×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سادہ سی مشق اور خواتین کی تندرستی

دی 23, 1393 355

ایک سادہ سی مشق خواتین کے لیے ہے کہ وہ دن بھر میں کم از کم دو دفعہ سیڑھیا ں لازماًاترا چڑھا کریں ۔ یہ عمل ان کی صحت کو بہتر کر دے گا ۔

اس کی پابندی سے انہیں اچھے نتائج دیکھنے کو ملیں گے ۔ گھریلو کا م کاج کی عادت کم ہوتے رہنے کی وجہ سے بیماریاں ہمارے گھر وں میںداخل ہوگئی ہیں ۔ معالجوں نے ہمارے گھر دیکھ لیے ہیں ۔ یاد رکھےئے کہ زائد چربی اور شکر ہماری صحت کے بڑے دشمن ہیں ۔ ان کی تحلیل روز مرہ کی نجی مصروفیات ہیں ۔ ہم فطرت سے جتنا دور ہوں گے اتنی ہی پریشانیا ں اپنے دامن میں سمیٹیں گے ۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستا ن میں 25سال کی عمر سے زیا دہ عمر کے 70 ہزار افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اور 2025ء تک یہ تعداد بڑھ کر سوا لاکھ سے بھی زیادہ ہو جائے گی ۔ چنا نچہ گھریلو مشقتوں میں مصروف ہونے کے باعث خواتین اس مر ض سے خود کو دور رکھ سکتی ہیں تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے ۔ خواتین کی گھریلو زندگی کی مشقت کے جسم پر اثرات اور سائنسی تحقیقات فرصت ، جی ہا ں یہ معمر خواتین کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں ، کیو ں کہ ایک تو ان کے قوی مضمحل ہو تے جا تے ہیں ، دوسرے کام کرنے والے افراد میں بہوؤں ، بیٹیو ں کی صورت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ علا وہ ازیں طویل مدت پر محیط یکساں مصروفیا ت ان کو تھکا دیتی ہیں ۔ اب وہ آرام کرنا چاہتی ہیں ۔ ضرورت سے زیادہ آرام ان کی صحت کے لیے مفید نہیں ہوتا ۔ ایسی خواتین کو چاہئے کہ یکساں گھریلو مصروفیات اگر وہ ترک کر دیں تو کسی نئے مشغلے میں دلچسپی لینا شروع کر دیں ۔ اس طر ح ان کی توانائی بحال رہے گی اور وہ معاشرے کا عضو معطل بھی نہیں بنیں گی۔ یہ سرگرمیاں کئی قسم کی ہو سکتی ہیں ۔ مثلا ً باغ بانی ، نظر اجازت دے تو سلائی کڑھائی ، بے کار اشیا کی مدد سے کار آمد چیزیں بنانا، غریب و نادار بچوں کو پڑھانا ، معیا ری ادب کا مطالعہ، گھر کے چھوٹے موٹے امو ر میں ہا تھ بٹانا وغیرہ وغیرہ ۔ بے کاری ، نفسیا تی امراض کا بھی سبب بنتی ہے۔ اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ نفسیاتی امراض جسمانی عوارض کا سبب بنتے ہیں ۔ ایسی خواتین کاایک مسئلہ وہم بھی ہوتا ہے ۔ یہ بیماریو ں کو اپنے اوپر مسلط کر لیتی ہیں ۔ جب کسی بھی قسم کی بیماری کا تذکرہ سنتی ہیں تو خو دکو اس میں مبتلا سمجھتی ہیں ۔ ڈاکٹر سیل کی تحقیقات گھر کی صحت و صفائی کی ذمہ داری زیادہ تر بیوی اور گھریلو کام کا ج کرنیوالو ں پر ہوتی ہے ۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر سیل اپنی کتا ب پر یونیٹو اور سوشل میڈیسن ص 145میں چند ہدایات لکھتے ہیں ۔ ایسی عورتیں جو اپنا گھر یلو کام خود انجام دیتی ہیں ۔ انہیں حسب ذیل امو ر کا لحاظ رکھنا چاہئے تاکہ ان کی اور خاندان کی صحت قائم رہ سکے ۔ محنتی عورتوں کے معدہ اور آنتو ں کے امراض میں معتدلہ کمی ہو جا تی ہے ۔ انہیں شوگر ، دل اور بلڈ پریشر کی بیماریو ں سے نجا ت ملتی ہے ۔ اس لیے کہ یہ بیماریاں عام طور پر کا ہل رہنے والوں کو لا حق ہو تی ہیں ۔

Last modified on سه شنبه, 23 دی 1393 12:34
Login to post comments