×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اخوت سیرت رسول کے آئینہ میں

دی 17, 1393 0 298

اخوت کی اہمیت :ایک بھائی کی زندگی میں دوسرے بھائی کی بہت زیادہ اہمیت ہے ،ایک اچھا اور دردمند بھائی دنیاوی اور مادی امور

میں تو معاون ثابت ہوتاہی ہے ساتھ ہی ساتھ اپنے نیک مشوروںاور اچھے اعمال و کردار سے اس کے دینی اور اخروی امور کو بھی بہتر سے بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کرتاہے ،حقیقت یہ ہے کہ ایک بھائی انسان کا قوت بازو اور اس کی مضبوط پناہ گاہ ہوتاہے،امام سجادفرماتے ہیں:فتعلم انہ یدک التی تبسطھا و ظھرک الذی تلجأالیہ و عزک الذی تعمدعلیہ قوتک التی تصول بھا’’جان لوکہ وہ (بھائی )تمہارا ہاتھ ہے جسے تم پھیلاتے ہو ،تمہاری پناہ گاہ ہے جس میں تم پناہ پکڑتے ہو ،وہ تمہاری عزت ہے کہ جس کے اوپر تم اعتماد کرتے ہو اور وہ تمہاری قدرت اور قوت بازو ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مقصود تک رسائی حاصل کرتے ہو‘‘ ۔(۱)
بھائی ایسی قوت کا نام ہے جس کی ضرورت انبیاء کرام کو بھی قدم قدم پر محسوس ہوئی چنانچہ حضرت موسی ؑکے تبلیغی دور میں جناب ہارون نے کتنا اہم کردار ادا کیا اس کا اندازہ اس جہت سے لگایا جاسکتاہے کہ جب خداوندعالم نے جناب موسی ؑکو حکم دیا:{اذھب الی فرعون انہ طغی}فرعون کے پاس جائو کہ اس نے نافرمانی کی ہے۔ (۲)اس حکم کے بعد جناب موسی ؑنے خداوندعالم کی بارگاہ میں جو دعائیں کی ہیں ان میں آپ کی یہ دعا کافی اہمیت کی حامل ہے :{واجعل لی وزیرا من اھلی ،ھارون اخی اشد بہ اندی و اشرکہ فی امری} معبود !میرے خاندان میں سے میرے لئے ایک وزیر قرار دے ،ہارون کوجو میرا بھائی بھی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اور اسے میرے کام میں شریک بنادے ۔(۳)
خداوندعالم نے جناب موسی ؑ کے تبلیغی دور کے مشکلات کو پیش نظررکھ کر بھائی کی اس اہم ضرورت کو پورا کیا ،خدا فرماتاہے :{قال سنشد عضدک باخیک}ہم تمہارے بازئوں کو تمہارے بھائی سے مضبوط کر دیں گے ۔(۴ )
رسول اسلاؐم کی نظر میں حضرت علی ؑکی بھی خاص اہمیت تھی اس اہمیت کو آشکار کرنے کے لئے آپ نے کئی جگہوں پرحضرت علی ؑ کو اپنے بھائی ہونے کی حیثیت سے اعلان فرمایا ۔
آپ نے تبلیغی مراحل کی بے پناہ سختیوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے خدا کی بارگاہ میں دست دعا بلند فرمایا:خدایا !جب تونے میرے بھائی موسی کو تبلیغ پر مامور کیا توانہوں نے چند خواہشیں کیںجن میں سے ایک خواہش یہ تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرے لئے ناصر و مددگار قرار دے ،میںپیامبر خاتم اور تیرا بندہ بھی چاہتاہوں کہ موسی کی طرح میرے بھائی علی بن ابی طالب کو میرا ناصر و مددگار قرار دے ۔(۵)
رسول اسلامؐ اس اخوت کے ذریعہ آنے والے ہر انسان کوباور کرارہے تھے کہ کسی بھی کام میں ایک بھائی کی کتنی اہمیت ہے اور اپنی زندگی کی مشکلات کو برطرف کرنے میں ایک انسان کو بھائی کی کتنی ضرورت محسوس ہوتی ہے ،حتی ایک اولوا العزم پیغمبر ہی کیوںنہ ہو وہ بھی ایک بھائی کی ضرورت سے انکار نہیں کرسکتا ۔
