Print this page

تربوز سے تپتی دھوپ میں ٹھنڈک کا احساس

بهمن 01, 1393 720
Rate this item
(0 votes)

اس دور میں لو گ اپنے علاوہ کسی کا خیال بھی دل میں لا نا گوارہ نہیں کر تے اور آپ بحکم پروردگار مخلوق ِ خداکی خدمت میں

مصروف ہیں ۔ چند دن پہلے میں کوہاٹ بازار کسی کام سے گیا تھا تو بکسٹال سے کچھ کتا بیں خریدیں تو ماہنامہ عبقری پر نظر پڑی وہا ںسے فوراً اٹھا لیا اور وہاں پرایک دوست کی دکا ن پر بیٹھ کر پڑھنا شروع کیا۔ اچھا لگا، واپس بک سٹال پر گیا اور چند اور عبقری اٹھا لا یا اور اپنے عزیزو ں اور دوستوں کوبطور گفٹ پڑھنے کے لیے دئیے ۔ سب نے تعریف کی۔ محترم ایک تحریر ارسال خدمت ہے اگر اشاعت کے قابل سمجھیں تو ضرور شائع کیجئے گا ۔ تر بو ز گرمیو ں کی سو غات : تر بو ز مو سم گرما کی ممکنہ تکا لیف کے خلا ف ڈھا ل ہے ۔ تپتی دھو پ میں جب سور ج سر پر ہو تا ہے غضب کی گرمی پڑتی ہے اور کسی بھی طر ح چین حاصل نہیں ہو تا۔ پیا س کا شدت سے احساس ہو تاہے تو ایسے میں تر بو ز نہ صرف پیا س بجھا تا ہے بلکہ جسم کو توانائی اور فرحت بھی بخشتا ہے۔ تر بو ز کا رنگ اوپر سے ہلکا سبز اور گہرا سبز ہو تاہے۔ کچی حالت میں اس کے گودے کا رنگ سفید ہو تاہے او رپکنے کے بعد سر خ ہو جا تاہے ۔ شیریں ذائقے کی وجہ سے پو ری دنیا میں ذوق و شوق سے کھا یا جا تا ہے۔ تر بو ز اپنی خصوصیا ت کی بناءپر ایک صحت مند پھل ہے جبکہ دیگر پھلو ں کی بہ نسبت اس کی قیمت بھی کم ہو تی ہے۔ جسم کی قوت اور توانائی کے لیے اور جسم میں پا نی کی کمی کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے استعمال کرنا چاہیے۔ اس میں فولا د ، فاسفورس ، روغنی اجزا، پو ٹاشیم ، نشا ستے دار شکر ی اجزا ءاور وٹامن اے ،بی اور ڈی کے علا وہ گلو کو ز بھی ہو تا ہے۔ تر بو ز میں گلوکو ز وافر مقدار میں ہوتا ہے ۔ اس لیے پانی میں گلوکو ز پاؤڈر ڈال کر پینے سے بہتر ہے کہ تربوز کے وٹا منز کو استعمال کیا جائے۔ تر بو ز کا مزاج سرد تر ہو تاہے چنا نچہ یہ مو سم گرما کی شدت اور لوکے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تر بو ز کو اگر صبح نہا ر منہ استعمال کیا جائے تو جسم کو پورے دن جو پانی کی ضرورت ہو تی ہے اس سے پوری کی جا سکتی ہے۔ تربو ز کو کھا نا کھا نے کے فوراً بعد یا فوراً پہلے استعمال نہیں کر نا چاہیے کیونکہ کھانا دیر سے ہضم ہو تاہے اور تر بو ز تیزی سے ہضم ہو تاہے ۔کھا نا تربوز کے جلد ہضم ہونے میں رکا وٹ بنتا ہے ۔ اس لیے بد ہضمی، اپھا رہ اور دستوں کی شکا یت ہو سکتی ہے۔ تر بو ز کھا نا کھانے کے دو سے تین گھنٹے بعد کھا نا چاہیے ۔تر بوز کے متعلق یہ وہم ہے کہ اسے زیا دہ کھا نے سے ہیضہ ہو جا تاہے یا تر بو ز کے بعد پا نی پینے سے نقصان ہو تاہے، یہ مفروضہ غلط ہے۔ تر بو ز میں خو د 93% پانی ہو تا ہے اس لیے مزید پانی سے کسی ردِ عمل کا خطرہ نہیں ہوتا۔ تربوز کھا نے کے فوراً بعد خو ن میں پانی اور گلو کو ز کی مقدار میں اضا فہ ہو جا تاہے۔ گلوکو ز خلیا ت میں تیزی سے جذب ہو کر کمزوری ،د رد سر اور گھبراہٹ کی علا مات کو ختم کر دیتا ہے جبکہ اس کا پانی دوران خون میں شامل ہو کر رگو ں میںگر دش کر تا ہواگردو ں میں پہنچتا ہے جہا ں خون کی صفا ئی ہو تی ہے اور پانی کی زائد مقدار پیشاب کے را ستے جسم سے خارج ہو جاتی ہے ۔ تر بو ز میں وٹامنز کی خاصی مقدار کی وجہ سے بھی یہ فائدہ مند ہے۔ اس میں مو جو د وٹا من اے جسم میں بیما ریو ں کے خلا ف قوت مدافعت پید ا کر تا ہے ۔یہ مریضو ں اور بچو ں کو بھی منا سب مقدار میں کھلا یا جا سکتا ہے ۔ تر بو ز میں پانی کی زیادہ مقدار اور غذائیت کی وجہ سے یر قان کے مریضو ں کے لیے بھی مفید ہے۔ یہ حاملہ خو اتین اور دودھ پلانے والی خوا تین کے لیے بھی مفید ہے ۔ اگر نظام ہضم درست نہ ہو تو سیا ہ مر چ ، سفید زیرہ اور نمک پیس کر رکھ لیں تر بو ز کے ٹکڑے کا ٹ کر اس پر چھڑک کر کھائیں نہ صرف یہ زیا دہ لذیذ ہو جا تا ہے بلکہ ہاضمے کی بہترین دوا بن جاتاہے اور نظام ہضم کی اصلا ح کر تا ہے ۔ ہائی بلڈپریشر کی صور ت میں تربو ز کھا نے سے پیشا ب زیا دہ مقدار میں آتا ہے اسطر ح بلڈ پریشر کم ہو جا تاہے جبکہ لو بلڈ پریشر میں دل کو فرحت بخشتا ہے اور توانائی کے لیے گلو کو ز فراہم کر تا ہے۔ سر کا درد ، گرمی سے ہوتو ایک گلا س تر بوز کا رس لیکر اس میں مصری ملائیں اور صبح کے وقت پئیں۔ چند دن پینے سے سر درد دورہو جا ئے گا ۔ گر دو ں اور مثانے کی گرمی کو ختم کر نے کے لیے روزانہ تر بوز کھائیں۔ اگر تربو ز کا مو سم نہ ہو تو اسکے بیج (چھلے ہوئے) پانی میں گھوٹ کر سر دائی بنا کر پی لیں، حرارت ختم ہو جائے گی ۔ بار با ر پانی پینے سے بھی پیاس کی شدت کم نہ ہو تو دن میں تین بار تربوز کا پانی پلا نے سے پیا س کی شدت فوراً دور ہو جاتی ہے ۔قبض دور کرنے کی دواؤ ں کے ساتھ تربوز کا استعمال بہت مفید ہے۔ تر بو ز بھی قبض دور کرنے میں معا ون ہے ۔ تر بو ز پیشا ب آور ہے ۔ چنانچہ یہ گردے اور مثانے میں پتھری بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ معدے کی سوزش اور پیشاب کی جلن کو بھی ختم کر دیتا ہے ۔ اگر متلی اور قے کی شکایت رہتی ہو تو روزانہ صبح کے وقت 20 تولہ تر بو ز کے بیج (چھلے ہوئے) پانی میں مصر ی ملا کر پئیں، قے کی شکایت دور ہو جائے گی ۔ دل کی تیز دھڑکن اور کمزوری کے لیے تر بو ز کے بیج ایک تولہ (چھلے ہوئے) پانی میں گھوٹ کر میٹھا ملا کر دن میں تین مرتبہ پئیں، دل کے لیے بہت مفید ہے ۔ اگر ہو نٹ پھٹنے کی شکا یت ہو تو تربو ز کے بیجو ں کا لیپ فائدہ مند ہوتاہے تھوڑے سے بیج باریک پیس کر رات سو تے وقت ہو نٹوں پر لیپ کیجئے جلد آرام آجا ئے گا۔ تر بو ز کا شر بت سر خ رنگ کے پکے ہو ئے تر بو ز کا رس نکالئے ۔ایک کلو رس میں ایک کلو چینی شامل کر کے درمیا نی آنچ پرپکائیں، جب گاڑھا ہو جائے تو چولہے سے اتار لیں۔ شربت تیا رہے۔ دن میں تین بار پانی میں ملا کر استعمال کریں صفراوی بخار پیا س اور گرمی کی شدت کو دور کرتاہے ۔ خشک کھا نسی کے لیے 250 گرام تر بو ز کے رس میں اتنی ہی چینی ڈال کر درمیانی آنچ پر پکا ئیں جب چاشنی گاڑھی ہو جائے تو گوند کیکر، گو ند کتیرا ، ست ملٹھی اور چھوٹی الا ئچی کے دانے دس دس گرام سب چیزو ں کو بار یک پیس کر چاشنی میںملا لیں اور اچھی طر ح گھوٹ کر اتار لیں ۔ خشک کھا نسی کے لیے یہ دوا بہت فائدے مند ہے ۔دس گرام صبح کے وقت کھائیں ۔ تربوز کے چھلکو ں کی ترکاری ۔ تر بو ز کے ہر ے چھلکے لیکر اس کا سفید حصہ علیحدہ کر دیں ایک ایک انچ کے ٹکڑے باریک کا ٹ لیں۔ پیا ز گھی میں لا ل کر کے اس میں نمک ، مرچ ، ہلدی ، لہسن ملا کر بھون لیں اور اس میں تر بو ز کے چھلکے ڈال دیں تھوڑا سا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکا کر اتار لیں۔ مزیدار تر کا ری تیا رہے ۔

Login to post comments