×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

یو کپ کی پیالی میں طوفان

May 29, 2014 454

یورپی الیکشن میں دائیں بازو کے نسل پرستوں ، قوم پرستوں اور اینٹی امیگریشن گروپس کی کامیابی تارکین وطن کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

وہ وقت دور نہیں جب تارکین وطن کو جبری یورپ سے نکالنے کا مطالبہ زور پکڑ جائے گا۔ یورپی بنیادی طورپر نسل پرستی پر فخر کرتے ہیں اور جو نسل پرستی کے مخالف ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ نسلی بنیاد پر یورپ میں اور دنیا کے مختلف ممالک میں گزشتہ ایک سو برسوں میں 6کروڑ سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یورپی اقوام نے1500ء   سے لے کر بیسویں صدی تک نو آبادیاتی نظام نسلی بنیادوں پرہی قائم کیا تھا۔ رنگ ونسل کے نام پر افریقی عوام کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھا گیا  بھارت کے عوام کو غلامی کا طوق پہننا پڑا۔ نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے باوجود تیسری دنیا کے عوام اب بھی مغربی ممالک کے بنائے ہوئے معاشی نظام میں جکڑے ہوئے ہیں۔
نسلی بنیاد پر دوسری اقوام کو ملیا میٹ کرنے کی روایت یورپ میں ایک تاریخ رکھتی ہے۔ ماضی قریب میں بوسنیا ، کوسووو اور چیچنیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جب کسی قوم پرنسل پرست مسلط ہوجاتے ہیں وہ عوام کو ذہنی طورپر مفلوج کرکے ان سے ہرناجائز کام کروالیتے ہیں نازی جرمنی کی مثال بھی ہمیں یادرکھنی چاہیے۔ہم لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آئندہ چند سالوں میں ہوسکتا ہے۔ حالیہ لوکل اور یورپی انتخابات میں یو کے اینڈی پینڈنٹ پارٹی ( یو کپ) کی کامیابی نے برطانیہ میں آنے والی تبدیلی کا اشارہ دیدیا ہے اب یہ علمی بحث نہیں رہی بلکہ عملی طورپر اس کا مظاہرہ ہمارے سامنے ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چند انتہا پسند برطانیہ کے مروج سیاسی نظام میں کوئی اہم رول ادا نہیں کرسکتے۔ لوکل الیکشن میں یو کپ نے ڈیڑھ سو سے زائد سیٹیں حاصل کرکے ایک نئے ٹرینڈ کی نشاندہی کی تھی جس کا اظہار یورپی الیکشن میں 24سیٹوں کی صورت میں ہوا۔ اب یو کپ نے نیو والک میں ہونے والے ضمنی الیکشن پر اپنی توجہ مرکوز کرلی ہے اگر وہاں پر یو کپ کامیاب نہ بھی ہوئی لیکن ووٹنگ کے تناسب میں اس کی موجودگی ظاہر ہوگئی تو سیاسی پنڈت اس میں بھی بہت کچھ پڑھ لیں گے۔
یورپی الیکشن میں 43لاکھ سے زائد ووٹ لے کر یو کپ برطانیہ کی نمبرون پارٹی قرار پائی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ عام انتخابات میں یو کپ سے وہ توقعات نہیں ہیں جو ٹوری یا لیبر پارٹی سے عوام رکھتے ہوں گے لیکن2015میں بھی اگر یو کپ کا ووٹ 10فیصد سے زائد ہوا تو ٹوری پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔ 2010میں یو کپ نے تین عشاریہ ایک فیصد ووٹ حاصل کئے تھے جس کی وجہ سے ٹوری پارٹی کئی مارجنل سیٹیں ہار گئی تھی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یو کپ میں ٹوری پارٹی سے نمایاں ووٹرز موجود ہیں یا ان کے سپورٹرز ہیں۔ یو کپ کے نظریات کیا ہیں اور اس کا منشور کیا ہے اس کے بارے میں واضح طورپر کچھ کہنا مشکل ہے 2014ء   کے انتخابات میں اس نے یورپ سے برطانیہ کو باہر نکالنے کے ایجنڈے پر مہم چلائی ہے جس کو برطانوی عوام میں پذیرائی نصیب ہوئی ہے۔
