×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

لذت، ذائقہ اور صحت میتھی کے بغیر کیسے ممکن ہو؟

دی 23, 1393 413

سالن کی لذت اور ذائقہ میں اضافہ کے لیے قصور کی میتھی کو بڑے اہتمام سے گھر وں میں استعمال کیا جا تاہے اس سے کون واقف نہیں ۔

اس کی خوشبو بہت عمدہ ہو تی ہے۔ اور اس میں قدرت کا ملہ نے بیش قیمت فوائد کو پنہاںکر رکھا ہے ۔ کیا یہ صرف قصور میں ہی پیدا ہو تی ہے؟ نہیں بلکہ پاکستان و ہندوستان کے اکثر علا قوں میں یہ بکثرت پائی جاتی ہے اور اس کے بیجوں کو تخم حلبہ یا میتھی دانے کہتے ہیں جبکہ اس کے پتوں سے ساگ یا بجھیا تیار کر کے بڑی رغبت اور شوق سے کھائی جاتی ہے ۔ آلو ، چنے ، قیمہ اور مچھلی کے ساتھ ملا کر بھی اس کا سالن تیا رکیا جا تاہے ۔ اس کے تا زہ پتوں کو مکئی کے آٹے میں گوندھ کر اور گھی لگا کر روٹیاں تیا رکی جا تی ہیں جو بہت لذےذ اور دیہا تیوں کی پسندیدہ خوراک ہیں ۔ اس کے بیجوں کو طبی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے علا وہ اس کی خوشبو ، ذائقہ اور دیگر طبی خصو صیا ت کی مناسبت سے اچار میں بھی ڈالتے ہیں ۔ میتھی کا مزاج گرم اور خشک ہو تاہے ۔ اس لئے بلغمی امراض میں نا فع ہے ۔ اسکو بلغمی کھا نسی ، اجتماع بلغم ، لقوہ ، رعشہ اور فالج میں علا ج بالغذا کی حیثیت سے استعمال کر تے ہیں ۔ نیز دیگر ادویہ کے ساتھ ساتھ بطور ِ غذا بھی اسکا استعمال مفید ہے ۔ میتھی میں پائے جانے والے قدرتی ریشے ہمارے جسم کے عضلا ت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ ان سے امعاء، مثانہ اور رحم کے عضلات میں تحریک پیدا ہو کر ان کے عمل میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس کے استعمال سے قبض دور ہو جا تی ہے۔ پیشاب اور حیض کی تکالیف میں بھی افا قہ ہو تاہے ۔ خصو صا ً سردی سے معدہ ، امعاء، جگر، تلی ، گردہ ، مثانہ اور رحم میں لا حق ہونے والے امراض کے لیے قابلِ اعتماد غذا ہے ۔ معدہ کی قوت ہا ضمہ میں اس سے تیزی پیدا ہو جا تی ہے ۔ نیز اس کے استعمال سے جسمانی کمزوری، اعصابی کمزوری، نفخ، غظم طحال ، اور کمر کے درد میں بہت فائدہ ہو تاہے ، درد جدید کے عسیر العلا ج مر ض و جع المفاصل ، گٹھیا اور نقر س میں بھی اس کے استعمال سے افا قہ ہو تا ہے ۔ بخاروں کی حالت میں موزوں اور مناسب غذا ہے ۔ ذیا بیطس کی حالت میں اس کا استعمال فائدہ سے خالی نہیں ہے ۔ برگِ میتھی کا تجزیہ کرنے سے اس میں لعاب ( البیو من ) خوشبو دار روغن، فولا د ، لیسی تھین ، فاسفیٹ اور حیا تین الف، ب ، ج، پائے جا تے ہیں ۔ اس میں خوشبودار روغن بھی ہو تاہے ۔ جس کی مقدار 5% ہو تی ہے ۔ اس روغن میں کا رڈ لیور آئل کی خصوصیا ت پائی جا تی ہیں ۔ اس سے کساح ( ریکٹس ) اور فولا د کی زیادتی کی وجہ سے خون کی کمی ( اینیما ) میں اعلیٰ فوائد ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کے پتوں کے اندرونی فوائد کے ساتھ ساتھ انکا بیرونی استعمال بھی شفا بخش ہے ۔ چنانچہ ورموں کو تحلیل کرنے کے لیے اس کا ضماد ( پو لٹس ) نا فع ہے ۔ اس پو لٹس کے چہرہ پر استعمال کرنے سے چھا ئیاں دور ہو جا تی ہیں ۔ میتھی کے بیجوں میں بھی قدرت نے شفائی اثرا ت رکھے ہیں ۔ انہیں علا ج لامراض کی غر ض سے اندرونی و بیرونی طور پر استعمال کر تے ہیں ۔ اس کے بیجوں میں بھی وہ تمام خصو صیا ت مو جو د ہیں جو اس کے پتوں میں پنہاں ہیں ۔ اعصابی کمزوری اور ذیا بیطس کے لئے اس کے بیجوں کا سفو ف 3 گرام روزانہ استعمال کر نے سے اچھے نتا ئج ظہور پذیر ہو تے ہیں ۔ اس کے بیج قبض اور ورم امعاءمیں فائدہ مند ہیں ۔ اس کے پتوں کی نسبت بیجوں کا جوشاندہ ادرار کی زیا دہ خصوصیا ت رکھتا ہے ۔ اگر سر دی کے باعث حیض میں کوئی رکا وٹ پیدا ہو جائے تو اس کا جو شاندہ ایک کا رگر دوا ہے ۔ نیز اس سے اعصا ب و عضلا ت کو بھی تقویت حاصل ہو تی ہے۔ اطباءمصر بھی میتھی کے بیجوں کو استعمال کرتے تھے ۔ وہ اانہیں پانی میں بھگوکر دیتے ہیں ۔ جب بیج پھو ل کر مو ٹے ہو جاتے ہیں تو انہیں اسی پانی میں اچھی طر ح گھوٹ کر ملیریا بخار کو روکنے کے لیے مریض کے پیٹ پر ضماد کرتے ہیں ۔ یہ ضما د محلل ہونے کی وجہ سے ورم جگر او ر طحال کو بھی نا فع ہے ۔ چہر ہ، جسم کے داغ دھبے بھی اس ضما د سے دور ہو جاتے ہیں ۔ میتھی کے بیج دیگر اعضائے جسمانی کے علا وہ با لوں کے لئے بھی مفید ہیں ۔ اس کے بطور ضماد لگا نے سے بال دراز ہو جا تے ہیں ۔ اور ان کا گرنا بھی بند ہو جا تا ہے ۔ اس مقصد کے لئے بیجوں کا باریک سفو ف تیا ر کر لیا جائے اور استعمال سے پہلے اس سفوف کونیم گرم پانی میں بھگو لیا جائے تو اس میں لعا ب پیدا ہو جائے گا ۔ پھر اسے بالوں کی جڑوں میں خوب اچھی طر ح ملنا چاہئیے ۔ بعد ازاں سر کو تا زہ پانی سے دھو لیا جائے تو یہ مفید ہوتا ہے۔ انتباہ میتھی کا مزاج گرم اورخشک ہے ۔ اس لئے اسکو گرم امراض اور گرم مزاج مریضوں میں استعمال کرنے سے اجتنا ب کرنا چاہئیے۔ جیسے کہ یرقان، گرمی سے ہونی والی خشک کھا نسی ، پیچش ِ صفراوی و دمو ی ، کثر تِ طمث (حیض کی زیادتی ) ، استحاضہ ( بے وقت خونِ حیض کا جاری ہونا ) اور اسقا ط کی حالت میں اس کا استعمال بجائے فائدہ کے مضر رساں ہو تاہے ۔ اس کی اصلا ح کی غر ض سے اس کے ساتھ پالک کو ملا لینا چاہیے ۔ نیز اس کے سالن کے ساتھ دہی کھا نا یا سرکہ استعمال کرنا بھی اعتدال کی صور ت پیدا کر تا ہے ۔

Login to post comments