×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ویران صحت، اجڑا چہرہ اور تندرستی کی کرن

دی 30, 1393 443

اس کا چہرہ دمک رہا تھا ۔ پیشانی چمک رہی تھی ۔ انگ انگ سے خو شی ٹپک رہی تھی اور بار بار مسکرا مسکرا کر وہ ایک بات کہتا تھا، 

آج بارہ سال ہوگئے ہیںمجھے پھر وہ تکلیف ہر گز نہیںہوئی ۔ ہاں یہ ہے جب میں اس تکلیف کا تصور کرتا ہوں تو میری پیشانی پسینے سے تر ہو جا تی ہے اور اس مر ض کا خوف، جلن ، دکھن ایسی کیفیت پیدا کر تی ہے کہ میں کا نپ جاتا ہو ںمگر اگلے ہی لمحے میری پیشانی شکر سے جھک جاتی ہے ۔ میری شلوار ہر وقت خون سے تر بتر رہتی تھی ۔ سیٹ ، مو ٹر سائیکل اور گاڑی پر سفر کرنامیرے لیے دشوار تھا ۔ جب قابض اور بادی چیزیں کھا لیتا، وہ دن میرے لیے نہا یت پریشان کن اور مشکل ہو تا۔ کئی لو گو ں نے کہا اس بوا سیر کاآپریشن کروالو ۔ میں نے اس آپریشن سے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ بچ سکا۔ میں نے آپریشن سے بچنے کے لیے دوائیں کھائیں، پرہیز کر کر کے تنگ آگیا مگر مجبو راًمجھے آپریشن کروانا ہی پڑا۔ بہت سخت اور مشکل مرحلہ تھا ۔ کچھ عرصہ احتیا ط کی۔ ہا ں یہ فائدہ ضرور ہو ا کہ میں بالکل تند رست ہو گیا ۔ ہر چیز کھانے پینے لگا، خون کا بہنا، اجا بت کے بعد جلن اور تکلیف، طبیعت کی نڈھا لی ، دور ہو کر مرض سے سے افاقہ ہو گیا ۔ ایک رات اچانک مجھے پھر اسی تکلیف کا احساس ہوا اور میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ایک دم اسی سابقہ تکلیف کا بھر پور احساس ہو ا۔ درد کو ختم کرنے کی دوا تلا ش کرنے لگا جو کہ بہت پہلے میں رکھ کر بھول گیا تھا ۔ ایک طر ف تکلیف اور دوسری طرف دوا کی تلا ش ۔ پھر کو شش یہ بھی تھی کہ گھر والوں کو تکلیف سے بچا لو ں ۔ میری وجہ سے ان کی نیند خرا ب نہ ہو ۔ بڑی مشکل سے درد ختم کرنے والی دوائیں ملی ۔ استعمال کی لیکن فائدہ نہ ہوا ۔ چبھن، ٹیسیںاور درد بڑھتا گیا ۔ ایمرجنسی میں ایک ڈاکٹر کے پا س پہنچا ۔ بوا سیر کے درد نے بے چین کیا ہو ا تھا ۔ جب ڈاکٹر کے منہ سے یہ لفظ نکلا کہ ٓاپریشن کے بعد دوا بہت دیر سے اثر کر تی ہے تو پریشانی اور بڑھ گئی ۔ اب پھر وہی دوائیں ، پرہیز اور میری زندگی کی پریشانی ۔ یقین جانئیے میں زندگی سے عا جزآگیا ۔ وہ بوا سیر تھی یا کوئی نا قابل علا ج مر ض یا نا قابل تسخیر مہم ۔ روز رو رو کر اللہ سے دعا کرتا۔ ایک دن کیا ہو اکہ ایک پرانے دوست ملے۔ جو 35 سال سے سعودی عرب میں ملا زمت کر تے ہیں ۔ میری صحت،طبیعت اور بے قراری کو دیکھ کر سب احوال پو چھے۔ جب میں نے اپنا سا را غم بتایا تو کہنے لگے یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ میں سا بقہ دواؤں کی طر ح ان کی بات پر بے یقین رہا۔ خودگئے اور پنساری کی دکان سے ایک پا ؤ میتھرے ( جو اچار میں ڈالتے ہیں ) اور ایک پا ؤچھوٹی الائچی دونو ں کو اکٹھا باریک پسوا لیا، ڈبے میں محفوظ کر کے میرے پا س لے آئے اور کہا لوپرانی دوستی کے نا طے ایک تحفہ دیتا ہو ں ۔ استعمال کرو اورانشاءاللہ شفایا بی پا ؤ۔ میں نے بے یقینی سے ایک چمچ صبح اور ایک شام استعمال کرنا شرو ع کر دیا۔ چند خوراکوں سے مجھے محسو س ہو ا کہ واقعی میں تند رست ہو رہا ہوں اور صرف دو ہفتے میں نے یہ دوا استعمال کی اور ایسے محسو س ہوا جیسے میں آج تک مریض تھا ہی نہیں ۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں اس دن بہت خو ش تھا ۔ ایک بکر ا ذبح کیا ۔ خوب بہترین پلا ؤ پکایا ۔ خود بھی کھا یا اور اپنے احباب کو کھلایا۔ آج اس لیے میرا چہرہ دمک رہا ہے اورمیں خوش ہو ں ۔ پھر میں نے یہ نسخہ اپنے جیسے اوروں کو دینا شروع کردیا ۔ جس کو بھی دیتا وہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تندرست ہو جا تا ہے، بواسیر جڑ سے اکھڑ جا تی ہے ۔ یقین جا نئیے بواسیر بادی یا خونی، موکے ہو ں یا خشک ان سب کے لیے لو گو ںنے تصدیق کر نا شروع کردی ۔ جو بھی لیتا دعائیں دیتا ۔ پھر لوگوں نے مجھ سے نسخہ پو چھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا میں بنا کر تو دے سکتا ہو ں، نسخہ نہیں دے سکتا ۔ اب تو عالم یہ ہو ا کہ لو گ دور دور سے آنے لگے اور بواسیر کے علا وہ لوگوں نے اس کے اور فائدے بتانے بھی شروع کر دیے ،جو میرے علم میں بھی نہیں تھے ۔ مثلاً ایک صاحب کہنے لگے اس دوائی سے اب تک 23 ہیپا ٹائٹس کے مریض تندرست ہوئے۔ جو انجکشن کا کو ر س کرنے کے بعد لاکھو ں روپیہ لگا نے کے بعد بھی لا علا ج تھے ۔ لو ہے کی دکان کے مالک ایک شیخ صاحب یہ دوائی کئی سا لو ں سے مسلسل لے جا رہے تھے ۔ میں نے کہا آپ کے بوا سیر کے مریض ابھی تک تندرست نہیں ہوئے ۔ ہنس کرکہنے لگے ۔ حاجی صاحب آپ کو پتا ہی نہیں اس دوائی کے او ر بہت سے فائدے ہیں۔ ہیپا ٹائٹس کے ما یو س مریضوں کو دیتا ہو ں ۔ مہینہ ، دو مہینے یا اس سے زیادہ اور بعض اس سے بھی کم عرصے میں تندرست ہو تے دیکھے ہیں ۔ جو ڑوں کے درد کے پرانے سے پرانے مریض جن کے جسم کا کوئی بھی حصہ حرکت نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ تندرست ہو ئے ۔ عام اعصابی کمزور ی ،جسمانی کمزوری ،پٹھوں کا کچھاؤ ، تھکان ، عورتوں اور مردو ں کے کمر کا درد ، مہروں اور ڈسک کے مسائل حیرت انگیز طور پر بہتر ہوئے ۔ بلکہ عجیب بات یہ ہے کئی مریضوں کے دل کے والو کھل گئے اور گِن کر میں نے اب تک 63 مریضوں کو یہ دوا دی ہے ۔ جو ازدواجی زندگی سے باکل غیر مطمئن اور ما یوس تھے ان میں جوان ، بڑے بوڑھے تک شامل ہیں ۔ خوا تین میں ایام کی بے قاعدگی ، مو ٹا پا اور لیکوریا کے امراض کے لیے یہ نسخہ بہت مفید ہے۔ مر دو ں میں اولا د کے جرا ثیمو ں کی کمی تک کو دور کر تا ہے ۔ شیخ صاحب ایک ہی سانس میں یہ ساری بات کہہ گئے اور میں حیرت سے ان کا منہ تکتا رہ گیا کہ میرے پا س اتنا قیمتی نسخہ ہے اور مجھے اس کی قدر دانی نہیں ۔ ایک ریٹا ئر حوالدار سے میں نے سوال کیا کہ آپ بہت عرصے سے یہ دوائی لے جاتے ہیں ۔ آخر کیا کر تے ہیں ؟کہنے لگے میں گزشتہ سات سال سے وقتا فوقتا یہ دوا لے جا تا ہو ں ۔ بے اولا د جو ڑے مرد بھی اور عورت بھی پانچ ماہ یہ کھا لیں تو انشاءاللہ شرطیہ بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ جو ڑوں کے درد، اعصابی کمزوری، بالو ں کی سفیدی ، دائمی نزلہ اور زکام سینکڑوں چھینکوںکا روز آنا ، معدے کی گیس اور جلن ، تیز ابیت ، دائمی قبض اور آنتوں کی خشکی ، ان سب کے لیے ایک چھوٹا چمچ گرم دودھ یا پانی کے ساتھ صبح و شام دیتا ہو ں ۔ایک مریض دوسرے مریض لا تا ہے ۔ آپ لوگو ں سے اپنے سینے کے راز نہیں چھپاتے لہذا آج میں اتنا لمبا سفر کرکے محض آپ کو یہ نسخہ بتانے آیا ہو ں ۔ قارئین حاجی صاحب نے جو سینے کا را ز ڈر تے ڈرتے اور چھپتے چھپتے مجھے بتایا ہے وہ آپ کی نظر کر تا ہو ں ۔ اس کے مزید فوائد اور نتا ئج مجھے بتانا نہ بھو لیے گا ۔

Last modified on سه شنبه, 30 دی 1393 05:39
Login to post comments