معاشرے میں ایک بھائی کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے صرف صلبی اور پدری بھائیوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ایک مومن کو دوسرے مومن کا بھائی قرار دیاگیاہے ،خداوندعالم کا ارشاد ہے :{انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم و اتقوا اللہ لعلکم ترحمون }مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا اپنے دو بھائیوں میں صلح کروادو اور اللہ سے ڈرو شاید تم پر رحم کیاجائے ۔(۶)
رسول اسلام ؐنے دائرۂ اخوت کو مزید وسعت دیتے ہوئے فرمایا:المسلم اخو المسلم لا یظلمہ و لا یخزلہ و لا یسلمہ’’مسلمان ،مسلمان کا بھائی ہے ،نہ وہ اس پر ظلم کرتاہے اور نہ اس کا ساتھ چھوڑتاہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتاہے‘‘۔(۷)
اصل میںاسلام نے اس کے ذریعہ سے تمام افراد کو متحد کیاہے اور افتراق و اختلاف کی زنجیر کو کاٹ دیاہے ،وحدت و یگانگت کی بنیادوںکومضبوط بنانے کے لئے ایمانی معاشرے کے افراد کوبھائی بھائی قرار دیاہے ،اس لئے کہ انسانوں کے درمیان اخوت و برادری سے زیادہ کوئی اور مضبوط رشتہ نہیں ہے ،باپ بیٹے کا رشتہ اگر چہ بھائی کے رشتے سے زیادہ مضبوط ہے مگر باپ بیٹے میں کامل مساوات نہیں ہے ،احترام و شخصیت کے لحاظ سے ان میں برابری مفقود ہے یہ بات توصرف برادری کے اندر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو دو انسان میں ایک ہی سطح پر اور ایک ہی افق زندگی میں شدید دل بستگی اور کمال علاقہ مندی کا اظہار کرتاہے ،اسی لئے قرآن مجید محبت کے عالی ترین مرتبہ کوقائم کرتے ہوئے ہر مسلمان کو ایک دوسرے کا بھائی کہتاہے اور اس تعبیر سے اسلامی معاشرے کے افراد میں لطیف ترین دوستی اور بہترین مساوات کی راہ نمائی کرتاہے ۔
اسلامی معاشرہ میں اخوت کا فقدان
عہد حاضر میں علمی و صنعتی ترقی نے حیات بشر کو بدل کر رکھ دیاہے ،زندگی کے تمام شعبوںمیں جو صنعتی تکامل اور عجیب و غریب تحول پید اہوگیاہے اس نے تاریکیوںکو روشن اور مشکلات کو آسان بنادیاہے ،آج کا انسان کبھی دریائوںکی بے پناہ گہرائیوں سے زندگی کے لئے در نایاب حاصل کررہاہے تو کبھی آسمانوںکی بلندی پر پہونچ کر چاندتاروں میں بسنے کی باتیں کرتاہے لیکن ان تمام تر ترقیوں نے انسانوںکو ایمان و تقوی کی سرحدوںسے کافی دور پہونچادیاہے،انسانی افکار وخیالات مادی مسائل میں اس طرح مرکوز ہوچکے ہیںکہ روحانی اور معنوی مسائل کو ایک نظر دیکھنے کی بھی فرصت نہیں۔ہر شخص اپنی ایک الگ دنیا بسانے کے فراق میں رات دن محنت کا مظاہرہ کررہاہے ۔اس کا نظریہ ہے کہ دنیا جائے بھاڑ میں ،بس اپناالو سیدھا ہونا چاہئے۔نتیجہ کے طور پر وہ آئے دن جرم و جنایت کے دلدل میں دھنستا جارہاہے ۔
ہم دنیا والوں پر کیاآنسو بہائیں! خود مسلمانوں کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ اپنی دنیا سے نکل کر اپنے ارد گرد ہزاروں،لاکھوںتڑپتے سسکتے بے حال مسلمانوںکو ایک نظر دیکھ لیں،ان سے رابطہ بڑھاکر ہمدردی کا مظاہرہ کریں،ان کے دکھ سکھ کومحسوس کریں اور حتی الامکان ان کی زندگی کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
