×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

سامراجیت کا عروج

May 19, 2014 758

لوک سبھا کے انتخابات منظر عام پر آچکے ہیں۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ عوامی نمائندگان کی بہت سی توانائی آپس کی لڑائی میں ہی خرچ ہو جاتی ہے جس کا

سنگھ پریوار کو اس کا پورا فائدہ نصیب ہوا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے 1930 کی دہائی میں جرمنی میںکے پی ڈی اور ایس پی ڈی جیسی پارٹیاں اسی بحث میں الجھی ہوئی تھیں کہ جرمن معاشرہ کا صحیح طبقاتی کردار کیا ہے جبکہ ہٹلر نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔قابل غوریہ ہے کہ عوامی نمائدہ طاقتوں میں اگر بدنظمی نہیں رکی اور باہمی بحث میں ہی ساری توانائی ختم کرتے رہے تو یہ عام لوگوں کیساتھ دھوکہ ہوگا۔ سماجی تبدیلی کیلئے جو قربانیاں تحریکوں کیساتھ وابستہ کارکنوں نے دی ہیں ، وہ رائیگاں نہ جائیں۔ پوری دنیا میں سرمایہ داری کاشدید بحران رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ رجحانات سے سبق حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔مقامی اور غیر ملکی ذرائع سے میسر بے انتہا سرمایہ کی مدد سے ،میڈیا کے بڑے حصے کو خرید کر ، تمام قسم کی بیہودگی بے سروپادروغ گوئی ، کہیں ترقی کا جھانسہ ، کہیں مسلمانوں کو بھروسہ تو کہیں ڈر دادھمکا کر ، نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اتحاد عرف این ڈی اے نے سب سے زیادہ نشستوں پر قبضہ کرلیاہے۔ ترقی بمقابلہ بدعنوانی کی آڑ میںہندتو کے ہاتھوں سیکولرازم کانعرہ اپنی جاذبیت سے محروم ہوچکا ہے۔ جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ نہ تو بدعنوانی کم ہونے والی ہے اور نہ ہی صحیح معنوں میں کوئی ترقی ہونے والی ہے۔جو ترقی کے دعویدار ہیں انہوں نے جن کے دس ہزار کروڑداو ¿پر لگوائے ہیں ، وہ کونسا دودھ کے دھلے ہوئے ہیں ، یا یوں کہئے کہ وہ دودھ ہی سے نہاتے ہیں ؛ انہیں تو مع سود اپنا سرمایہ واپس چاہئے۔ انہیں اپنے دھندوں میں زیادہ سے زیادہ منافع چاہئے ، اس لئے اسٹاک مارکیٹ بھی انتخابی نتائج کی طرف تاک لگائے ہوئے بیٹھی ہے۔رونا تو اس صورت میں تھاجبکہ بی جے پی کو اکثریت نصیب نہیں ہوتی۔ مودی کو کامیابی نہیں ملتی حصص بازار میں 8 سے10 فیصد کی کمی دیکھنے کو ملتی جبکہ بعض کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق بازار 20 فیصد تک نیچے گرجاتا جبکہ2004 کے عام انتخابات کے نتائج کے وقت بھی ایسا ہو چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہارنے کے سبب نتائج کے دن ہی نیشنل اسٹاک ایکسچینج 12.2 فیصد گرگیا تھا جبکہ اگلے روز یہ کمی 19 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ بازار کوتوقع ہے کہ مودی گذشتہ ایک دہائی سے جاری معیشت کی سست رفتار کو پھر سے پٹری پر لانے میں کامیاب ہوں گے جبکہ یہی توقعات خدشات بھی پیدا کر رہی ہیں۔ ترقی کے شوراورپرپیگنڈہ کیساتھ فرقہ وارانہ اور فاشسٹ طاقتیں ایک قدم آگے بڑھ گئی ہیں۔

