×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جنسی توانائی کے لیے ورزش اور صحیح غذا کی اہمیت

بهمن 02, 1393 537

قدیم چین اور مصر کے معالجین کی رائے میں جنس کا صحت سے بڑا گہر ا تعلق ہو تا ہے ۔ یہ معالجین مقویِ با ہ دواؤ ں کی اہمیت

کو تسلیم کرنے کے علا وہ ان کے استعمال پر بھی زور دیتے تھے ۔ جدید سائنس دان اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ قدیم معالجین کا یہ نظریہ درست تھا ۔ جنسی سر گرمی ، بہترین مدافعتی اور شفا بخش سر گرمی ہوتی ہے ۔ میاں بیوی کا مقدس رشتہ سان فرانسکو کے ادارے ایڈوانسڈاسٹڈی اوف ہیو من سیکسوالٹی کے صدر ڈاکٹر میک الوانا کے مطابق مطالعات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جنسی ملا پ سے جسم کی قوتِ مدافعت بڑھ جا تی ہے ، درد دور ہو تے ہیں اور غدودوں کا نظام متوازن اور چوکس رہتا ہے ۔ایک اور ڈاکٹر ڈبلیو کٹلر کے مطابق جنسی ملا پ میں با قاعدگی سے ہا رمو نی افزائش اور اس کا بہا ؤ درست رہتا ہے جس کے نتیجے میں عورت کی صحت بہترین اور عمر طویل ہو تی ہے ۔ ایک اور ماہر سنتھیا مروس واٹسن کے مطابق اب جب کہ جنسی امرا ض اور ایڈز عام ہو رہے ہیں ، ایک شریکِ حیا ت کے ساتھ تعلق بر قرار رکھنے ہی میں ان امراض سے حفا ظت ممکن ہے۔ آج ہم لو گ یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ مشرق کے قدیم معا لجین اور دانش وروں کا یہ خیا ل درست تھا کہ حسن و صحت صرف ان خواتین اور مر دوں کا حصہ ہوتے ہیں جو گہرے اعتماد اور محبت کے رشتے کے ساتھ ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیںیعنی شو ہر اور بیوی کے مقدس رشتے میں بندھے مر دو خواتین ہی جنسی لطافتوں اور اس کی پیچیدگیوں کو اچھی طر ح سمجھنے کی وجہ سے طما نیت حاصل کرتے ہیں اس سے ان کی صحتیں اچھی رہتیں ہیں ۔ پرمسرت زندگی کے راز دور حاضر میں جنسی کا رکر دگی کی سطح گر تی جا رہی ہے ۔ چنا نچہ اس سے تعلق رکھنے والے مسائل بڑھ رہے ہیں ۔ ڈاکٹر وائسن کی رائے میں جنسی ملا پ کی خوا ہش میں کمی کے طبی اسباب ہیں۔ چنا نچہ مہینے میں دودفعہ سے کم جنسی ملا پ کرنےوالے عورت و مر د بیسویں صدی کے اس اہم طبی مسئلے یعنی خواہش کی کمی کاشکارہیں ۔ ڈاکٹر وائسن کے مطا بق مر دو ں اور خو اتین میں اس خامی کے اہم اسباب میں دبا ؤ ( اسٹر یس ) ، مختلف دواؤ ں کا استعمال ، بازاری کھا نے ، وزن میں اضا فہ ، تمبا کو نو شی ، تفریحی دواؤ ں اور الکحل کا استعمال ، ما حو لیا تی آلود گی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ۔ یہ تمام عوامل مل کر جنسی توانا ئی کا خاتمہ کر رہے ہیں ۔ ان کے خیا ل میں اگر چہ امریکیو ں کی عمروں میں اضا فہ ہو رہا ہے ، لیکن ایسے شوا ہد نہیں ملتے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ان میں جنسی خوا ہش کم ہو رہی ہو ۔ ڈاکٹر وائسن کی را ئے میں ہر عورت و مر د، جوان اور بوڑھے ، صحت مند مگر جسمانی طور پر معذور اور سخت بیمار شخص میں بھی جنسی تسکین کی خوا ہش کا ہو نا ایک معقول بات ہے ۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے مقوی با ہ غذا اور دوا کا استعمال ضروری ہو تا ہے ۔ مقوی با ہ اشیا کے استعمال کے بارے میں ہر شخص کی اپنی رائے ہوتی ہے ۔ بعض کے خیا ل میں غذا ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے استعمال سے مردانہ طا قت اور توانائی بڑھ کر جنسی کا ر کر دگی بہتر ہو جائے ۔ مقوی با ہ غذا کو جو انی و شباب کا چشمہ ہو نا چاہیے ۔ ڈاکٹر وا ئسن کے مطابق مقوی باہ اشیا ایسی دوائیں یا نسخے نہیں ہوتے کہ جن کے ذریعے سے کسی معصوم شخص کو بہلا پھسلا کر آما دہ کر لیا جائے ۔ یہ اندا ز ”استحصال “ ہی کہلا سکتا ہے ۔ ا ن کی رائے میں مقوی با ہ شے وہ ہے کہ جس کے ذریعے سے جنسی فعل اور عمل ،پُر مسرت اور خو ش گوار بن جائے اور ایسی اشیا میں کوئی بوٹی یا غذا کے علا وہ رنگ ، خو شبو ئیں ، روشنی وغیرہ بھی شامل ہو سکتی ہیں ۔ متوازن غذا اور ورزش جنسی تسکین و راحت میں اضا فے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ایک ایسا طر ز ِ حیا ت اختیا ر کیا جائے جو متوازن ہو اور جس سے صحت میں اضا فہ ہو ۔ گو یا ا سکے لیے یہ ضرور ی ہے کہ سب سے پہلے منا سب اور اچھی غذا پر توجہ دی جائے ۔ ایسی غذا جس میں چکنا ئی کم ہو ، ریشہ زیا دہ ہو ،حرارے معتدل ہو ں ، سبزیا ں ، پھل اور انا ج خو ب شامل ہو ں ۔ اس کے بعد ورزش ضروری ہے ۔ جسمانی سر گرمی اور ہا تھ پاؤں کو متحرک رکھنے سے جنسی توانائی میں اضا فہ ہو تا ہے بشر طیکہ اس میں با قاعدگی ہو ۔ جسمانی مشقت یا ورزش سے جسم کے تمام نظام بالکل درست اور چست رہتے ہیں ۔ عضلا تی نظام بڑی عمدگی سے کا م کر تا رہتا ہے ، غدودوں اور ہضم کا نظام متوازن رہتا ہے یہا ں تک کہ جلد کی صحت اور اس کی رنگت نکھری نکھری اور جوان رہتی ہے ۔ عورت اور مر ددونو ں کی بہترین جنسی صلا حیت اور توانائی کے لیے الگ الگ ورزشیں ہو تی ہیں ۔ ان ورزشو ں سے ان کے وہ عضلا ت توانا ہو تے جو جنسی عمل میں استعمال ہو تے ہیں ۔ ان میں ائرو بک ورزشیں (جوگنگ ، سائیکلنگ اور تیراکی وغیرہ )بھی شامل ہیں ۔ ان سے عضلا ت میں لچک آتی ہے اور توانائی بڑھتی ہے ۔ کیگل (Kegal)ورزشیں یعنی پیڑوکے عضلا ت کو بار بار سکیڑنے اور ڈھیلا کرنے کی مشق سے خوا تین اور مر د دونوں کے جنسی اعضا پر بڑے خوش گوار اثرات مر تب ہو تے ہیں ۔ یو ں تو یہ ورزشیں پیشا ب نہ رکنے کی شکا یت کے لیے بہت مو ¿ثر سمجھی جا تی ہے ، لیکن ان ورزشو ں سے جنسی اعضا میں دوران خون کے تیز ہونے اسے ان کی کارکر دگی میں بھی اضافہ ہو جا تاہے ۔ ان عضلا ت کو مضبو ط بنانے کے لیے یو گا میں بھی کئی ورزشیں ہیں ۔ خو د سانس لینے کی ورزش یعنی پرانا یام میں سانس خارج کرنے کے بعد پیٹ کو بار بار سکیڑ تے رہنے سے آنتو ں کی حرکت میں اضا فے کے علا وہ اندرونی جنسی اعضا میں آکسیجن سے پر خون کی گر د ش بڑھ جاتی ہے جس سے ان کے رگ و ریشے مضبو ط ہو تے ہیں ۔ حواسِ خمسہ کا جنسی زندگی پر اثر ان تدا بیر و اقدامات کے علا وہ حوا سِ خمسہ کے استعمال و تحریک سے بھی جنسی توانائی کو بیدار اور تا زہ دم رکھنا چاہیے یعنی دیکھنے ، سونگھنے ، چھونے ، سننے اور چکھنے کی صلا حیتو ں سے کام لے کر بھی اس صلا حیت میں اضا فہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں یہ بات تسلیم کر نی پڑے گی کہ مشرقی قدیم طبو ں میں اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ چنا نچہ بعض خو شبو ؤ ںاور رنگو ں کو جنسی اشتعال اور تحریک کے لیے صدیو ں سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ مشر ق میں ” اگر “ کے علا وہ دیگر کئی عطریا ت کی ما لش اور استعمال کے علا وہ سرخ عروسی جو ڑے کی یہی اہمیت ہے ۔ سر خ رنگ سے اس طا قت کو تحریک ملتی ہے اور مخصو ص خوشبوئیں جذبات کو تیز کر دیتی ہیں ۔ اس طر ح روشنی خا ص طور پر ہلکی گلا بی روشنی نہ صرف آنکھو ںکو بھلی لگتی ہے بلکہ اس سے جلد بھی زیا دہ پر کشش ہو جا تی ہے ۔محبت بھر ے لمس کا اپنا جا دو ہے ۔ قدرتی آوازیں مثلا ً جھر نو ں کا ترنم ، آبشارو ں کی آواز وغیرہ کے ٹیپ اب بڑی آسانی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر وائسن کے مطابق سب سے زیاد ہ مقویِ با ہ شے جسم کی خو شبو ہے ۔ بدن کی خوشبو بڑی محرک ہو تی ہے اور یہ بڑی مختلف بھی ہو تی ہے ۔ ایک بو تو وہ ہے جو گھبراہٹ اور پریشانی کی وجہ سے آنے والے پسینے کی ہوتی ہے اور یہ کشش نہیں رکھتی ، دوسری وہ بو ہے کہ جو شریک حیا ت کے جسم سے خار ج ہو تی رہتی ہے ۔سائنس ان خوشبو ؤ ں کو ” فیرو مونز “کا نا م دیتی ہے ۔ ان میں فرق کر نا بہت مشکل ہو تاہے ۔ ہر شخص کی اپنی خوشبو ہو تی ہے جسے اس کا گہر ا ساتھی ہی محسو س کر سکتا ہے ۔ انگلی کی لکیرو ں کی طرح ہر ایک کے بدن کی اپنی الگ خوشبو ہوتی ہے۔ آپ مشرق میں عطریا ت کی اہمیت جانتے ہیں ۔ اب مغر ب بھی گلا ب، چنبیلی ، صندل ، الائچی ، لونگ، مشک وغیرہ کی خو شبو کو بڑی اہمیت دے رہا ہے ۔ چنا نچہ ان پر مشتمل آفٹر شیو لوشن ،پر فیوم وغیرہ بھی وہاں تیار ہو رہے ہیں ۔ جہا ں تک مقوی باہ غذاؤ ں کا تعلق ہے ، بقول ڈاکٹر واٹسن ہر انسانی معاشرہ ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کر تا ہے ۔مثلا مشرق بعید میں دریان نامی پھل کو صدیو ں سے نہایت مقوی با ہ قرار دیا جا تا ہے ۔ مقوی با ہ غذاؤ ں کی بڑی طویل فہرست ہے ۔ مغر ب نے اب تحقیق کے ذریعے سے مقوی با ہ حیاتین اور معدنی نمکیا ت کا کھوج بھی لگا یا ہے ،وہا ں ایسے امینو ایسڈ ز کا کھوج بھی لگا ہے ، جوغدودی اور اعصابی نظام کو مستحکم رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر واٹسن حسب ذیل حیاتین روزانہ کھا نے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں ۔: حیا تین ب الف (بی ا)یعنی تھایا مین ، روزانہ 100 ملی گرام حیا تین ب2 (بی 2 ) یعنی رائبو فلیوین ، روزانہ ایک سے 2 ملی گرام حیا تین ب 5 ( بی 5 ) یعنی پینٹو تھینک ایسڈ ،500 سے 1000ملی گرام روزانہ۔ حیا تین ب 6 ( بی 6 ) یعنی پا ئری ڈو کسن ، روزانہ 50 گرام سے زیا دہ نہ کھائیں ۔ حیاتین ب 12(بی 12) یعنی سایا نو کو بالا مین ، روزانہ 5 سے 50 ما ئیکرو گرام۔فولک ایسڈ ، روزانہ 400 گرام مائیکرو گرام ۔ حیاتین ج ( وٹا من سی ) 2000 ملی گرام روزانہ ۔ حیا تین الف (وٹامن اے ) زرد پھلو ں اور سبزیو ں سے روزانہ 10000سے 25000 یونٹ ۔ حیا تین ھ ( وٹا من ای ) 100 یونٹ روزانہ سے شروع کر کے600 سے1000 یونٹ روزانہ تک درج ذیل معدنی نمکیا ت کا جنسی توانائی سے بڑا گہر ا تعلق ہو تا ہے ٭ جست (زنک ) ،15سے 30 ملی گرام روزانہ ٭کیلشیئم ، مر د و ں کے لیے روزانہ 1000 اور خوا تین کے لیے 15000 یونٹ محفوظ ہو تے ہیں ٭کرو مئیم ، روزانہ 50 سے200 مائیکرو گرام ٭ آئیوڈین 150 مائیکرو گرام روزانہ ( پو ٹاشیم آیو ڈائڈ سے ) ٭ میگنیزئیم ، 200سے 400 ملی گرام روزانہ ٭ مینگنیز ، 5 ملی گرام سے 10 ملی گرام روزانہ ٭سیلینیم 50سے 200 مائیکرو گرا م روزانہ

Login to post comments