واقع برہيم اينڈ وومن ہاسپٹل ميں دل کے امراض پر کام کرنے والے ڈاکٹروں ميں جوني فوڈي بھي شامل ہيں - ان کا کہناہے کہ مرض کي وجوہات کم کرنے سے دل کے  95 في صد امراض کي روک تھام ممکن ہے-

 حفظان صحت  کے ان اقدامات ميں تمباکو نوشي سے گريز کرنا ، ذيابيطس پر کنٹرول ، صحت مند وزن برقرار رکھنا ، درست غذا ، روزانہ تقريبا 30 منٹ تک ورزش  اور ذہني دباؤ ميں کمي لانا شامل ہيں-  ترقي پذير ملکوں ميں  خواتين ميں امراض دل کي شرح  بڑھ رہي ہےجس کي وجوہات ميں ماہرين عالمي سطح پر پھيلنے والي  موٹاپے کي بيماري کو بھي شامل کرتے  ہيں-

 ماہر امراض قلب ڈاکٹر موزافرين  کا کہناہے کہ بيمار ہونے کي وجہ يہ نہيں لوگ بہت زيادہ کھاتے ہيں،بلکہ يہ ہے کہ  وہ درست غذا کا انتخاب نہيں کرتے-

  ڈاکٹر موزافرين کے مطابق خوراک ميں  مچھلي، اناج ، سبزياں ،  ان سے تيار شدہ خوردني تيل  اور خشک ميوے کي مقدار بڑھانے، اور نمک اور چکنائي کم کرنے سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے- ان کا مشورہ  ہے  کہ اس  کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کي ايسي پاليسياں تشکيل دينا  بھي بہت ضروري ہوں گي جو دل کي صحت کے بارے ميں لوگوں تک معلومات پہنچانے ميں مدد ديں-

Last modified on دوشنبه, 05 خرداد 1393 09:38
Login to post comments