سیدھے سادے عوام:
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام لوگ واقعی اتنے بھولے ہیں کہ وہ ایک بھیڑچال میں آ کر اس طرح اپنی ہی پونجی برباد کر بیٹھے ہیں۔ کیا اطلاعاتی انقلاب کے تمام پہلوو  ں کے باوجود ملک کی عورتوں کو پتہ نہیں کہ ان کے تئیں سنگھ پریوار کا نظریہ کیا ہے ؟ بے انتہاسرمایہ کاری کے باوجود سنگھ پریوار کو آج تک جنوبی صوبوں میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے۔ تعلیم ، غربت کا خاتمہ اور انسانی ترقی کے تمام اعداد و شمار میں ہندی علاقے جنوبی ریاستوں سے بہت پیچھے ہیں۔ میڈیا میں شور شرابے کا جو اثر ہندی ریاستوں میں دکھائی دیتی ہے ، اتنا جنوبی ہند میں نہیںنظر آتا۔ذرائع ابلاغ نے پڑھے لکھے لوگوں تک کواپنا ذہنی غلام بنارکھا ہے۔ میڈیا اوراطلاعاتی صنعت سے وابستہ کمپنیاں اربوں روپے کی رقم اس علمی تحقیق پر کرتی ہے جس سے ذہن سازی اورنظریات پر کنٹرول حاصل کیا جاسکے۔ نظم و نسق یا ایڈمنسٹریشن میں تربیت کا بڑا حصہ اسی نوعیت کاہوتا ہے۔ ناخواندہ یاکم پڑھے لکھے لوگوں کی کیا بساط کہ ایسے طوفان کا مقابلہ کرسکیں۔اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں کہ شمالی ہند کے بڑے حصہ میں سنگھ پریوار کا اثر گہرا ہواہے۔ گجرات اور مہاراشٹر میں ان کی جڑیں پہلے سے ہی گہری ہیں اور کہیں تشدد تو کہیں سیاسی داوپیچ سے مخالفت کی زمین کو اکھاڑنے میں وہ کامیاب رہے ہیں۔لیکن بات محض اتنی نہیں ہے بلکہ ترقی کے جھانسے اور فرقہ پرستی کے شوروغوعا کا اثر غریب ان پڑھ عوام پر ہی نہیںبلکہ ملک کے نام نہاد عظیم ثقافتی ٹھیکیداروں‘صاحب ثروت اور متوسط طبقہ کے بہت سے لوگ دراصل بے حس،ظالمانہ اور سفاکانہ ذہنیت کیساتھ اکثریتی طبقہ کے خلاف سازش میں شامل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے طے کر لیا کہ اب ان غریب غربا کو ختم کرو ؛ ان سے پانی ، ہوا ، مٹی سب چھین لو۔شور بپا کہ بائیں بازو جماعتیں تو ایسی جماعتوں کیساتھ ہاتھ ملا رہی ہیں جن میں بدعنوان لیڈروں کی بھرمارہے۔

جمہوری قوتوں کیلئے سبق:
 متوسط طبقہ کی جمہوریت اور پارلیمانی انتخابی کھیل کی مجبوری میں اتحاد کی سیاست کرنے پر بھی بائیں بازو کو لتاڑ ملتی ہے کہ بایاں بازو تو اب ختم ہو گیا۔ جیسے کہ ہندوستانی بائیں بازو کی قیادت میں گزشتہ سو سال پر مشتمل زمینی تحریک کی تاریخ ،عوامی تحریکوںکی تاریخ ، سب کچھ محض خواب و خیال تھا۔درحقیقت آج بھی سڑک سے پارلیمنٹ تک اور زمین ، جنگل کی اخلاقی لڑائی میں بایاں بازو ہی امید کی آخر ی شعاع سمجھی جا رہی ہے۔ایسی صورتحال میں جمہوری قوتوں کیلئے سبق کیا ہے ؟ بعض خواتین کا پہلا سوال یہ ہوگا کہ کون سی جمہوریت ؟جبکہ آج بھی ایسا طبقہ موجود ہے جسے اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے کی بیماری لاحق ہے۔ جمہوری روایت کا ایک براہ راست نتیجہ نظریاتی تنوع ہے۔ باہمی نظریات کے تنوع کا احترام کرنا سیکھناہو گا۔ دوسروں کو چوٹ پہنچائے بغیر ، اپنی بات کہنے کے طریقے ایجاد کرنے ہوں گے۔اپنی توانائی ایکدوسرے کیساتھ بحث ومباحثہ میںصرف کی ہے جو جمہوریت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو نظر انداز کرنے کی بجائے مشترکہ جنگ کا پلیٹ فارم تیار کرناچاہئے تھا۔ پہلا عزم ان سبھی محنت کشوں کے تئیں ہو جوعوامی تحریکوں سے لے کر سرمایہ داری کے سامنے گھٹنے ٹکادینے والی ریاست کے خلاف مختلف قسم کی عمومی جدوجہدمیںمصروف ہیں۔بڑی سماجی سیاسی جدوجہد میں کون سا نظریہ کامیاب ہوتا ہے اور کون سا ناکام ،اس کے اتر چڑھاو ¿ سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ایک اسٹیج پرمجتمع ہونے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں ؛ ایسی بڑی کوششیں حال میں مصنف تنظیموں کی مشترکہ جلسوں اور فورموں میں ہوئی جن کا اندازہ ان کے بیانات سے ہوتا ہے۔پوری انسانیت مثبت روایتوں ‘نظریات اور خیالات کی محتاج ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کا شعور پختہ کرنے کیلئے ایسی زبان میں تبادلہ خیالات کیا جاتا ہے جوصاحب بصیرت لوگوں کی زبان نہیں ہے ، بلکہ زیادہ تر ایسے محاورے دلیل کے طور پرمستعمل ہیں جواس سر زمین سے وابستہ نہیںہیں۔

