×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

چپو چلاتے ہوئے فرشتے میرے مددگار ہوتے ہیں

June 11, 2014 1437

روس کے نامور مہم جو سیاح فیودر کونیوہوو ماسکو لوٹ آئے ہیں۔ چپو والی کشتی "تورگائیاک" پہ سوار تنہا بحرالکاہل کو عبور کرتے ہوئے،

انہوں نے بیک وقت دو ریکارڈ بنائے ہیں۔ ان سے پہلے کسی نے بھی ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک بحرالکاہل کو عبور نہیں کیا تھا۔ دنیا میں کوئی بھی چپو والی کشتی پر سفر کرتے ہوئے اتنی سرعت نہیں دکھا سکا تھا۔ یہ مہم جو سیاح چلی کے ساحل سے آسٹریلیا تک، پہلے سے اندازہ لگائے گئے دو سو دنوں کی بجائے ایک سو ساٹھ دنوں میں پہنچ گئے۔
وہ کمزور پڑ گئے۔ پانچ ماہ تک سمندر میں تنہا سفر کرتے ہوئے لوگوں سے ملنا جلنا بھول گئے لیکن تھکے ہوئے دکھائی نہیں دیے۔ اس کے برعکس ہشّاش بشّاش، توانا اور گرمجوشی سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ نو ہزار سمندری میل سفر طے کرنے کے بعد ان کے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے، طوفان، ہوا کے تند ترین جھکّڑ، تڑپا دینے والی گرمی، جزائر کے درمیان مونگے کی چٹانیں اور ابھری ہوئے ٹیلے اور شارک مچھلیوں سے پڑا واسطہ۔ انہیں پندرہ سے اٹھارہ گھنٹے کشتی کھینی پڑی تھی۔ سونے کا بہت کم موقع میسّر تھا۔ چوبیس گھنٹوں میں بمشکل دو تین گھنٹے۔ تاحتٰی ماہی گیری میں وقت کا اصراف بھی چبھتا تھا کہ کہیں سفر کے معمول کا وقت کم نہ پڑ جائے۔ اگرچہ بحر اوقیانوس کو تنہا عبور کرنے کا تجربہ تھا لیکن بحر الکاہل دشوار رہا، فیودر کونیوہوو نے "صدائے روس" کے سامنے تسلیم کیا۔
 "بحر اوقیانوس تین ہزار میل طویل ہے جبکہ بحرالکاہل نو ہزار میل یعنی تین گنا زیادہ طویل۔ بحر اوقیانوس کو میں نے چھیالیس روز میں عبور کر لیا تھا، بحر الکاہل عبور کرنے میں مجھے ایک سو ساٹھ روز لگے۔ بحر اوقیانوس میں میں تمام وقت دھارے کے ساتھ چلتا رہا۔ اس بار شروع اور آخر میں دھارے کے مخالف کشتی کھینا پڑی۔ یہ بہت مشکل تھا۔ بحرالکاہل میں بہت زیادہ جزائر ہیں۔ جب پولی نیزیا پہنچا تو مونگے کی چٹانوں سے نکلنا بذات خود دشوار کام تھا" کونیوہوو نے بتایا۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہر روز چوبیس ہزار مرتبہ چپو چلانا پڑا تھا۔ کھانے کے لیے دو منٹ اور روزانہ عبادت کے لیے پانچ منٹ۔ خدا سے مسلسل رجوع کرتا رہا اور یقین تھا کہ صرف مدد الٰہی سے ہی میں سمندر عبور کر لوں گا۔ سمندری سفر میں کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، کونیو ہوو بتاتے ہیں:" سب سے پہلے تو بلا شبہ ذات باری تعالٰی پہ یقین۔ لیکن جیسے کہا جاتا ہے کہ اللہ پہ یقین رکھو لیکن خود بھی ہاتھ پاؤں نہ چھوڑو۔ آپ کو مہارت ہونی چاہیے۔ روحانی، جسمانی اور مادی طور پر تیار ہونا چاہیے۔ میرے لیے اچھی کشتی تیار کی گئی تھی، غذا اچھی تھی، پانی تھا، الیکٹرونک آلات اچھے تھے۔ طوقاب اور کڑک تو ویسے ہی ساتھ تھے، ان پر میرا قابو نہیں تھا۔ چپو چلانے میں ہمیشہ ہی فرشتوں نے میری مدد کی" فیودروو کو یقین ہے۔
ممکن ہے کہ خدا نے باسٹھ سالہ مہم جو مسافر کو توانائی دی ہو اور فرشتوں نے معاونت کی ہو۔ بحر حال انہیں اس کا یقین ہے۔ ان طویل برسوں میں انہوں نے دنیا کا چھ بار چکر لگایا ہے۔ سترہ بار بحر اوقیانوس سے گذرے ہیں جن میں سے ایک بار چپووں والی کشتی پر۔ کونیو ہوو واحد روسی ہیں جو ساتوں بلند پہاڑی چوٹیوں پر اور قطب جنوبی و قطب شمالی بھی جا چکے ہیں۔ اب وہ چپو والی کشتی میں بھی طویل ترین سفر کرنے والے بن چکے ہیں۔ اب وہ زمین کی بجائے اور طرح سے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔ نامور مہم جو مسافر نے ریڈیو "صدائے روس" کو اپنے آئندہ پروگرام کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ اڑنے والے غبارے کے ذریعے، رکے بغیر زمین کے گرد چکر لگانا چاہتے ہیں اور اسی طرح معروف روسی قطبی مہم جو آرتور چلیین گاروو کے ساتھ سمندر کی گہرائی میں بھی جائیں گے۔

Last modified on Wednesday, 11 June 2014 10:26
Login to post comments