آج کا مسلمان جیسے جیسے مادی امور کی طرف آگے بڑھ رہاہے اسکے اندر سے اخوت ،بھائی چارگی ،دوستی اور مہر ومحبت کے جذبات بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتے جارہے ہیں۔
اسلامی اخوت تو دور کی بات ہے خود حقیقی بھائیوںمیں اخوت مفقود ہے ،آج دو حقیقی بھائیوںکے درمیان چند مادی چیزوں کے لئے اختلاف ہے ،زمین ،جائداد ،گھر اور دولت و ثروت کی وجہ سے بڑھتے ہوئے یہ اختلاف کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے،کبھی کبھی تو یہ اختلاف اتنا شدید ہوجاتاہے کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیںاور بالآخر اپنے منحوس مقصد میں کامیاب ہوکر خوشی کا اظہار کرتے ہیں،ان لمحاتی خوشی صرف اسی کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتی بلکہ وہ معاشرہ بھی اس کے منفی اور نقصان دہ اثرات سے محفوظ نہیں رہ پاتا جس میں وہ زندگی گذاررہاہوتاہے ۔
کہاں گیا رسول اسلاؐم کاوہ درس اخوت ۔جس نے کل کے ضدی عرب بدوئوںکو ایک اچھی زندگی کی نوید دی تھی ،جس نے عربوںکے خون میں وہ حرارت پیدا کردی تھی کہ مٹھی بھر آدمیوںنے دیکھتے دیکھتے آدھی دنیا کو مسخر کر کے اپنے خاک نشین کملی والے تاج دار کے قدموں میں لاکر ڈال دیاتھا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
رسول اسلامؐ اور ترویج اخوت و برادری
اسلام اخوت اور باہمی الفت کا دین ہے اور ایسے تعلقات کا بہترین نمونہ ہے کہ جن پر سچے بھائی چارے کی بنیاد قائم ہے ،اسی لئے رہبران دین و شریعت نے مختلف موقعوںپر لوگوں کو اس اسلامی اخوت کی طرف توجہ دلائی ہے، خود رسول اسلام ؐنے صدر اسلام میں مسلمانوںکے درمیان رشتۂ اخوت برقرار کرکے اگر ایک طرف مسلمانوںکے بازوئوں کو مضبوط کیا تو دوسری طرف اس اخوت کے وسیلہ سے دین اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا۔رسول اسلامؐ کا رشتۂ اخوت وبرادری بر قرار کرنا کسی ایک دور سے مخصوص نہیں تھا بلکہ آپ نے قیامت تک کے مسلمانوںکو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیاہے اور اس کے ذریعہ ہر دور کے مسلمانوںکی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔آج جب کہ زمانہ ترقیوں کی اونچی اڑان اڑرہاہے تو رسول اسلاؐم کا وہ درس اخوت ہمیں بار بار آواز دے رہاہے کہ تمہارے صرف مادری و پدری بھائی نہیں ہیں،تم صرف اپنے رشتہ دار بھائیوں کو اپنا بھائی تسلیم نہ کروبلکہ تمہارے ہمراہ معاشرے میں زندگی گذارنے والا ہر مومن اور مسلمان تمہارا بھائی ہے جس طرح تم اپنے حقیقی بھائیوں کی ضروتیں پوری کرنے میں اپنی تمام تر کوششوں کا مظاہرہ کرتے ہو ،ایک مومن کی ضرورتیں بھی پوری کرو اس لئے کہ وہ تمہارا بھائی ہے ۔
چونکہ اسلام میں اخوت کا اصل معیار باہمی حقوق کی رعایت ہے اس لئے حقوق کے سلسلے میں کسی قسم کی سستی رابطۂ اخوت پر منفی اثر ڈالتی ہے جس کا لازمی نتیجہ طرفین کے تعلقات کا خراب ہونا ہے بلکہ بسا اوقات یہ دشمنی روح میں پیوست ہوجاتی ہے جس کااثر قطع تعلقی اور ظلم و جفا پر جاکر تمام ہوتاہے ۔
