اخروٹ قوتوں کا خزانہ

بهمن 09, 1393 1372

عر بی جو ز فارسی گر دگان سندھی اکھرو ٹ انگریزی میں Walnut اخروٹ میں روغن اور پروٹین کی مقدار کا فی ہو تی ہے ۔ اس

کا رنگ سفیدی مائل بھورا اور مغز سفید ہو تاہے ۔ اس کاذائقہ پھیکامگر لذیذ اور مرغن ہو تاہے۔اخروٹ کا مزاج گرم دوسرے درجے میں اور خشک تیسرے درجے میں ہو تاہے اس کی مقدار خوراک دو تولہ سے تین تولہ تک ہے ، اخروٹ کے حسب ذیل فوائد ہیں ۔ (1 )یہ بد ہضمی کو دور کر تا ہے ۔ (2 )جسم کے فا سد ما دو ں کو تحلیل کر تاہے ۔ (3 ) با ہ کو قوت دیتا ہے ۔ (4 )اس کا مغز زیادہ مقوی معجونا ت میں استعمال ہو تاہے ۔ (5 )سر د کھا نسی کی صورت میں مغز اخروٹ کو بھو ن کر کھلاتے ہیں۔ (6 ) بواسیر کے خون کو روکنے کے لیے اسے بکائن کے پانی میں رگڑ کر استعمال کرنا بے حد مفید ہو تاہے ۔ (7 )داد کا نشان مٹانے کے لیے پانی میں رگڑ کر تین ہفتے تک لگا تے رہنا مفید ہو تاہے ۔ (8)اسی طرح چوٹ کے نشان کو مٹانے کے لیے پانی میں رگڑ کر تین ہفتے تک لگا تے رہنا مفید ہو تاہے ۔ (9 ) اخروٹ کا تیل خارش پر لگا نے سے خارش دور ہو جا تی ہے ۔ (10 )آنکھو ں کی کھجلی ، پانی بہنا اور جالا وغیرہ کی صورت میں بطور سرمہ پیس کرلگا تے ہیں ۔ (11 )سبز اخروٹ کے چھلکو ں کو اتار کر دانتو ں اورمسوڑھو ں پر ملنے سے دانتو ں کو کیڑا نہیں لگتااور مسوڑھے مضبو ط ہو تے ہیں ۔ (12 )بہت لطیف ہو تاہے اور طبیعت کو نرم کر تاہے ۔ (13 )اعضائے رئیسہ اور با طنی حوا سو ں کوقوت بخشنا ہے ۔(14 )مغز اخروٹ ، سداب اور انجیر کے ساتھ کھا نا زہر کے اثر کو دور کرتا ہے ۔ (15)اس کے بکثرت کھا نے سے پیٹ کے کیڑے مر جا تے ہیں ۔(16)فالج کے لیے بے حد مفید ہے ۔ مغز اخروٹ تین تولہ اور انجیر سات دانہ دونو ں کو رگڑ کر کھانا مفید ہو تاہے ۔ (17)اخروٹ کے سبز چھلکے سے خضا ب بھی بنا یا جا تاہے جو با لو ں کو نہ صرف کا لا کر تاہے بلکہ چمکدار بھی بنا تا ہے ۔ ایک کلو پو ست اخروٹ میں آٹھ کلو دودھ ملا کر ابالیں،پھر اسی کا دہی جما دیں ۔ صبح بلو کر گھی حاصل کریں اور اسے شیشی میں محفوظ کر لیں۔ حسب ضرورت بالو ں پر لگا ئیں ، بال سیا ہ ہو جائیں گے یہ خضا ب بالکل بے ضرر ہو تاہے ۔ (18 )گرمی کو بڑھاتا ہے اور چر بی پیدا کر تاہے اس لیے دل کے مریض ا س کے کھا نے میں احتیا ط بر تیں ۔ (19 )اگر دو اخروٹ کے مغز بچو ںکو رات سو تے وقت کھلا ئے جا ئیں تو ان کے پیٹ کے کیڑے مر جا تے ہیں۔ (20 )مقوی دما غ ہے ۔ (21 ) گر دہ ، مثانہ اورجگر کو طا قت دیتا ہے ۔ (22 ) اس کا زیا دہ استعمال گلے میں خرا ش اور معدہ میں سو ز ش پیدا کر تاہے ۔ (23 )اخروٹ انتڑیو ں میںملائمت پیدا کر کے قبض کو دور کرتا ۔(24 )جسم کے اندرونی ورمو ں میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے ۔

Last modified on جمعه, 16 اسفند 1398 12:40
Login to post comments