×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ايران ميں اسلامي دور حکومت کي طب

مهر 30, 1392 596

ايران ميں تاريخ کے مختلف حصوں ميں نامور طبيب اور مححق لوگوں نے جنم ليا جنہوں نے اپني محنت اور علم کے بل بوتے پر طب کے ميدان ميں بہت نام کمايا -

اسلامي دور حکومت ميں بھي ايران نے طبي ميدان ميں بہت ترقي کي -  اس دور ميں ساسانيوں کا سارا ورثہ مسلمانوں کے حوالے ہو گيا- جب عربوں نے ايرانيوں پر قابو پايا تو ساساني سلطنت کا شيرازہ  بکھر گيا اور عربي زبان ايران ميں پھيل گئي - اسي دور ميں طب کي کتابوں کا بہت اچھا ترجمہ اور تاليف کا کام ہوا  اور يہ کام  علم طب کے ليے ايک  عظيم خدمت تھي- معاشرے کے صاحب حيثيت لوگوں کي حوصلہ افزائي کي بنا پر بہت ساري علمي، فلسفہ، طب اور تاريخ سے متعلق  کتابوں کا عربي زبان ميں ترجمہ کيا گيا-

کچھ مصنف يوناني زبان سے ترجمہ کرتے اور کتابوں کو پڑھ کر ايک نئي کتاب لکھتے تھے ، کبھي کبھي  نئي کتاب کو نظم کي صورت ميں  بھي لکھتے تھے اور اسي طرح وہ طب کے عالم کے خادم بن گئے-

 مشرقي  ملکوں کے طبيبوں نے علم طب کو پھيلانے اور مکمل کرنے  ميں اہم کردار ادا کيا  اور اسلامي طب ميں ايرانيوں کا حصہ سب سے زيادہ  اہم  ہے -

 بقراط  اور جالينوس کے سب سے اچھے طالبعلم مسلم طبيب تھے - ان کے طالبعلم بعد ميں اپنے اساتذہ کي کتابوں پر تنقيد اور جائزہ ليتے رہے- ان کے طالبعلموں  ميں سے سب سے اہم محمد زکريا  رازي،   شيخ ابو علي سينا، اسماعيل جرجاني اور ابن رشد قرطبي تھے-  کہا جاتا ہے کہ بقراط نے طب ايجاد کيا، جالينوس نے طب کا احياء کيا،رازي نے متفرق سلسلہ ہائے طب کو جمع کيا اور ابن سينا نے تکميل تک پہنچايا-

 محمد زکريا  رازي  (864ء  - 925ء)

محمد زکريا  رازي ممتاز مسلمان طبيب اور فلسفي اور  ماہر علم نجوم  اور کيميا تھے-  وہ  جواني ميں کيميا گري کے فن کے دلدادہ تھے، ان کا خيال تھا کہ کيمياگري سے وہ کم قيمت دھاتوں کو سونے ميں بدل کر بہت سے   پيسے کما کر امير بن جائيں گے- کيميا گري کے زمانے ميں ان کي دوستي ايک دوا فروش سے ہوئي اور رفتہ رفتہ اسي دوا فروش سے دوستي کي وجہ سے ان کو طب کے علم سے دلچسپي ہو گئي-

Last modified on شنبه, 27 ارديبهشت 1393 10:55
Login to post comments