رسول اسلام ؐنے اخوت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک بھائی کے حقوق کو پورا کرنے کی بھرپور تاکید کی ہے ،آپ حضرت علی ؑ کو اس طرح وصیت فرماتے ہیں:لا تضیعن حق اخیک اتکالا علی مابینک و بینہ فانہ لیس لک باخ من اضقت حقہ’’دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کا حق ضایع نہ کرو ،وہ تمہارا بھائی نہیں جس کا تم حق ضایع کرو‘‘۔(۸)
آپ اپنی زندگی میں ایک دینی بھائی کے حقوق کی رعایت کرنے میں کافی حساس تھے،چنانچہ آپ کا معمول تھا کہ اگر ایک دن تک اپنے دینی بھائی کو نہیں دیکھتے تو اس کے متعلق سوال کرتے تھے اگر وہ غائب ہوتا تو اس کے لئے دعا کرتے اور اگر موجود ہوتا تو اس سے ملنے کے لئے جاتے تھے یا اگر بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے تھے ’’کا ن رسول اللہ اذ فقد الرجل من اخوانہ ثلاثۃ ایام سال عنہ فان کا غائبا دعا لہ و ان کا ن شاھدا زارہ و ان کان مریضا عادہ‘‘ ۔(۹)
جو لوگ ایک مومن بھائی سے قطع رابطہ کرکے اس کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے ان کے متعلق رسول اسلامؐ فرماتے ہیں:اگر دو مسلمان ایک دوسرے سے دوری اختیار کرلیں اور یہ مفارقت تین دنوںتک جارہی رہے اور وہ دونوںآپس میں صلح و آشتی نہ کریںتو وہ لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں،ان کے درمیان سے دوستی کا رشتہ ختم ہوجاتاہے ۔اور اگران میں سے کوئی ایک رابطہ برقرار کرنے میں سبقت کرے تو ایسا شخص قیامت میں بھی بہشت میں جانے میں مقدم ہوگا ۔(۱۰)
آپ نے قیامت تک کے مسلمانوںکے درمیان رشتۂ اخوت برقرار رکھنے کے لئے کچھ ایسے عوامل کی نشاندہی کی ہے جن کی بھرپور رعایت کرنے سے لوگوںکا رشتۂ اخوت سالم رہ سکتاہے ،جن کو اختصار کے ساتھ یہاںتحریر کیاجارہاہے ۔
۱۔ اخلاق حسنہ
اخلاق حسنہ کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول اسلامؐ نے اپنی بعثت کا ہدف اخلاقیات کی ترویج و تکمیل قرار دیاہے ،آپ فرماتے ہیں:انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔ (۱۱)
اس اخلاق حسنہ کے اہم ترین فوائد میں سے ایک یہ ہے اس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان شدید دوستی اور برادری کا جذبہ پیدا ہوتاہے ،رسول اسلامؐ فرماتے ہیں:حسن الخلق یثبت المودۃ’’اچھا اخلاق دوستی اور محبت استوار کرتا ہے‘‘۔ (۱۲)
۲۔ایثا ر وفداکاری
الفت و محبت اور آپسی رابطہ برقرار کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ ’’ایثار وفداکاری ‘‘ہے ،حضرت علی ؑ فرماتے ہیں:بالایثار علی نفسک تملک الرقاب’’ایثار اور فداکاری کے ذریعہ دوسروں کو اپنا بندہ بناسکتے ہو‘‘۔(۱۳)
ایثار وفداکاری رسول اسلام کی زندگی کا خاصہ تھا ،آپ اپنی واجب ضرورتوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور ان کی خواہش کو اپنی خواہش پر مقدم رکھتے تھے ،اس ایثار کا نتیجہ آپ نے دیکھا کہ لوگوں نے اس ایثار کی وجہ سے اپنے دلوں میں رسول اسلام کی قربت و محبت اس طرح محسوس کی کہ اپنا آبائی دین چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔
