×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

دفتر ميں لگاتار کرسي پر مت بيٹھيں ( حصّہ چہارم )

مهر 29, 1392 607

اسي طرح کمپيوٹر وغيرہ پر کام کيلئے يہ بھي ضروري ہے کہ جو صفحات آپ کمپوز کررہے ہوں وہ کاپي ہولڈر پر لگے ہوں تاکہ آپ گردن باربار گھمائے بغير

تحرير کو ديکھيں- اسي طرح کاپي ہولڈر بھي اس طرح رکھنا چاہےے کہ گردن کو اونچا اور نيچا کرنے کي ضرورت نہ رہے- اس طرح آپ کي آنکھوں پر بھي غيرضروري بوجھ نہيں پڑے گا-

يہاں اس بات کا بھي خيال رکھيں کہ آپ کے بيٹھنے کا انداز کيا ہے - آپ نے اچھا اور  معياري فرنيچر تو بنوا ليا  ليکن اگر آپ کو بيٹھنے کا صحيح طريقہ معلوم نہيں ہے تو زيادہ دير تک غلط  حالت ميں بيٹھنے سے آپ کو نقصانات کا سامنا  کرنا پڑ سکتا ہے -

 درست انداز يہ ہے کہ آپ اپني نشست پر اس طرح بيٹھے ہوں کہ آپ کي ريڑھ کي ہڈي يعني پشت بالکل سيدھي ہو اور آپ کے بالائي جسم کا بوجھ آپ کي پيڑوکي ہڈي پر پڑے-

 يہ انداز آرام دہ ہوتا ہے- ترچھا‘ ٹيڑھا بيٹھنے يا پيٹھ جھکا کر کام کرنے سے آپ جلد تھکتے ہيں اور درد بھي محسوس کرتے ہيں-

 اس طرح ريڑھ کے منکوں پر غيرضروري بوجھ نہيں پڑے گا-اکثر لوگ غلط انداز سے بيٹھتے ہيں جن سے ان کي کمر اور ريڑھ کي ہڈيوں پر بوجھ پڑتا ہے- يہي وجہ ہے کہ گھر لوٹ کر ايسے افراد کمر ميں درد محسوس کرتے ہيں اور اسے کام کي زيادتي کا نتيجہ قرار ديتے ہيں- غلط انداز ميں بيٹھنے کي وجہ سے پھپھڑوں ميں ہوا کي آمدورفت بھي متاثر ہوتي ہے- ہوا کي کمي خون ميں آکسيجن کي کمي اور دماغي تھکن کا سبب بنتي ہے-

 ہم اپني روز مرّہ کي دفتري زندگي ميں ان چھوٹي چھوٹي باتوں پر غور کرکے اور مفيد طريقوں کو اپنا  کر بہت ساري  جسماني پيچيدگيوں سے بچ سکتے ہيں - اس ليۓ کوشش کريں کہ  اس تحرير کو پڑھنے کے بعد  خود کے ليۓ مناسب کرسي ميز کا انتظام کريں اور اپنے بيٹھنے کے انداز کو  ٹھيک کريں - ہم اميد کرتے ہيں کہ اس تحرير سے آپ کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہو گا -

Last modified on پنج شنبه, 01 خرداد 1393 11:15
Login to post comments