×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ذيابيطس کے مرض کي نئي دوا

مهر 29, 1392 609

ذيابيطس کے بين الاقوامي ادارے انٹرنيشنل ڈائباٹيز فيڈريشن کے مطابق 2030ء تک دنيا ميں ہر 10 افراد ميں سے کم از کم

ايک فرد ذيابيطس کا شکار ہو گا-

يہ مرض بہت عام ہے اور اس کي وجوہات ميں غلط قسم کي  غذا اور موٹاپے کو بھي شامل کيا جا تا ہے- اس مرض کے باعث  صرف مريض کا  رہن سہن کا انداز ہي متاثر نہيں  ہوتا ہے بلکہ امراض دل،  دماغ ميں ورم  اور ذہني امراض  کا خطرہ بھي ہوتا ہے-

امريکہ ميں ايک تحقيقي ٹيم  نےحال ہي ميں  ذيابيطس کي ايک عام قسم ٹائپ ٹو کا  ايک ايسا علاج دريافت کيا ہے جو چوہوں ميں يہ مرض ختم کرنے ميں کامياب رہا- امريکي رياست ميزوري ميں واقع واشنگٹن يونيورسٹي اسکول آف ميڈيسن ميں بيمار چوہوں کا علاج ايک مخصوص قدرتي کيميائي مرکب سے  کيا گيا تھا-

 پروفيسرشن اچيرو ايمائي کےمطابق ممکن ہے اس کيميائي مرکب کو انسانوں ميں استعمال کيا جا سکے، کيونکہ انسانوں ميں اس کے انہي ممکنہ اثرات کي توقع ہے جو چوہوں ميں ظاہر ہوئے  تھے-

 وہ کہتے ہيں کہ ہم نے چوہوں کو انتہائي مرغن غذا کھلائي جو انہيں بہت پسند آئي- اور کچھ عرصے کے بعد انہيں ذيابيطس ٹائپ ٹو کا مرض ہو گيا- ہم نے  کيميائي مرکب اين ايم اين کے اثرات جانچنے کےليے يہي ماڈل استعمال کيا جو بہت کامياب رہا -

 وہ کہتے ہيں کہ اس تحقيق سے ظاہر ہوا کہ عمر ميں اضافے کے ساتھ، اور مرغن غذا کھانے سے جسم ميں قدرتي طور پر اين ايم اين کي افزائش متاثر ہوتي ہے جس کے نتيجے ميں ذيابيطس کا خطرہ بڑھ جا تا ہے - سائنس دان  اب جاپان کي ايک کمپني کے ساتھ مل کر اين ايم اين نامي اس کيميائي مرکب کو انسانوں ميں استعمال کے موزوں  بنانے کي کوشش کر رہے ہيں-

 انہيں اميد ہے کہ کسي دن لوگ  ذيابيطس  کے علاج يا اس مرض سے بچاو کےليے بالکال عام گوليوں کي طرح اس کيمائي مرکب کي گولياں بھي استعمال کر سکيں گے-

Last modified on شنبه, 03 خرداد 1393 10:03
Login to post comments