×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مہلک کھانسی، پھر خودکشی اور شفایابی

دی 24, 1393 396

بچپن سے مجھے طب کی طرف لگاؤ تھا۔ میرے گھر میں یونانی علاج اور خصوصاً عبد العزیز صاحب جھوائی ٹولہ لکھنو کا دور دورہ تھا۔ جب بھی

کوئی بیمار ہوتا حکیم صاحب پہلے لکھنو سے ملیح آباد تشریف لاتے۔ مریض کو دیکھتے اور نسخہ لکھ کر چلے جاتے۔ حکیم صاحب کے نسخہ کی تیاری میں مجھے بے حد لطف آتا۔ میرا یہ شوق بڑھتے بڑھتے ایک مشغلہ بن گیا۔1921ءمیں، میں خود بیمار ہوا اور زکام کے بعد مہلک کھانسی ہو گئی۔ ایسی جان لیوا کھانسی کہ آج بھی اس کے تصور سے لرز جاتا ہوں۔ میں علاج سے عاجز آ کر حکیم مرزا میاں کے ہاں بغرض علاج گیا۔ کئی مہینہ کے علاج سے مایوس ہو کر یہ محسوس ہوا کہ میری زندگی اب خطرے میں ہے۔ لہٰذا میں دہلی حکیم اجمل خان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حکیم صاحب کے بعد ڈاکٹر انصاری صاحب سے ملا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میرا ایک پھیپھڑا خراب ہو رہا ہے اور مجھے نینی تال سینی ٹوریم ہسپتال بغرض علاج جانا چاہئے۔ حسب ہدایت تین مہینے بھوالی سینی ٹوریم رہا، جہاں آئے دن انجکشن لگتے رہے لیکن نہ تو میری کھانسی گئی نہ بخار! میری شادی ہو گئی اور میں ایک بچے کاباپ بن چکا تھا۔ کئی سال کی متواتر کھانسی اور حرارت کا کچھ خوگر بھی ہو چکا تھا لیکن میرے والد ماجد میری اس حالت سے ہمیشہ فکر مند رہتے اور ہمیشہ میرے لئے کسی نئے علاج کا بندو بست ہوتا رہتا ۔میں لکھنؤ میں مقیم تھا۔ 1919 کا زمانہ اور اکتوبر کا مہینہ تھا۔ جنگ آزادی پر شباب تھا اور میرے دل میں وطن پرستی کا جوار بھاٹا طوفانی سیلاب کی طرح امڈ رہا تھا۔ رات بھر کھانسی کی وجہ سے جاگنا اور دن بھر باغیانہ صحبتوں میں گزارنا۔آخر پولیس کی نظروں سے چھپ نہ سکا اور مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ سینٹر جیل لکھنو ،۱۲ نمبر بارک کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں(کئی سال کے بعد پہلی رات ) نیند بھر سونے کو ملی۔ کھانسی، نزلہ اور پھیپھڑوں کی دق، میرا ساتھ چھوڑ کر لا پتہ ہو چکی تھی۔ چند دن مقدمہ چل کر مجھے دو سو روپیہ جرمانہ اور ڈیڑھ سال قید سخت سزا ہو گئی۔ جیل سے 1921ءمیں گھر آیا۔ ایک ہفتہ نہ گزرنے پایا تھا کہ پھر شدید کھانسی اور حرارت ہونی شروع ہو گئی۔ اس مرتبہ میں زندگی سے بالکل مایوس ہو گیا، اور اسی عالم مایوسی میں نے ایک رات اپنے خسر صاحب کی کشتہ کی ہوئی سنکھیا سفید کی پڑیا میں سے، جسے وہ کیمیا گری میں استعمال کرتے تھے، ایک چٹکی چرا کر کھا گیا۔ کھانے کے بعد موت کے انتظار میں سوچتے سوچتے سو گیا۔ دو بجے کے قریب میری اہلیہ کو میرے اس طرح سو جانے سے تشویش ہوئی اور گھبرا کر مجھے جگا دیا۔ جاگنے پر مجھے محسوس ہوا کہ میری طبیعت ہلکی ہے۔ البتہ نیند کا غلبہ ابھی باقی ہے۔ میں ان سے کچھ کہہ سن کر غافل ہو گیا۔ صبح دن چڑھے جاگنے پر بالکل اچھا تھا۔ اس دن کے بعد میری سمجھ میں اپنا علاج آ گیا اور میرا یہ دستور بن گیا کہ جب کبھی مجھے زکام ہوتا اور کھانسی کی شدت کے ساتھ دم بھی پھولنے لگتا ہے میں فوراً اس بیماری کے دو چار انجکشن لگوا لیتا ہوں اور اس عمل سے کئی سال کے لئے دمہ کی سی مہلک کھانسی سے نجات پا جاتا ہوں۔ 1921ءسے سنکھیا سفید سے میری کھانسی اور دمہ جانے کے چند دن بعد میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں کی روشنی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے اور لکھنے پڑھنے میں آنکھوں پر بے حد تھکن ہوتی ہے۔ یہ صورت میرے لئے سخت تکلیف دہ تھی، کیونکہ میں لکھنے پڑھنے کا بے حد شوقین تھا۔ مجبورہو کر میں نے چشمہ کے استعمال سے کمی کو پورا کر لیا۔ 1921ءسے 1935ءتک یہ صورت بدستور یکساں رہی۔ بتیس سال بعد مئی 35ءکی صبح میں اپنے باغ میں بیٹھا تھا کہ ایک حادثہ میں مجھ پر بندوق کا فائر ہو گیا جس سے میں بری طرح زخمی ہو گیا اور میرے زخم سے بہت خون نکل گیا۔ جب میں بلرام پور ہسپتال سے گھر آیا تویک بیک میری آنکھوں کی روشنی عود کر آئی اور اب میں باریک سے باریک تحریر بھی بغیر چشمہ کے پڑھ سکتا ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ تمام قوتیں اور جذبات جو ایک اچھے جوان میں ہونا چاہئے، مجھ میں دوبارہ عود کر آئے ہیں۔ اس صورت حال کا کیا سبب ہوا، اور کیسے بڑھاپا ،جوانی سے اور کم نظری ،روشنی سے تبدیل ہو گئے، اس کی نسبت بار ہا غور و فکر کے باوجود میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا۔

Login to post comments