روپ پور نیوکلیئر پلانٹ کا پہلا یونٹ نومبر میں قومی گرڈ سے منسلک ہوگا
science-and-technology

روپ پور نیوکلیئر پلانٹ کا پہلا یونٹ نومبر میں قومی گرڈ سے منسلک ہوگا

Editorial Team•Oct 10, 2026 · 5:39 AM•3 min read
اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر: بنگلہ دیش کا روپ پور ایٹمی بجلی گھر، جس کا پہلا یونٹ نومبر کے آخر تک قومی گرڈ سے منسلک ہونے کی توقع ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
روس ایٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے ڈھاکہ میں مذاکرات کے دوران بنگلہ دیش کے پہلے نیوکلیئر توانائی منصوبے کی ٹائم لائن کی تصدیق کی

بنگلہ دیش کے پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا پہلا یونٹ نومبر کے آخر میں قومی بجلی کے گرڈ سے منسلک کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان روس کی سرکاری نیوکلیئر کارپوریشن روس ایٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسی لیخاچیف نے کیا۔

لیخاچیف نے جمعے کے روز ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فقیر محبوب انعام کے ساتھ ملاقات کے دوران اس ٹائم لائن کا اعلان کیا، جس میں روپ پور نیوکلیئر منصوبے سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ پیش رفت بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، جو بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب پوری کرنے اور توانائی کے دیگر ذرائع پر انحصار کم کرنے کے لیے نیوکلیئر توانائی کی جانب رجوع کر رہا ہے۔ روپ پور پلانٹ ملک کا سب سے مہنگا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے اور یہ ڈھاکہ اور ماسکو کے درمیان توانائی کے شعبے میں گہرے ہوتے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

منصوبے کے اہم سنگ میل

روپ پور پلانٹ، جو ڈھاکہ سے تقریباً 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور بنگلہ دیش اٹامک انرجی کمیشن نے تعمیر کیا ہے، دو یونٹوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کی صلاحیت 1,200 میگاواٹ ہے۔ اس تنصیب میں ایندھن کی لوڈنگ کا آغاز اپریل میں ہوا تھا۔

وزیر انعام کے اپریل میں دیے گئے بیانات کے مطابق پہلا یونٹ ابتدائی طور پر 300 میگاواٹ کی فراہمی کے ساتھ کام شروع کرے گا۔ مکمل تکمیل کے بعد اس پلانٹ سے بنگلہ دیش کی بجلی کی طلب کا 12 فیصد تک پورا کرنے کی توقع ہے۔

منصوبے کا پس منظر

روپ پور نیوکلیئر پلانٹ کو روس کی جانب سے بھاری مالی اور تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ ماسکو اس منصوبے کے لیے 11.9 ارب ڈالر کے سرکاری قرضے فراہم کر رہا ہے، جس کی مجموعی لاگت 12.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

روس اس تنصیب کے لیے آلات، نیوکلیئر ایندھن اور انجینئرنگ معاونت فراہم کر رہا ہے۔ جون میں بنگلہ دیشی وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کے دوران اس پلانٹ کو دونوں ممالک کے درمیان "تعاون کی یادگار" قرار دیا تھا۔

سرکاری بیانات

جاری کام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیخاچیف نے اس منصوبے کی مشترکہ نوعیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے ماہرین نہ صرف تعمیر کر رہے ہیں بلکہ کندھے سے کندھا ملا کر بنگلہ دیش میں آپریٹرز کے ساتھ مل کر پلانٹ کے مؤثر اور محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ حتمی فیصلے بنگلہ دیشی حکام کے اختیار میں ہوں گے۔ لیخاچیف نے کہا کہ "تمام حتمی فیصلے حکومت بنگلہ دیش اور عوام بنگلہ دیش کریں گے۔ ہم نومبر کے آخر کا ہدف رکھے ہوئے ہیں۔"

موجودہ صورتحال اور آئندہ اقدامات

پہلے یونٹ میں ایندھن کی لوڈنگ اپریل سے جاری ہے اور اب بجلی کے گرڈ سے منسلک ہونے کا ہدف نومبر کے آخر تک مقرر کیا گیا ہے۔ لیخاچیف نے واضح کیا کہ یونٹ کے فعال ہونے سے قبل کچھ کام مکمل ہونا باقی ہے۔

گرڈ سے منسلک ہونے کی قطعی تاریخ یا دوسرے یونٹ کے آپریشنل شیڈول کے حوالے سے ابھی تک کوئی مزید سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!