یوروپ میں ہیں اس کی جڑیں:
دوسری طرف تنگ نظر اور فرقہ وارانہ قوم پرستی کانظریہ ہے جو یوروپ کے مخصوص حالات کی پیداوار ہے اور جسے یوروپ کے لوگ عام طورپر مسترد کر چکے ہیں ، اس شر انگیزمہم کے فروغ میںسنگھ پریوار مکمل طور پر مقامی زبانوں اور مقامی محاوروں کا استعمال کرتا ہے جبکہ فاشزم کے فروغ اور جمہوریت کی ناکامی کا ایک لسانی حق بھی ہے ، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔دوسرے ملکوں سے مثال تلاش کریں تو وینزویلا کے اوگو شاویز کوئی بڑے مفکر نہیں تھے ، لیکن لوگوں کو اپنے ساتھ لینے میں نہ صرف وہ اپنے ملک میں کامیاب ہوئے ، بلکہ پورے لاطینی امریکہ اور دنیا کے اور دیگر ممالک میں بھی عوام کیلئے حوصلہ افزائی کے ذریعہ بنے۔ یہی بات کیوبا کے بارے میں بھی کچھ حد تک کہی جا سکتی ہے۔کاسترو کا نام کمیونسٹ تاریخ میں مفکر نہیں ، بلکہ ایک ہنر ایڈمنسٹریٹر کے طورپرہی جانا جاتا ہے۔ان سب کے برعکس جہاں بھی نظریاتی درستگی پر زور مزید رہا ہے ، وہاں لوگوں کیساتھ قیادت کا تعلق ٹوٹا ہے جبکہ سامراجی طاقتوں کو مداخلت کرنے کا موقع ملا ہے۔ گریناڈا اور افغانستان اس کے واضح مثالیں ہیں۔ اس کے برعکس وہ وینزویلا میں نظریاتی دانشوروں نے اپنی سرحدوں کو اور چاویج کی مقبولیت کو پہچانتے ہوئے انہیں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے دی۔ ان کی موت کے بعد ویسے ہی کسی کرشماتی لیڈر کے نہ ہونے کے سبب وہاںعوامی طاقتیں منقسم ہوئی ہیںجس کا فائدہ امریکی سامراج کونصیب ہوا ہے۔ترقی پسند تحریک نے امبیڈکر کو انقلابی لیڈر مان کر اپنی غلطی کی اصلاح کر لی ہے۔ بائیں بازو کی قیادت وقت کیساتھ بدلتے ہوئے نعرے تلاش کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ جو لوگ میڈیا کے جھانسے میں آ گئے ہیں وہ ایسا ہی کہیں گے۔ درحقیقت ملک میں جاری تقریبا تمام عوامی تحریکیں کسی نہ کسی طرح بائیں بازو کے زیر اثر ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بائیں بازو کے پاس انتخابی نظام میں بہت سرمایہ کا استعمال اور میڈیا کے تعصب سے ٹکر لینے کی صلاحیت نہیں ہے۔

