×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

الرجي کي علامات

مهر 29, 1392 753

الرجي کي علامات ھر بچے ميں اس کي شدت کے اعتبار سے مختلف ھوتي ھيں - جہاں آب رھتے ھيں -اس کا بھي الرجي کي شدت اور قسم پر فرق پڑسکتا ھے -

الرجي کي علامات مختلف ھوتي ھيں جوکہ مندرجہ ذيل ھيں -

 سانس لينے ميں دشواري

 جلن ، پھٹنا يا آنکھوں ميں خارش

 کنجکٹيلوائٹيس ( لال سوجھي ھوئي آنکھيں

 کھانسي

 چھتے ( ابھرے ھوئے لال خارش ذدہ پھوڑے)

 ناک منہ گلے جلد اور دوسرے حصوں ميں خارش

 ناک کا بہنا

 جلد کا لال ھو جانا

 خرخراہٹ

 منہ اور گلے کے اردگرد سوجھ جانا

 شاک

 ائربورن الرجي:

 ائربورن الرجي زيادہ تر چھينکيں آنا، ناک اور گلے ميں خارش، ناک کا بند ھونا، آنکھوں کا لال اور خارش ھونا اور کھانسي کا سبب بنتے ھيں - کچھ بچوں ميں خرخراہٹ اور سانس لينے ميں دشواري ھوتي ھے-

 کھانے کے الرجن اور کيڑے کا کاٹنا:

 کسي کھانے سے الرجي يا کيڑے کے کاٹنے کے خلاف بچے کا ردعمل اس بات پر منحصر ھے کہ وہ بچہ اس کھانے يا کيڑے سے متعلق کس حد تک حساسيت رکھتا ھے - علامات ميں شامل ھيں -  

 کھانا کھانے کي صورت ميں منہ اور گلے ميں خارش ھونا

 چھتے کي طرح ابھار ھونا

 ايکزيمہ کي طرح کا ريش ھونا

 ناک ميں خارش اور بہنا

 سانس لينے ميں دشواري

 منہ اور گلے کے اردگرد سوجھ جانا

 شاک (صدمہ) ميں چلےجانا

 وجوہات:

 الرجن کا آپ کي جلد سے تعلق يا سانس کے ذريعے يا جسم کے اندر داخل ہو سکتا ھے، جب آپکےجسم کو الرجن کا پتا چلتا ھے تو وہ مدافعاتي نظام کو اشارہ کرتا ھے جس کے نتيجے ميں اينٹي بوڈيز پيدا ہوتي ہيں، جنھيں امينوگلوبيولن اي 'آئي-جي-اي' کہتے ہيں- يہ اينٹي بوڈيزجسم ميں کچھ خليے پيدا کرتي ہيں جن سے ہسٹامينيز نامي کيميکلز نکلتے ہيں- يہ ہسٹامينيزان حملہ کرنے والے الرجن کے خلاف دفاع کرنے کےليے جسم کے خون ميں تيرتے ہيں-

 آپ کے بچے کي الرجي کا رد عمل اس بات پر منحصر ھے کہ اس کے جسم کا کونسا حصہ الرجن سے متاثر ہوا ھے- زيادہ تر الرجي ميں بچوں کي آنکھيں، ناک، گلہ، پھپھڑے يا جلد متاثر ہوتي ھے-

 اينافائيليکسز:

 کچھ الرجيزبہت شديد اور جان کے ليے خطرہ ہوتي ہيں جن ميں کھانے کي الرجي شامل ھے- اگر الرجن سے حساسيت بہت شديد ہو تو اس الرجن سے تعلق ہونے کے چند سيکنڈ ميں ہي آپ کا بچہ اينافائيليکسزميں جا سکتا ھے-

 اينافائيليکسزکسي بھي الرجن کے نتيجے ميں جسم کا سب سے تيز اورمضبوط دفاعي عمل ھے اور يہ رد عمل اتنا مضبوط ہوتا ھے کہ يہ خطرناک بھي ہو سکتا ھے- اور اس کے نتيجے ميں جو ايتٹي بوڈيز نکلتي ہيں، ان سے سانس ميں دشواري، سوجن، يا بلڈپريشر کا کم ہونا (شاک) شامل ھے-

 آپ کے بچے کي زندگي بچانے اور اس عمل کو روکنے کے ليے ايک تيز ترين علاج ايک دوائي سے کيا جا سکتا ھے جسے ايپي نيفرين (ايپ-ان-ايف-ان ) کہتے ہيں- عموماً اس دوائي کو ايپي پين کہتے ہيں- اينافائيليکسز ايک ہنگامي عمل ھے آپ کے بچے کو فوري طور پر ہسپتال جانے کي ضروت ہوتي ھے-

Last modified on پنج شنبه, 01 خرداد 1393 11:38
Login to post comments