×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کیا تیونس بھی مصر کی سرنوشت دوچار ہوجائیگا؟

مهر 06, 1392 0 493

تیونس بحیرہ روم میں واقع شمالی افریقہ کا ایک اہم ملک ہے جس کے جنوب مشرق میں لیبیا اور مغرب میں الجزائرواقع ہے۔سابقہ ادوار پرنظرڈالی جائے تو یورپی

قوتوں نے تیونس کے تمام وسائل پرقبضہ کر رکھا تھا۔ نوآبادیاتی دورکے اختتام پر تیونس نے عرب ممالک میں بڑھتے ہوئےآمرانہ کلچر کے نتیجےمیں یہاں بھی ایک آ مر زین العابدین بن علی نے ۱۹۸۷ء میںحبیب بورقیبہ کومعزول کرکے صدارت کے عہدے پرقبضہ کرلیا اوربعد ازاں اپنے اقتدارکو طول دینے کے لئے آئین میں من مانی تبدیلیاں کرتارہا۔زین العابدین کے ابتدائی دورمیں معاشی ناہمواریاں اتنی کھل کر سامنے نہیں آئیں مگربدلتی ہوئی دنیاکی طرح یہاں بھی مہنگائی اوربے روزگاری کے اضافے نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنادیا۔۱۸دسمبر۲۰۱۰ء کو تیونس کے عوام کے صبرکاپیمانہ لبریزہوگیا اور ایک محنت کش کی خودکشی کے بعدعوامی مزاحمت سامنے آئی۔ عوامی مظاہروں کے نتیجے میں طویل عرصے حکومت کرنے والے زین العابدین کو جنوری ۲۰۱۱ء میں ملک سے فرارہونا پڑا، سعودی عرب نے بڑھ کر تیونسی عوام کے دھتکارے ہوئے شخص کو خوش آمدید کہا اور اپنے محلوں کے دروازے اس پر کھولدئیے جہاں و آرام آسائش کی زندگی گزار رہا ہے۔ النہضہ موجودہ تیونس کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت ہے جس نے آزادانہ انتخابات کے بعد ملک انتظام سنبھالا ہے۔ تیونس کی سیاسی صورتحال بھی مصر سے مشابہت رکھتی ہے اوریہاں بھی بائیں بازوسے تعلق رکھنے والی بہت سی سیاسی جماعتیں موجود ہیں جواپنے حقوق کی آواز اٹھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ان ہی نظریات کی حامل جماعتوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے اکتوبر۲۰۱۲ء میں پاپولرفرنٹ کے نام سے اپوزیشن اتحادقائم کیا، کیونکہ اتحاد میں شامل جماعتیں تیونس میں بڑھتی ہوئی اسلام پسندی سے انتہائی خوفزدہ ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں میں تیونس کی سیاسی صورتحال بگڑتی چلی جارہی ہے اوراسلام پسندوں اور سیکولر و لبرل جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخالفت نے تیونس کے سیاسی مستقبل پرسوالیہ نشان لگادیاہے اورموجودہ سیاسی بحران کی وجہ سے انقلاب تیونس بھی مصرکی طرح خطرے سے دوچارہے اوربہت سے ماہرین اس بات کابھی اشارہ دے چکے ہیں کہ تیونس کے موجودہ سیاسی بحران کی وجہ سے ملک کے حالات ۲۰۱۱ء کے حالات سے بھی زیادہ بگڑسکتے ہیں۔ حال ہی میں تیونس کے صدرمنصف مرزوقی بھی اپنے ایک بیان میں عوام اورسیاستدانوں سے متحدہونے کی اپیل کرچکے ہیں۔تیونس کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کی ایک وجہ اپوزیشن کے دواہم رہنماؤں شکری بلعیداورمحمدبراہمی کاقتل بھی ہے جس میں شکری بلعیدکوفروری ۲۰۱۳ء میں قتل کیاگیاتھا۔مخالفین کی جانب سے شکری بلعیدکے قتل کاالزام حکمران جماعت النہضہ پرعائدکیاگیاجبکہ النہضہ پارٹی کے سربراہ راشدالغنوشی نے اپنے ایک بیان میں واضح طورپراس قتل کاالزام زین العابدین کی باقایات پرعائدکیاہے۔ ان کے مطابق سابق صدر کے حمایتی تیونس میں جمہوریت کوپھلتے پھولتے نہیں دیکھناچاہتے۔ ابھی اپوزیشن کی جانب سے شکری بلعیدکے قتل کے خلاف حکومت مخالف مظاہرے جاری ہی تھے کہ جولائی ۲۰۱۳ء میں ایک اوراپوزیشن لیڈرمحمدبراہمی کوبھی قتل کردیاگیاجس سے اپوزیشن جماعتوں میں موجودہ اشتعال مزیدبڑھ گیا اوراپوزیشن نے اس قتل کاالزام بھی حکمران جماعت النہضہ پرعائدکردیا۔ایک طرف تیونس کااندرونی سیاسی بحران اس کیلئے دردِ سربناہواتھاتودوسری طرف الجزائرسے ملحقہ مغربی سرحدوں پرعسکریت پسندوں کے حملوں نے ان مسائل میں مزیداضافہ کر دیاہے۔ واضح رہے جولائی ۲۰۱۳ء میں تیونس کے وزیراعظم علی العریض عام انتخابات کیلئے ۱۷دسمبر۲۰۱۳ء کی تاریخ کااعلان کرچکے ہیں،ان کے مطابق دستورسازاسمبلی اپنا۸۰فیصد کام مکمل کرچکی ہے اوراکتوبرتک باقی کام مکمل کرلیاجائے گا۔