Print this page

ناریل سے اعصاب مضبوط

بهمن 03, 1393 510
Rate this item
(0 votes)

عر بی نا رجیل فا رسی جو ز ہندی سندھی ڈونکی انگریزی Coconut مشہو ر عام چیز ہے ۔ اس کا ذائقہ شیریں خوش مزہ ہو تاہے ۔

اس کا رنگ باہر سے سر خ اور اندر سے سفید ہو تا ہے۔ اس کا مزاج گرم اور خشک دوسرے درجے میں ہو تاہے ۔ اس کی مقدار خورا ک دو تولہ ہے ۔ اس کے حسبِ ذیل فوائد ہیں ۔ (1)نا ریل قوت با ہ کو مضبو ط کر تاہے۔ (2) خون صالح پیدا کر تا ہے۔ (3) کثیر الغذا ہونے کی وجہ سے بدن کو فر بہ کر تا ہے۔ (4) جسم کی حرارت اصلی کو قوت دیتا ہے۔ (5)بینائی کو مضبو ط کرنے کے لیے ہر روز نہا ر منہ کو زہ مصری ہم وزن کے ہمرا ہ کھا نا بے حد مفید ہو تاہے ۔ (6) پیٹ کے کیڑو ں کو ما رنے کے لیے پرانی نا ریل تین ما شہ کھا نا مفید ہو تا ہے۔ (7) ما دہ منو یہ کو گا ڑھا کر تاہے ۔ (8)نا ریل کا تیل سر پر لگانے سے با ل ملا ئم ہو تے ہیں اور بڑھتے بھی ہیں ۔ (9) نا ریل بخار وں اور ذیا بیطس (شوگر)کی مر ض میں پیا س بجھا تا ہے۔ (10) نا ر یل کا تیل اگر روزانہ پلکو ں پر لگا یا جائے تو وہ بہت ملا ئم ہو جا تی ہے۔ (11) اگر نکسیر کی شکا یت ہو تو تین ہفتہ دو تولہ نا ریل رات کو بھگو کر صبح نہا ر منہ کھا نے سے یہ مر ض ہمیشہ کے لیے دور ہو جا تاہے ۔ (12) فالج ، لقوہ ، رعشہ اور وجعِ مفا صل میں اس کا استعمال بے حد مفید ہو تاہے ۔ (13) نا ریل کے چھلکو ں کے جو شا ندے سے غرا رے کرنے سے دانت مضبو ط ہو تے ہیں۔ (14 ) قطرہ قطرہ پیشا ب آنے کو بے حد مفید ہے اور اس مرض کو جڑ سے اکھاڑتا ہے۔ (15) درد مثانہ کو بے حد مفید ہے ۔ (16) کچا نا ریل بھو ک لگاتا ہے۔ (17) کھا نسی اور دمہ میں نا ریل کا استعمال بالکل نہیں کرنا چاہیے ۔ (18) مثانہ اور گردے کی کمزوری دور کرتا ہے۔ (19) اگر بند چوٹ ہو تو پرانی نا ریل میں ایک چوتھا ئی ہلد ی ملا کر پو ٹلی باندھ لیں اور اس کو گرم کر کے چو ٹ کی جگہ ٹکور کرنے سے چوٹ کی درد اور سو جن ٹھیک ہو جا تی ہے۔ (20) کثرت ِ حیض اور بوا سیر میں نا ریل کے پو ست کا چھلکا جلا کر ایک ماشہ ہمراہ پانی کے لینے سے فائدہ ہو تاہے ۔ (21) چاول کھانے کے بعد تھوڑا سا ناریل کھالینے سے چا ول فوراً ہضم ہو جا تے ہیں۔ (22) نا ریل کھا کر پانی بالکل نہیں پینا چاہیے ۔ (23) نا ریل صفرا کو دور کرتا ہے ۔ (24) یرقان میں مفید ہے۔ (25) زبان کا مزہ درست کرتا ہے اور قبض پیدا کر تا ہے۔ (26) کچے نا ریل کا پانی پینا پیشا ب کی مختلف بیما ریو ں کو دور کر تاہے۔ (27) پھیپھڑو ں کے مریض کو نا ریل کا دودھ بنا کر پلا نا اور کھلا نا مفید ہو تا ہے۔ (28) نا ریل کی داڑھی کی را کھ کو پانی میں گھو ل کر نتھرا ہو اپانی ہچکی والے مریض کو پلا نا بے حد مفید ہو تاہے ۔ (29) نا ریل کا تیل گر دے اور مثانے کی قوت اور چر بی پیدا کرنے کے لیے مفید ہے۔ (30) گر تے ہوئے بالوں کی صورت میں کھو پرے یعنی نا ریل کا تیل سر پر لگانا خاص طور پر رات کے وقت اور صبح اٹھ کر کسی اچھے صابن سے سر دھو لینا مفید ہو تاہے ۔

Login to post comments