×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزہ کے سائنسي انکشافات

مهر 30, 1392 539

اسلام نے روزہ کو مومن کے لئے شفاء قرار ديا اور جب سائنس نے اس پر تحقيق کي تو سائنسي ترقي چونک اٹھي اور اقرار کيا کہ اسلام ايک

کامل مذہب ہے -فرانس ميں آج بھي يہودي ايک پروجيکٹ کے تحت کام کر رہے ہيں جس کا کام يہ تحقيق کرنا ہے کہ اسلام کے اندر کيا کيا اچھائياں ہيں تو ہم بن کہے اسلام قبول کرليں گے چنانچہ اس پر عمل کرتے ہوئے يہودي باقاعدہ مہينہ بھر روزہ رکھتے ہيں مسواک کرتے ہيں وضو کرتے ہيں نماز اور تلاوت کي پابندي کرتے ہيں باقاعدہ اعتکاف ميں بيٹھتے ہيں سحري وافطاري کرتے ہيں اور عيد کي نماز بھي پڑھتے ہيں -

گاندھي جي فاقہ کے لئے مشہور تھے اور روزہ کے قائل تھے وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر ليتا ہے اگر تم جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم از کم خوراک دو اور روزے رکھو سارا دن جاپ الا پو اور پھر شام کو بکري کے دودھ سے روزہ کھولو-

 آکسفورڈيو نيورسٹي کے مشہور پروفيسر مورپالڈ اپنا قصہ اس طرح بيان کرتے ہيں کہ ”‌ميں نے اسلامي علوم کا مطالعہ کيا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو ميں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظيم فارمولہ ديا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ ديتا صرف روزے کا فارمولہ ہي دے ديتا تو پھر بھي اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئي نعمت نہ ہوتي ميں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہيے پھر ميں نے روزے مسلمانو ں کے طرز پر رکھنا شروع کئے ميں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Stomach Inflammation) ميں مبتلا تھا کچھ دنوں بعد ہي ميں نے محسوس کيا کہ اس ميں کمي واقعي ہو گئي ہے ميں نے روزوں کي مشق جاري رکھي کچھ عرصہ بعد ہي ميں نے اپنے جسم کو نارمل پايا حتيٰ کے ميں نے ايک ماہ بعد اپنے اندر انقلابي تبديلي محسوس کي -“

 پوپ ايلف گال ہالينڈ کا سب سے بڑا پادري گذرا ہے روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بيان کرتا ہے کہ ”‌ميں اپنے روحاني پيروکاروں کو ہر ماہ تين روزے رکھنے کي تلقين کرتا ہوں ميں نے اس طريقہ کار کے ذريعے جسماني اور وزني ہم آہنگي محسوس کي ميرے مريض مسلسل مجھ پر زور ديتے ہيں کہ ميں انہيں کچھ اور طريقہ بتاوں ليکن ميں نے يہ اصول وضع کر ليا ہے کہ ان ميں وہ مريض جو لا علاج ہيں ان کو تين روز کے نہيں بلکہ ايک مہينہ تک روزے رکھوائے جائيں - ميں نے شوگر، دل کے امراض اور معدہ ميں مبتلا مريضوں کو مستقل ايک مہينہ تک روزہ رکھوائے - شوگر کے مريضوں کي حالت بہتر ہوئي ان کي شوگر کنٹرول ہو گئي ، دل کے مريضوں کي بے چيني اور سانس کا پھولنا کم ہوگيا سب سے زيادہ افاقہ معدہ کے مريضوں کو ہوا -“

 فارما کولوجي کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جيم نے روزے دار شخص کے معدے کي رطوبت لي اور پھر اس کا لےبارٹري ٹيسٹ کروايا اس ميں انہوں نے محسوس کيا کہ وہ غذائي متعفن اجزاء (food particles septic) جس سے معدہ تيزي سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہيں ڈاکٹر لوتر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض ميں صحت کي ضمانت ہے -

 مشہور ماہر نفسيات سگمنڈ نرائيڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغي اور نفسياتي امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمي کا جسم مسلسل بيروني دباو  کو قبول کرنے کي صلاحيت پاليتا ہے روزہ دار کو جسماني کھينچاو  اور ذہني تناو  سے سامنا نہيں پڑتا-

 جرمني ، امريکہ ، انگلينڈ کے ماہر ڈاکٹروں نے رمضان المبارک ميں تمام مسلم ممالک کا دورہ کيا اور يہ نتيجہ اخذ کيا کہ رمضان المبارک ميں چونکہ مسلمان نماز زيادہ پڑھتے ہيں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہيں اس سے ناک ، کان ، گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہيں کھانا کم کھاتے ہيں جس سے معدہ وجگر کے امراض کم ہو جاتے ہيں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض ميں بھي کم مبتلا ہوتا ہے -

 مغربي ماہرين سائنس ، ماہرين طب اور ماہرين نفسيات نے مل کر اسلامي زندگي پر تحقيق اور ريسرچ کا نيا ياب کھولا ہے کيونکہ مغرب موجودہ طرز زندگي سے تنگ ہے اور اس وقت سب سے زيادہ خودکشي ، عصمت دري ، ہم جنس پرستي ، اغواء، قتل ، انتقامي کاروائياں ، بم دھماکے ، اجتماعي قتل ، ناجائز اولاد ، طلاقيں وغيرہ جيسے مہلک خطرناک اور دنيا کو تباہي کے گڑھے ميں ڈالنے و الے حادثات کي طرف يورپ اور مغربي معاشرہ گامزن ہے اب وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہيں وہ بخوبي سمجھنے لگے ہيں کہ ان تمام سے نجات کا واحد راستہ صرف اور صرف اسلام ہي ہے -

  مستشرقين اس وقت اسلامي تعليمات کو کھنگال کر ان ميں اپنے لئے اصلاحي راستے اور ترقي کي راہيں تلاش کر رہے ہيں آج يورپ پھر پھرا کر واپس اسلام کي طرف لوٹ رہا ہے اور ہم ہيں کہ يورپ کي تقليد ميں اندھے دوڑے چلے جار ہے ہيں - روزہ کے بارے ميں يورپي ماہرين آج بھي تحقيق کر رہے ہيں حتيٰ کي وہ اس بات کو تسليم کر چکے ہيں کہ روزہ جہاں جسماني زندگي کو نئي روح اور توانائي بخشتا ہے وہاں اس سے بے شمار معاشي پريشانےاں بھي دور ہوتي ہيں کيونکہ جب امراض کم ہوں گے تو ہسپتال بھي کم ہوں گے اور ہسپتال کا کم ہونا ہي معاشرہ کے پر سکو ن ہونے کي علامت ہے-

Last modified on شنبه, 27 ارديبهشت 1393 12:57
Login to post comments