×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

’’پیا گھر جانا ہے تو پانچ لاکھ ریال دینا ہوں گے‘‘

خرداد 25, 1393 0 328

خواتین کے لیے ولی اور سرپرست کا ہونا ایک نعمت سمجھا جاتا ہے لیکن بسا اوقات یہ نعمت، زحمت بھی بن جاتی ہے۔ایسا ہی ایک

واقعہ سعودی عرب کے شہر جدہ کی ایک دوشیزہ کے ساتھ پیش آیا جس کے والدین فوت ہو گئے اور سرپرست کی ذمہ داری اس کے چچا کے کندھوں پر عائد ہوئی۔ لڑکی بیس سال کی عمر کو پہنچی تو اس کے رشتے آنا شروع ہوئے لیکن چچا ہر ایک کو انکار کر دیتا۔ ایسا کرتے کرتے لڑکی کی عمر تیس سال ہو گئی اور اس کی کسی سے شادی نہ ہو سکی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک روز لڑکی جرات کرکے اپنے سرپرست "ہونہار" چچا سے پوچھ بیٹھی کہ وہ اس کی شادی سے انکاری کیوں ہے اور تمام رشتے کیوں ٹھکرا دیے ہیں؟ اس پر چچا نے دل کی بات زبان پر لائی اور کہا کہ آپ کی شادی اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ آپ ترکے میں ملنے والے نصف ملین ریال میرے حوالے کر دیں۔
چچا کے منہ سے یہ بات سن کر لڑکی کچھ دیر تو سکتے میں آ گئی، تاہم اس نے اپنے چچا کو یقین دلایا کہ وہ اس بارے میں غور کرے گی۔ اس نے قانونی ماہرین کی خدمات لیں اور پوچھا کہ کیا مجھے ایسا کرنا چاہیے یا نہیں۔قانونی ماہرین نے بھی کہا کہ آپ شادی کرنا چاہتی ہیں تو اس کی یہ قیمت ادا کر دیں۔ لڑکی چچا کی بلیک میلنگ کا شکار ہو گئی اور اس نے شادی کے لیے نصف ملین ریال کی رقم چچا کے حوالے کر دی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.