 یوروپ میں ہندوستان کی آئندہ حکومت کے تعلق سے خوف اورتوقعات پر مبنی سفارتی کارڈ کھیل ختم ہوچکا ہے۔ گزشتہ 3 مہینوںکے دوران یوروپ کے تجارتی اور سفارتی گروپ نے سب سے زیادہ ہندوستان کے دورے کئے ہیں۔ نئی دہلی میں2مئی کو پانچویں’ ایورو انڈیا فورم‘ Euro-India Forumکا 2 روزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مستقبل کی حکومت سے اسٹریٹجک شراکت داری پر مذاکرہ ہوا۔ اس کے ہفتہ بھر کے اندر اندر ، برسلز میں قائم ایو انڈیا چیمبر آف کامرسEU Chambers of Commerce of Indiaعرف ای آئی سی سی اور یوروپی بزنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر ’ ای بی ٹی سی EBTC نے نئی دہلی میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں یوروپی کمپنیوں کی ہندوستان میں سرگرمیاں پر تفصیل سے بحث کی گئی۔ان 2بڑی تقریبات کے سلسلہ میںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یوروپ والوں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کو لے کر اتنی بے چینی کیوں ہے؟ اس پلیٹ فارم پر ہندوستان کے خوردہ کاروبار میں غیر ملکی کمپنیوں کی حصہ داری کی پرزور وکالت کرتے ہوئے صنعت کار سنجے ڈالمیا نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے اگر روزگار کے مواقع بڑھے ہیں تو خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاروں کو ترجیح دینے میں حرج کیا ہے۔اسی فورم پر ای آئی سی سی کے جنرل سکریٹری سنیل پرساد نے یوروپ‘ ہندوستان کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ عرف ایف ٹی اے اور براڈ بیسٹ ٹریڈ اینڈ اینوئرمنٹ ایگری منٹ عرف بیٹیا پر دستخط نہ کئے جانے کے سلسلہ میں سوالیہ نشان قائم کیا۔ سنیل پرساد کے بقول 2007 سے بات چیت چل رہی ہے لیکن اب تک’ بٹیا ‘ BTIAیعنی Bilateral Trade & Investment Agreement کی’ شادی ‘ نہیں ہوئی۔ ایف ٹی اے اور بیٹی ایک ایسی مثال ہے ، جو یوروپی لال فیتہ شاہی اور اس کی سست رفتار ی کی ترجمانی کرتی ہے۔

متعددمشترک اقدار:
درحقیقت ہندوستان اور یوروپی یونین ، اس وقت کئی باتوں میں ایک دوسرے کو قریب پائے جارہے ہیں۔ یوروپی یونین 28 ممالک پر مشتمل تنظیم ہے جبکہ ہندوستان میں بھی 28 ریاستیں ہیں۔ ہندوستان میں انتخابات کے ساتھ ساتھ ، یوروپی پارلیمنٹ کے انتخابات ہو ر ہے ہیں۔ہندوستان میں انتخابات کے نتائج آچکے ہیں جبکہ ہفتہ بھر بعد 751 رکنی یوروپی پارلیمنٹ کے انتخابات کے نتائج منظرعام پرآنے والے ہیں۔ 2009 کے دوران یوروپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں 43 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہندگی کا استعمال کیاتھا۔ اب یوروپ میں ہندوستانی ووٹروں کی حصہ داری کو مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں اس وقت’ سینٹر رائٹ‘یا دائیں بازو متوسط طبقہ اقتدار میں آچکاہے جبکہ یہی حال یوروپ کا ہے۔یوروپی پارلیمنٹ میں سینٹر رائٹ والے اقتدار میں آ جائیں ، اس کیلئے مکمل ماحول سازگار کیا گیا ہے۔ ای یو انتخابات میں لکسم برگLuxembourg کے سابق وزیر اعظم اور سینٹر رائٹ کے لیڈر جین کلاو ¿ڈے جنکر ،Jean-Claude Juncker پین یوروپین پارٹی گروپ کی وجہ سے آگے چل رہے ہیں۔ کیا جرمنی کے مارٹن شلجMartin Schulz جو یوروپی یونین کے موجودہ صدرسینٹر رائٹ لیڈرجنکرJuncker کی کرسی چھین پائیں گے؟ یہ کون بنے گا کروڑ پتی جیسا سوال ہے۔ شلج ، یوروپی پارلیمنٹ میں سینٹر لیفٹ متوسط بائیں بازو کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہندوستان کی طرح یوروپی سیاست میں بھی پل جھپکتے ہی ہوا کا رخ تبدیل ہوجاتا ہے۔لکسم برگ میں اعداد و شمار معلومات فراہم کروانے والی تنظیم’یوروسٹاٹ‘Eurostat کی تفصیلات کے مطابق یوروپی یونین 2000سے اب تک 48.7 ارب یورو کی سرمایہ کاری ہندوستان میں کر چکی ہے۔

