×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جون میں اچھی عادات اور متوازن غذائیں

بهمن 02, 1393 451

اس مو سم میں سور ج چونکہ منطقہ حارہ سے قریب ہو تا جا تا ہے ۔ اس میں حرارت کی شدت ہو جا تی ہے ۔ اکثر اوقات تیز ہوائیں

آندھی کا باعث بن جا تی ہیں یا کبھی ہوا میں ٹھہراؤ کی وجہ سے حبس پیدا ہو کر تنگی تنفس کا باعث ہو تاہے ۔ اس ما ہ میں بلغم اور خون کا غلبہ جا تا رہتا ہے اور صفرا وی خلط کا زور شروع ہو جا تاہے ۔ چونکہ اس خلط کا مزاج گرم خشک ہے اس لیے اس کی کثرت کے با عث انسان کو پیا س کی شدت محسوس ہو تی ہے ۔ ایک مر تبہ پانی پینے سے تسلی نہیں ہو تی ۔ اس لیے انسان بار بار پانی پینے پر مجبو ر ہو تا ہے ۔ منہ کاذائقہ کڑوا رہتا ہے ، زبان خشک ہو تی ہے اور حلق میں کا نٹے پڑ جاتے ہیں ۔ سایہ میں رہنے والوں کی جلد زرد اور دھو پ میں کام کرنے والو ں کی سیا ہ ہو جا تی ہے اور یہ رنگت ما دہ ملونہ کی کمی بیشی پر منحصر ہے، بھوک نہیں لگتی ۔ اس ماہ کی بیما ریا ں حرقہ البو ل (پیشا ب کا جل کر آنا )بعض اوقات سوزاک ، اکثر قبض کی شکایت ، گا ہے اسہا ل ، خونی پیچس ، ضعف جگر ، جگر کا سو ، مزاج حار ، ضعف معدہ ،مرا رہ (پتہ )کا در د، خفقان قلب، درد سر شقیقہ ،یر قان ، مو سمی بخار ، گردن توڑ بخار، متلی اور ہیضہ وغیرہ ہیں ۔ ماہ جو ن کی غذائیں (1) پھل اور میوہ جا ت میں خا ص طور پر انگو ر، خر بو زہ ، چوسنے کا آم ، انجیر ، سیب ، خو با نی ، نا شپا تی ، امر ود ، آلو چہ ، آلو بخارا ،میٹھا لیمو ں ، سنگترہ مو سمی (یا ان کا رس علیحدہ نکلوا کر پیا جائے ) مو یز منقی ، کشمش با دام ، اخروٹ ، مو نگ پھلی وغیرہ ۔ (2) تر کا ریو ں میں شلغم ، چقندر ، مولی ، گا جر ، ٹما ٹر ، خر فہ اور پا لک کا سا گ ، سلا د (کاہو کے پتے ) کرم کلہ وغیرہ ، امرود ، گاجر، کا ہو اور کرم کلہ کے پتوں کا سلاد دن میں دو مر تبہ استعمال کیا جائے ۔ (3) گو شت میں جگر (کلیجی )دل، گر دے اور لبلبہ اس کے تکے بھو ن کر کھا ئے جائیں۔ ویسے تر کا ری کے ساتھ بکری کا گوشت بھی اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ گو شت میں جگر ، دل ، گر دے اور لبلبہ اعلی درجہ کی غذائیت کے حامل سمجھے جا تے ہیں ۔ ان میں سے ایک چیز یا دو چیزیں ہفتہ میںایک یادو دفعہ کھا ئی جائیں تو بہت فائدہ ہو گا ۔ انہیں رو کھا کھا نا زیادہ منا سب ہے ۔ (4) اناج بغیر چھنا ، ہلکی رفتار والی چکی سے پسا ہوا ۔ گیہو ں جئی یا جو کا آٹا جس کی روٹی پکائی جا ئے اور گیہو ں اور جئی کا دلیا بھی خوب استعمال کیا جائے۔ بھورے چا ول ، جن کو مشین سے صا ف نہ کیا گیا ہو ۔ دالیں چھلکو ں سمیت استعما ل کی جائیں ۔ اگر بغیر چھنا آٹا میسر نہ آئے تو آٹے میں بھو سی ملا کر اس کی روٹی پکوائیں ۔ا یک سیر آٹے میں ۵ تولہ یعنی چھٹا نک بھر بھوسی کا فی ہو گی یہ بھو سی اور ریشہ دار تر کا ریاں آنتو ں کی دیواروں سے چمٹے ہو ئے فضلا ت کو کھر چ کر چھڑا دیتی ہیں ۔ (5) مشروبا ت میں میٹھا دودھ ، چھاچھ اور پانی۔ سفید شکر کے بجائے دیسی کھا نڈ اور شہد خالص استعمال کریں ماہ جون میں اچھی عا دات (i) ہمیشہ کھا نا اچھی طر ح چبا کر کھا ئیے اورآہستہ کھائیے (ii) کھا نے کے جو اوقات مقرر ہو ں کو شش کیجئے کہ ان کی پابندی کی جائے (iii) دو کھا نو ں کے درمیا ن کچھ نہ کھایا جا ئے (iv) چھ گلا س سے آٹھ گلا س تک روزانہ پا نی پیجئے (v) پانی پینے کے بہترین اوقات تین ہیں ۔ صبح اٹھتے ہی ، کھانے سے آدھ گھنٹے قبل اور کھانے کے دو گھنٹے بعد۔ اس کے بعد جب پیا س لگے ۔ (vi)پانی تین چا ر گھونٹو ں میں پیا جا ئے اور آہستہ آہستہ پیا جائے ۔ اگر پانی میں تھوڑا سا لیموں کا رس ملا لیا جائے تو اور بھی اچھا ہے۔ (vii)رفع حاجت کے لیے صبح اٹھتے ہی ایک گلا س پانی پی کر جانے کی عادت ڈالیے۔ (viii)اپنی نشست کے طریقے کی بھی اصلا ح کیجئے ۔ فر ش پریا کر سی پر سیدھے بیٹھئے ۔مستقلا ً جھک کر بیٹھنے سے بھی آنتیں سست پڑ جا تی ہیں ۔ (ix) ابتدا ءً جب ان تدا بیر کو شروع کیا جائیتو قبض کی شدت کو اس طر ح بھی کم کیا جا سکتا ہے کہ آپ ایک یا دو بڑے چمچے روغن زیتون کے سوتے وقت پی لیا کریں ۔ اگر روغن زیتون میسر نہ آئے یا آپ اسے پسندنہ کریں تو پھر سوتے وقت مویز منقی یا انجیر خشک کے چند دانے کھا لیا کریں ۔ (x) شدید قبض کی صو ر ت میں آپ چند دن تک برا بر نیم گرم پانی کا انیما (ENEMA ) بھی لے سکتے ہیں ۔ اس کے بعد مویز منقی کا پانی پیا کریں ۔ اس کے بنانے کی ترکیب یہ ہے کہ5-10 دانہ مویز منقی صبح کے وقت ایک گلا س پانی میں بھگودیں ۔ اگر ممکن ہو تو نصف لیمو ں کا رس بھی اس میں ڈال دیں ۔ 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد یعنی اگلے روز صبح کو اٹھتے ہی اس کا پانی نتھار کر پی لیں ۔ یہی مویز منقی کا پانی کہلا تا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ شر ط ہے کہ اس کے پیتے ہی اجابت کے لیے جائیں خوا ہ رفع حاجت کا احساس ہوکہ نہ ہو ۔ کچھ دن اس طرح کرنے سے اس وقت اجا بت یا فراغت ہونے لگے گی۔ (xi)کھانے کے فوراً بعد قربت سخت مضر ہے ۔ اس سے نظام ہضم تبا ہ ہو جا تاہے اور آنتوں میں خرا بی پیدا ہو جاتی ہے ۔ کھانے اور قربت کے درمیا ن کم سے کم تین گھنٹے کا وقفہ ضروری ہے۔

Login to post comments