یورپی یونین سے برطانوی عوام کی بڑی تعداد خوش نہیں ہے خصوصی طورپر یورپی تارکین وطن کی بھی روک ٹوک برطانیہ آمد سے بہت سے لوگ ناراض لگتے ہیں ان کے علاوہ یورپی پارلیمنٹ نے ایسے ایسے قوانین پاس کئے ہیں جنہیں برطانوی پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیا گیا ہے۔ یو کپ نے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ برطانیہ کے 70فیصد سے زائد قوانین بنارہی ہے جس سے برطانوی پارلیمنٹ مقتدر نہیں رہی۔ یو کپ نے نسل پرستی کے لیبل کو اتارنے کے لئے 2014ء   کے الیکشن میں کئی ایشیائی امیدوار بھی کھڑے کئے جن میں یا رکشائر وہمبر سائیڈ کی سیٹ سے امجد بشیر بھی شامل ہیں ان کی کامیابی یو کپ کے لئے اچھی پروپیگنڈا مہم بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یو کپ پر لگنے والا نسل پرستی کا لیبل اتر سکتا ہے یا پھر یہ پارٹی اندر سے نسل پرست اور باہر سے اعتدال پسند نظر آتی ہے اس کا جواب تو وقت ہی دے گا لیکن ا س کے کئی ممبران پر نسل پرست ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ یو کپ نے فوراً الیکشن کے لئے ان ممبران کی سرزش کی اور کئی ایک کو مستعفی ہونے پر مجبور بھی کیا۔
 کچھ سیاسی مبصرین یو کپ کو نئی بوتل میں پرانی شراب کہتے ہیں۔ برٹش نیشنل پارٹی کی لوکل کونسلوں اوریورپی پارلیمنٹ میں مایوس کن کارکردگی کو بھی یو کپ کی بدولت سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام نسل پرست بی این پی کو چھوڑ کر یو کپ میں گھس بیٹھے ہیں اور وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے یو کپ کی چھتری استعمال کریں گے۔2012ء   میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں ہر تیسرا شخص خود کونسل پرست سمجھتا ہے اور باقی کھل کر اپنے آپ کو ایسا کہنے سے گریز کرتے ہیں۔ یورپ میں اب تارکین وطن سے نفرت رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں ہورہی بلکہ نائن الیون کے واقعے کے بعد یہ نفرت مذہبی بنیاد پر ہورہی ہے۔ یورپ میں تاریخی طورپر مسلمانوں کے خلاف نفرت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ مذہبی نہیں لیکن ان کے نام سن کریا پڑھ کر ان سے نفرت کا اظہار کیاجارہا ہے آپ نسل پرستوں سے لاکھ بار کہیں کہ آپ سیکولر یا سوشلسٹ ہیں وہ آپ کو نشانہ بنا کر رہیں گے۔ اس طرز عمل کا مظاہرہ ہم نے تقسیم ہند کے دوران دیکھا تھا.
 مذہب کے نام پر نفرت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک مذہب باقی ہے انیسویں اور بیسویں صدی میں بڑے بڑے فلا سفرز نے لوگوں کو نفرت سے دور رہنے کے گر بتائے لیکن انسان لالچ اور ذاتی مفاد کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرلیتا ہے اس حوالے سے مذہب کے نام پر کسی کے خلاف تعصب برتنا بہت آسان ہے کیونکہ مذہب پر عمل کرنے والوں کو مذہبی لباس بھی پہننا پڑتا ہے اس لئے ان کو ٹارگٹ کرنا اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔نازی جرمنی میں یہودیوں کو نشانہ بنانا اس لئے آسان تھا کہ وہ مخصوص قسم کا حلیہ رکھتے تھے اور گیو ٹوز ایریاز میں رہتے تھے۔ برطانیہ میں اور یورپ میں آباد مسلمان بھی بالکل اسی طرح زندگی گزاررہے ہیں۔ہمارے نوجوان اپنی مذہبی شناخت کو واضح کرنے کے لئے عربی چولے پہن رہے ہیں اور ان کے خلیے بھی بتادیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اس لئے نسل پرستوں کے لئے انہیں ٹارگٹ کرنا بہت آسان ہے۔ آنے والے دنوں میں یورپ میں آباد مسلمانوں کو ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی کہ وہ آسانی سے نشانہ نہ بن سکیں۔