موجودہ تیونسی حکومت میں پارلیمنٹ فورم پربھاری اکثریت رکھنے والی النہضہ کے ساتھ دوبائیں بازوکی جماعتیں کانگرس اورالتکتل بھی شامل ہیں جس میں وزیراعظم علی العریض النہضہ سے، صدر منصف مرزوقی کانگرس سے اور دستور سازاسمبلی کے سربراہ مصطفیٰ بن جعفر التکتل سے تعلق رکھتے ہیں۔النہضہ دسمبرمیں قومی انتخابات کی پیشکش کرچکی ہے مگراپوزیشن کی جانب سے غیرجماعتی حکومت کامطالبہ کیاجارہاہے جس کی وجہ سے تیونس ایک بڑے میں خطرے پڑگیا ہے، کچھ دنوں پہلے تک حکومت کے خلاف مظاہروں کی شکل میں قانون کی خلاف ورزی ہوتی رہی اب مظاہرے انتہا پسندی اوردہشت گردی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ تیونس اور الجزائر کی سرحد پردہشت گردانہ اقدام کے نتیجے میں تیونس کے نو فوجی ہلاک اورزخمی ہوگئے ۔یعنی اس ملک میں دہشت گردی کی گھنٹی بج گئی ہے ۔ تیونس کے صدر منصف المزوقی نے ملک میں دہشت گردانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے کسی مقصدکے بغیر جن حملوں کا آغاز کیا ہے اس میں صرف انقلاب مخالفین کافائدہ ہے ۔ انھوں نے اس نکتہ کی یاددھانی کرائی کہ دہشت گرد انقلاب کو نقصان پہنچانے کے لئے تیونس کے غریب جوانوں کو استعمال کررہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تیونس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں پر صحیح امن اورسیکوریٹی کے نہ ہونےکی وجہ سے دہشت گرد اس موقع سے استفادہ کررہے ہیں۔ لہذا تیونس کے وزیر اعظم علی العریض نے دہشت گردی سے مقابلے کا واحد راستہ قومی اتحاد کو قرار دیا ہے ۔ تیونس کے وزیر اعظم نے ملک کے ساٹھ سیاسی شخصیات سے ملاقات اور گفتگومیں دہشت گردی کو ملک کے لئے اہم خطرہ قرار دیا ہے اور ملک کے فوجی ، سیکورٹی اور عدلیہ کے اداروں نیز سیاسی گروہوں سےدہشت گردی سے مقابلے کےلئے جو وجود میں آرہی ہے آپس میں متحد ہونے کی تاکید کی ہے ۔ النہضہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی نے جن کا سیاسی لحاظ سے تیونس میں کچھ وقار اور اعتبار باقی ہے ملک کو سیاسی بحران سے نجات دلانے کے لئے اقتدار کی منتقلی کے لئے عام ریفرنڈم کرانے کو کہا ہے ، انہوں نے کہاہےکہ مخالفین اگر اقتدار کی منتقلی پر تاکید کررہے ہیں تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ آؤ اس بارے میں ہم عام ریفرنڈم کراتے ہیں۔ اس وقت مصر میں رونماہونے والے واقعات تیونس کوبہت زیادہ متاثر کررکھا ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر تیونس حکام بحران کے حل کے لئے مفاہمت آمیز راستے کی تلاش میں ہیں لیکن اس میں اس وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب حکومت اور مخالف گروہ کےدرمیان کسی نتیجہ خیز مفاہمت پر اتفاق ہوجائے حکومت اورمخالفین کے درمیان کسی مفاہمت پراتفاق نہ ہونے کی صورت میں تیونس ایک خطرناک سیاسی، سماجی بحران میں پھنس سکتا ہے۔ انتہاپسندوں کی جانب سے ماحول کوخراب کرنے کے لئے فوجیوں اور سرکردہ سیاسی شخصیات کے قتل کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنے کے اشارے مل رہے ہیں جبکہ شام کے تعلق سے بھی تیونس کا نام بار بار سننے میں آرہا ہے۔ واضح رہے کہ تیونس میں بھی اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے اس طرز پرمطالبات کئے جارہے ہیں، جس طرح مصرمیں محمدمرسی کی حکومت سے وہاں کی سیکولر ولبرل جماعتیں مطالبہ کررہی تھیں جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی بحران پیداہوا۔ چنانچہ خیال کیا جا رہا ہے انقلاب تیونس بھی انقلاب مصر کی طرح خطرے سے دوچار ہوچکا ہے لہٰذا اگر تیونس کے انقلابیوں نے سوجھ بوجھ کا مظاہرہ نہ کیا تو مغرب نواز قوتوں کو پھر سے اپنا رنگ دکھانے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔

Last modified on چهارشنبه, 14 خرداد 1393 21:23

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.