سب سے زیادہ سرمایہ کاری:
دوسرے لفظوں میں ہندوستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا گروپ یوروپی یونین ہے ، اس کے باوجود آزاد تجارت سمجھوتہ عرف ایف ٹی اے یا بیٹی نہیں ہو پا رہا ہے۔ کیا لزبن معاہدہ Lisbon Agreementکی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے ؟ یکم دسمبر 2009 سے نافذ لزبن معاہدہ کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ7 سال سے ایف ٹی اے کامسئلہ حل نہیں ہوسکا۔اس کے باوجود’ ایف ٹی اے‘ اور’ بیٹی ‘ کے بغیر ہند‘ یوروپ کے مابین کاروبار ہو رہا ہے۔ 2012 میں ہند‘ یوروپی یونین کے درمیان 63 سودے ہوئے لیکن 2013 میںمحض41 سودے ہو سکے۔ یوروپی یونین ‘انڈیا چیمبر آف کامرس عرف ای آئی سی سی اور یوروپی بزنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹرعرف ای بی ٹی سی کے نمائندوں نے نئی دہلی میں رپورٹ جاری کرتے وقت اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کو روکنے میں یہاں کی لال فیتہ شاہی قصوروار ہے۔’ایف ڈی آئی انٹیلی جنس‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2004 سے 2013 تک یوروپ کے2566 منصوبے ہندوستان میں کام کر رہے ہیں جن سے قریب 5 لاکھ62 ہزار روزگار کے مواقع نصیب ہوئے۔ اتنے روزگارمہیا کروانے میں برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کا بڑا کردار رہا ہے۔روزگار پیدا کرنے میںان 3 ممالک کی 51 فیصد حصہ داری رہی ہے لیکن تن تنہا گزشتہ10 سال کی مدت کے دوران امریکہ نے یوروپ سے کہیں زیادہ یعنی5 لاکھ ، 75 ہزار 7 سو11نئے روزگار ہندوستان میںفراہم کروائے ،جبکہ جاپان نے قریبا 2 لاکھ 25 ہزار کام کے مواقع نصیب کروائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یوروپی یونین ، امریکہ اور جاپان جیسے ممالک ہندوستان میں روزگار دینے کا سوال اٹھا کر نئی حکومت پر خوردہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے دباو ¿ قائم کریںگے ؟
 
صنعتوں پر نشانہ:
ہندوستان میں تعلیم ایک بڑی صنعت بن چکی ہے۔ یوروپی‘ امریکی کمپنیاں ہندوستان میں ذاتی یونیورسٹیوں کا سیلاب لانے کیلئے منہ میں پانی بھررہی ہیں۔ 2012 میں آئی آئی ایم‘ احمدآباد کی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ بیرون ممالک جاکر پڑھنے والے ہندوستانی طالب علموں کی تعداد میں 256 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایسوچیم کا اندازہ ہے کہ اس سے ہندوستان کو13 ارب ڈالر کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے ، اس لئے 2020 تک ہندوستان میں ساڑھے 4 کروڑ طالب علموں کو اعلی تعلیم دینے کیلئے 8 سو یونیورسٹیاں مزیددرکارہیں۔ آٹوموبال ، اسٹرکچرل ، رئل اسٹیٹ ، فوڈ پروسسنگ ، توانائی ، فوجی سازو سامان ، ٹیکنالوجی میڈیا ٹیلی کمیونی کیشن عرف ٹی ایم ٹی میں سرمایہ کاری کیلئے یوروپ نئی حکومت سے سہولیات چاہتا ہے۔ گزشتہ3 مہینے سے یوروپ والے جس طرح سے اسٹریٹجک بات چیت کر رہے ہیں ، اس سے اس کی جھلک ملتی ہے۔سیاسی نعروں سے اکتانے والے عوام کیلئے اب اہم یہ ہوگا کہ نئی حکومت کی دلچسپیاں کیا ہیں۔ اگر سرمایہ کاری کرنے والے بیرونی ملک کی باتیں ان سنی ہوتی ہے تو یہاں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کی حکومتیں کم سے کم’ فساد یادگاریں‘ بنانے کی پہل تو کریں گی ہی !اب یوروپین کہہ رہے ہیں کہ جب جلیانوالا باغ میں 379 لوگوں کے قتال پر ’ میموریل ‘ بن سکتا ہے ، تو گجرات فسادات میں مرنے والے 2ہزار لوگوں کی یاد میں یادگار کیوں نہیںتعمیرہو سکتی ؟ سردار پٹیل کا بلندترین مجسمہ بنانے کا عزم کرنے والوں کو شاید یہ بات اچھی نہ لگے۔1984کے دوران سکھوں کا قتل عام کرنے والوں کو بھی یہ بات بری لگ سکتی ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کیا سوچنا کہ جنہیں ’ جلتے ہوئے ٹائر کی مالا ‘ پہنا کر مار دیا گیا ، ان کی یاد میں یادگار بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟

کیا سکھایابازارازم نے؟
 دہلی کی ترلوک پوری میںسب سے زیادہ سکھ مارے گئے تھے۔30 سال گزر چکے۔ ابھی آپ ترلوک پوری کے گلی کوچوں میں گھوم آئیے ، فسادات کا ایک بھی نشان نہیں ملے گا۔ مغربی ریلوے کے پی آر او نے بتایا کہ گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے جلے ہوئے ڈبے ، کب کے ہٹائے جا چکے ہیں۔ احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی کے کھنڈرات فسادات کی ہولناک داستان کہتے ہیں۔ لیکن چمن پورا ، نانواڈا ، نرودا پاٹیا ، نروداگرام ، صدرپورا ، ہمت نگر ، سندھی بازار ، ریوڑی مارکیٹ محض تذکرہ تک محدود رہ گئے ہیں کہ12سال قبل یہاں فساد ہوا تھا۔ فسادات کے نشان شاید ہی ان جگہوں پر نظر آئیں۔ گجرات فسادات پر بنی فلم’ پرجانیہParjanya‘ ضرور ہماری روح کو ہلا دیتی ہے۔یوروپ والے فسادات ، قتل عام ، انسانی ظلم کو سیاحت کا حصہ کیوں بنا دیتے ہیں ؟ آو ¿سووٹزاذیت رسانی کیمپ Auschwitz concentration camp دیکھنے کیلئے ہمیں کم سے کم 10 یورو یعنی تقریبا 8سو روپے کیوں خرچ کرنے پڑتے ہیں ؟ نیویارک میں 9 / 11 میوزیم اور میموریل دیکھنے کیلئے 24 ڈالریعنی تقریبا ساڑھے 14 سو روپے کیوں خرچ کرنے ہوتے ہیں ؟ عجیب معاشیات ہے۔ دہشت گرد ی سے مسمار ، نسل کشی کے تباہ کن نتائج دیکھنے ہیں تو جیب ڈھیلی کریں۔ امریکہ اور یوروپ کی حکومتوں نے’ قتل عام میموریل‘ بنا رکھا ہے۔ بازارازم نے تباہی اور انسانیت کے زوال پربھی پیسہ کمانے کا فن سکھا دیا۔آو ¿سووٹزاذیت رسانی کیمپ تویونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔ کیا مغربی والے گجرات میں بھی فسادات کی عالمی یادگار بنا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ؟ فی الحال یوروپی یونین نے مودی کوتمام قصوروں سے مبرا قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں یوروپی یونین نے مودی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیاجبکہ برطانیہ نے اس کیلئے ماحول سازگارکیا۔ امریکہ نے بھی اپنے یوروپی دوستوں کی بات مان لی جبکہ مودی چائے کی چسکیاں لوگ لینے لگے لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہیںپیداہونی چاہئے کہ یوروپی یونین کے چارٹر سے انسانی حقوق کی حفاظت کا معاملہ سرے سے غائب ہو گیا ہے۔ نہ ہی 2002 فسادات کے سوال کو انہوں نے حاشیہ پر رکھ دیا ہے۔ اس کااسکرپٹ سری لنکا کی سرزمین پر لکھا جا رہا ہے۔ سری لنکا کے تھنک ٹینک نے سوالیہ نشان قائم کیا ہے کہ جب تملوں کے قتل عام کیلئے مہندا راج پکشے کو کٹہرہ میں کھڑا کیا جا سکتا ہے توپھر مودی کو کیوں نہیں ؟کیاکولمبو کے اس سوال اسلام آباد کوبھی اتفاق ہے؟ سری لنکا میں ابھی یہ معاملہ تھنک ٹینک ، ٹی وی ، اخبارات میںزیر بحث ہے‘ اسے سرکاری سطح پر نہیں اٹھایا گیا ہے۔’ ایشین ہیومن رائٹس واچ‘ اور’ ورلڈ ہیومن رائٹس واچ ‘ جیسے ادارے اس سوال کو اجاگرکرنے میںکیوں مدد فراہم کر رہے ہیں جبکہ انہیں تنظیم چلانے کیلئے پیسہ یوروپ سے ملتا ہے۔آخربلندی تک رسائی کیلئے کسی کو کندھا تو چاہئے ہی نا!
ایس اے ساگر

Login to post comments