×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فکشن کی تنقید کی طرف نوجوانوں کا میلان خوش آیند

خرداد 13, 1393 0 374

دہلی میں واقع غالب اکیڈمی میں دبستان ابر کے زیر اہتمام تین کتابوں کی رسم رونمائی ہوئی ۔استاد شاعر احمر جلیسری کے شعری مجموعے’مخفی دانائیاں‘

اور سلمان عبدالصمد کی کتاب ’’قرآن کا نظریہ سیاست‘‘ اور’ غضنفر کا فکشن ‘پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ابن کنول صدر شعبہ اردو دہلی یونیور سٹی نے کہا کہ احمر جلیسری نے اپنے مجموعے میں اسلامی موضوعات پر اچھی شاعری کی ہے ، ان کے متعدد شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سلمان عبدالصمد نے غضنفر کے فکشن میں ایک بیدار مغز قاری کی حیثیت سے فکشن کے تجزیے پر توجہ مبذول کی ہے ۔ اس لیے اس طالب علم کی کاوش میں انتہائی عمدہ تنقید کا نمونہ تلاش کرنا تو فضول ہے مگر ان کی اس کتاب کو تنقید نگاری سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ذہن فکشن کی تنقید کی پر گہرائی سے توجہ دے رہا تو یہ خوش آئند بات ہے ، سلمان اگر پابندی سے فکشن اور اس کی تنقید پر توجہ دے تو تنقید کے حوالے سے ان کا مستقبل تابناک ہے ۔ عالمی اردو ٹرسٹ کے چیر مین اے رحمان نے دونوں صاحب کتاب کو مبارکبا د پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کا مستقبل روشن ہے ، یہی وجہ ہے کہ نت نیے موضوعات پر کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں ،اہل اردو کو اردو کی بقا اور اس کی نیک نامی کے لیے گہری تحقیق اور اچھی تنقید پر توجہ دینی چاہئے ۔واضح رہے کہ قرآن کے نظریہ سیاست میں مصنف نے کئی اہم سوالوں کو اٹھا کر اسے قران و احادیث کے تناطر میں حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔قرآن کی رو سے پارٹیوں کا قیام عمل ، ووٹ ،ووٹر س اور سیاسی لیڈران کو سامنے رکھ کر قران کے سیاسی پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی گئی ۔اس موقع پر خاص طور پر شبنم صدیقی ، سہیل صدیقی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ، شمس رمزی ،غزالہ ثمیر ،عمران احمد ، سید عینین علی حق ، انیس الرحمان خان ، محمد مستقیم ایڈیٹر سیاسی تقدیر، کانگریس لیڈرطارق صدیقی اور شکیل الزماں انصاری کے علاوہ دہلی یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو کے متعددطلبا اور ریسرچ اسکالر موجودتھے ۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.