حالیہ لوکل الیکشن کے دوران مجھے کئی کونسلرز کی الیکشن مہم دیکھنے کا موقع ملا ہے ان کے پاس لوگوں کے لوکل مسائل حل کرنے کا کوئی پروگرام نظر نہیں آیا وہ صرف مساجد اور اسلامک سینٹرز کی توسیع کے نام پر ووٹ مانگتے نظر آتے ہیں اگر ہمارے کونسلرز تارکین وطن میجارٹی ایریاز سے باہر جاکر الیکشن لڑیں تو ان کے چانسز بہت کم نظر آتے ہیں۔ یورپ میں جونسل پرست گروپ یورپی پارلیمنٹ میں آگئے ہیں وہ یورپ کو مسلمانوں سے پاک کرنے کے نام پر ووٹ لے کر آگے آئے ہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کھلے عام مسلمانوں کو بھگانے کے لئے ان پر حملے کرنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ نسل پرستی کے بڑھتے ہوئے اس خطرے کو روکنے کے لئے ہم لوگوں کو اعتدال پسند برٹش سیاسی پارٹیوں میں سرگرم ہونا چاہیے۔ تارکین وطن ایسے علاقوں میں آباد ہیں جہاں پر امیدوار چند ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوتے رہے ہیں وہاں پر تارکین کا ووٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس جگہ کسی نسل پرست کی کامیابی کا چانس ہو وہاں پر تارکین کو یونائیٹڈ فرنٹ یا انتخابی اتحاد کرنا چاہئے ورنہ عام انتخابات میں نسل پرست پارٹیوں کا مارچ روکنا مشکل ہوجائے گا۔
 یوکپ کی حالیہ پرفارمنس چائے کی پیالی میں طوفان ہے یا پھر کوئی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے اس کا پتہ تو 2015کے عام انتخابات کے بعد ہوجائے گا لیکن اگر یورپ سے برطانیہ کو نکالنے والی لابی کی مدد سے یو کپ کا گراف اوپر چلاگیا تو پھر آئندہ دس برسوں میں اس پارٹی کو برطانیہ کی ایک بڑی فورس بننے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ ٹوری پارٹی میں کئی ممبران پارلیمنٹ ابھی سے خوفزدہ لگتے ہیں انہوں نے ڈیوڈ کیمرون پر زور دیا ہے کہ وہ یو کپ سے انتخابی اتحاد کرلے ورنہ 40مارجنل سیٹوں پران کے امیدوار شکست سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
یو کپ کے ایڈوانس سے لیبر پارٹی کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کا ووٹ بینک نہ صرف برقرار رہا ہے بلکہ اس نے اضافی کونسلیں بھی حاصل کرلی ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں اگر یو کپ کے 15،20 امیدوار کامیاب ہوگئے تو برطانیہ میں ٹو پارٹی سسٹم کا خاتمہ ہوجائے گا اور ملٹی پارٹی سسٹم مستحکم ہوجائے گا۔ یورپ میں انتہا پسندوں کا ایڈوانس تارکین وطن کو متحد کرنے کا محرک بھی ثابت ہوسکتا ہے یورپ اور برطانیہ میں مذہب کے نام پر تارکین کو تفریق ختم کرکے ایشیائیوں کو کامیاب کرانا ہوگا۔
ہم لوگ یورپین کی مذہبی منافرت کا گلہ تو کرتے ہیں لیکن خود ہمارے اپنے رویئے ان سے بھی بد تر ہیں ہم لوگوں نے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرلیا ہے برطانوی معاشرے میں ہم نے کبھی مسکس اپ ہونے کی کوشش نہیں کی۔مقامی لوگ ہمیں اپنے فنکشنز میں مدعو کرتے رہتے ہیں لیکن ہم لوگوں کی دنیا ہی کوئی اور ہے یہاں سے دولت اکھٹی کرکے واپس لے جانے کی فکر کرتے رہتے ہیں. اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں بھی ہم نے عجیب رویئے اپنا رکھے ہیں ان کو سکولوں میں اعلیٰ گریڈ دلانے کی بجائے دینی مدرسوں کے مجاور بنا رہے ہیں انہیں اس دنیا میں زندگی گزارنے کی بجائے اس دنیا کے بعد کے لئے تیار کرتے رہتے ہیں اسی لئے ہمارے بچے برطانوی معاشرے کے لئے بے کار وجود بن رہے ہیں ان کو بہتر انسان بنانے کا فریضہ ہمیں سونپا گیا ہے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مشتاق مشرقی      

Login to post comments