×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مردانہ بے اولادی کا ایک سبب

بهمن 01, 1393 473

مر دانہ بے اولا دی کا ایک اہم سبب ما دئہ حیا ت میں کرم منی (اسپرمز ) کی کمی اور ان کی کمزوری ہو تا ہے ۔ لیکن ان کی کثرت بھی بے 

اولا د ی کا سبب ہو تی ہے ۔ ایسی صورت میں فی ملی لیٹرمردانہ جوہر میں ان سپرمز کی تعداد 250ملین یعنی 25کروڑ سے زیا دہ ہو تی ہے ۔ دنیا کے دیگر معا شروں کی طر ح پاکستان میں بھی اولا د کا ہو نا مردانہ بر تری کی اہم علا مت سمجھا جاتا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں ، جن مر دو ں کے ما دئہ حیات میں اسپرمز کم ہو تے ہیں ان کے صاحب اولا د ہونے کے امکانا ت بھی کم ہو تے ہیں ۔ پاکستان میں بے اولا دی کا تما م تر ذمے دار خوا تین کوسمجھا جا تاہے جب کہ خو دمر د کی یہ کمی اس کا ایک سبب ہوتی ہے۔ آج جب کہ اس کا کھو ج لگانے کے وسائل حاصل ہیں، مر د کی اس خامی کا بہ آسانی کھو ج لگا یا جا سکتا ہے ۔ نا رمل تعداد کیا ہے ؟ ما دئہ حیا ت میں کرم منی کی کم از کم تعداد250 ملین فی ملی لیٹر ہے۔ اس سے کم تعداد کو طبی اصطلا ح میں کمی یا فقدان منی (Azoospermia ) کہتے ہیں ۔ اس طر ح منی میں ملی لیٹر250 ملین سے زیا دہ اسپرمز کی مو جو د گی حوینِ مجتمعہ (Polyzoospermia ) کہلا تی ہے ۔ یہ کیفیت معمول کے مطابق نہیں سمجھی جا تی اور یہ شا ذ صور ت قرار دی جا تی ہے ۔ اس سلسلے میں ما ضی میں بھی پا کستا نی مردو ں میںان دونو ں کیفیات پر تحقیق ہو چکی ہے، لیکن پچھلے پانچ سال میں اندرون و بیرون ملک 1201 پاکستانی مردوں میں ان دونو ں کیفیا ت کا مزید کھو ج لگایا گیا ہے تحقیق کا طریقہ نیشنل ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ آف دی پروڈیکٹو فزیا لو جی ، نیشنل انسٹی ٹیو ٹ آف ہیلتھ اسلام آباد ، ڈیپا رٹمنٹ آف بایولوجیکل سائنسز ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، وزراتِ صحت مسقط اومان میں ہونے والی اس مشترکہ تحقیق میں مختلف ہسپتا لو ں سے مریضو ں کے ما دئہ حیات کے نمونے حاصل کر کے تحقیق کے لیے بھیجے گئے تھے ۔ اس کا مقصد ان میں اسپرمز کی کمی یا کثرت کا کھو ج لگا نا تھا۔ اس تحقیق میںما دئہ حیا ت کی مقدار ، اس میں اسپرمز کی نقل و حرکت کی صلا حیت اور تعداد کا تعین عالمی ادارئہ صحت کے مقررہ معیا ر کے مطابق کیا گیا ۔ نتائج شامل تحقیق 1201مریضوں کے ان نمو نو ں کے تجزیے سے انکشا ف ہو اکہ صرف تین مریضو ں میں کثرت کرم (0.025فی صد) کی کیفیت مو جو د تھی ۔ اس کے بر خلا ف کثرت کر م کی شر ح دیگر ملکو ں میں یہ تھی ۔ میکسیکو13 فیصد ، جرمنی 1.75 فی صد ، جنو بی افریقہ 5 فی صد، امریکا 4.2 فی صد پائی گئی ۔ ان مریضوں میں سے صرف دو میں 2 ملی لیٹر سے کم منی پائی گئی ، لیکن اور خصوصیا ت جیسے اسپرمز کی نقل و حر کت وغیر ہ معمول کے مطابق تھے ۔ 2 ملی لیٹر منی والے مر د کے ما دئہ حیا ت میں سر گرم نقل و حرکت 36 فی صد پائی گئی ۔ مادئہ حیا ت میں اسپرمز کی سب سے زیا دہ تعداد 660 ملین ملی لیٹر پائی گئی جب کہ اس سے پہلے امریکا کے ایک مطا لعے میں انتہائی تعداد ۵۷ئ۱ بلین درج ہو چکی ہے ۔ اس سے قبل پاکستان میں بھی اسپرمز کی انتہائی تعداد 600 ملین درج ہوئی تھی ۔ کثرتِ اسپرمز کی صورت میں کرم منی کی نقل و حرکت کی صلاحیت یا گنجا ئش کم ہو جا تی ہے ۔ ایسی صورت میں اسپرمز کے اگلے سرے جو بر چھی جیسے ہوتے ہیں ، زنانہ انڈے میں داخل ہونے کی صلا حیت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے استقرار حمل کا عمل نہیں ہو تا۔ بے اولا دی کے سلسلے میں اس کیفیت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ۔ اسپرمز کی کمی ہی نہیں ، ان کی کثرت بھی اس کا ایک اہم سبب ہو سکتی ہے ۔ پاکستان میں اس سلسلے میں مزید تحقیق کی بڑی ضرورت ہے۔

Last modified on چهارشنبه, 01 بهمن 1393 06:33
Login to post comments