۳۔زیارت و ملاقات
رشتۂ اخوت کو مستحکم کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ ’’زیارت اور ملاقات ‘‘ہے ،عام طور سے دیکھا گیاہے کہ دوسروں سے ملاقات کرنے سے جہاںاپنے دل کو خوشی محسوس ہوتی ہے ،وہیں دوسرے کا چہرہ بھی بشاش ہوجاتاہے اور وہ یہ محسوس کرتاہے کہ اس کائنات میں اپنی خیرخیرت پوچھنے والا کوئی ہے ،رسول اسلام کا ارشاد گرامی ہے:الزیارۃ تنبت المودۃ’’زیارت دوستی اور اخوت میں ترقی کا سبب ہے ‘‘۔(۱۴)آپ نے ملاقات کے سلسلے میں اسلامی طریقے کی رعایت کرنے کی خصوصی تاکید کی ہے ،آپ فرماتے ہیں:اگر تم اپنے مسلمان بھائی کو دوست رکھتے ہو تو ملاقات کے وقت اس کا نام ،اس کے والد کا نام ،قوم قبیلہ اور اس کے خاندان کے متعلق سوال کرو کہ یہ واجب حق اور رابطۂ اخوت میں صداقت و استواری برقرار کرنے میں اہم شیٔ ہے ورنہ اس کے بغیر یہ آپسی آشنائی اوراحمقانہ رابطہ ہے کہ دو افراد دوستی کا اظہار کریں لیکن ایک دوسرے سے کوئی اتہ پتہ نہ پوچھیںاور بدیہی امور کے متعلق سوال نہ کریں۔(۱۵)
آج کی دنیا میں ہائے ہیلو کا رواج ہے ،لوگ ملتے ہیںتو ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر ان کی خیریت دریافت کرتے ہیںاور ایک دوسرے سے آشنا ہو تے ہیںلیکن آج کے لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ یہ روش بہت پہلے اسلام میں رائج تھی اور اس کی اہمیت کے پیش نظر رسول اسلاؐم خصوصی تاکید فرماتے تھے ،افسوس تو آج کے مسلمانوںپر ہے جو اسلامی روش کو آہستہ آہستہ فراموش کررہے ہیں،آج جب ملتے ہیں تو ہاتھ ہی بہت مشکل سے اٹھاپاتے ہیں چہ جائیکہ ان کی خیر خیریت دریافت کریں ۔آج پھر اس روش کو زندہ کرنا ہو گا تاکہ لوگوں کے درمیان رشتۂ اخوت مضبوط ہو سکے ۔
۴۔اصلاح
انسان خطا و نسیان کا پیکر ہے اس کی زندگی میں کچھ ایسے موڑ آتے ہیںجہاں وہ غلطی اور خطا کا مرتکب ہوجاتاہے ،دومسلمان بھائی بھی معاشرتی پریشانیوں کی وجہ سے آپسی اختلاف کے شکار ہوجاتے ہیں ایسے عالم میں انہیںان کی حالت پر چھوڑدینا نقصان دہ ہے ان کی اصلاح اور ان کے درمیان صلح و آشتی کرانا ضروری ہے ،خداوندعالم کا ارشادہے :{انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم}’’مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو‘‘۔(۱۶)

والسلام
سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
حوالہ جات
۱۔آئینہ ٔ حقوق ص۳۶۳
۲۔طہ؍۲۴
۳۔طہ ؍۲۹۔۳۲
۴۔قصص ؍۳۵
۵۔ برہان ج۱ ص۴۸۱ ح۱۰
۶۔حجرات ؍۱۰
۷۔مہجۃ البیضاء ج۳ ص ۳۳۲
۸۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ص۱۱۰
۹۔بحارالانوار ج۱۶ ص۲۳۳
۱۰۔مصادقۃ الاخوان ص۴۸،نقل از سیری در رسالۂ حقوق امام سجاد ج۲ ص۴۱۷
۱۱۔میزان الحکمۃ ج۱ص۸۰۵
۱۲۔میزان الحکمۃ ج۳ ص ۱۵۱
۱۳۔غرر الحکم ص۳۹۶ ح۹۱۶۹
۱۴۔بحار الانوار ج۷۴ ص۳۵۵
۱۵۔مصادقۃ الاخوان ص۷۲،نقل از سیری در رسالۂ حقوق امام سجاد ج۲ ص۴۱۷
۱۶۔حجرات ؍۱۰
سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.