×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

مودی جی دوسری کانگریس بننے کی کوشش میں کیوں ہیں؟

July 05, 2014 716

کچھ اور سخت فیصلہ لئے جانے کی حکومت بات کر رہی ہے. مطلب گیس کا سلنڈر اور پٹرول اور ڈیزل میں اضافہ ہو سکتا ہے. سوال یہ ہے کہ

آخر مودی حکومت بھی یو پی اے 2 کے بعد یو پی اے 3 بن جائے گی تو لوگ کیا کریں گے. اب تو ان کے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں بچا. آنے والے پانچ سال کیا وہ خود کو صرف لٹتے ہوئے دیکھیں گے. اس کے علاوہ ان کے پاس اختیارات بھی نہیں ہیں.

    اس ملک کے عوام  پر اپنے اور اپنے خاندان کا خرچ چلانے کے اقدامات نہیں ہے. یہ ملک کی اسی فیصد عوام کے پاس دو وقت کے کھانے کا انتظام نہیں ہے. جب اس کے بچے بیمار پڑتے ہیں تو ہسپتال کی ادویات کا خرچ اٹھا پانا اس کے بس کی بات نہیں ہے . ایسے تمام لوگوں میں نئی حکومت بننے پر خواب جاگا تھا. انہیں لگا تھا کہ دہلی میں حکومت بدل گئی ہے تو سب کچھ بدل جائے گا.

    یہ اس ملک کی بدقسمتی ہی ہے کہ آزادی کے اتنے سال بعد بھی اس ملک کے عام آدمی کے سامنے زندگی جینے کا بحران بنا ہوا ہے. اس کے سامنے سب سے بڑی لڑائی یہی ہے کہ وہ اس نظام کے چلتے زندگی کیسے گزر بسر کرے. اس کے بچے اس کے سامنے تشویش کا بوجھ بن جاتے ہیں. ایسے میں اگر اس کو صرف یہ احساس ہو جائے کہ اس کے بچوں کو دو وقت کی روٹی مل جائے گی اور بیمار پڑنے پر ان کی دوا کا انتظام ہو جائے گا تو یہ اس کے لئے بہت راحت بھری بات ہوتی ہے. ان حالات کے لئے بے شک اب تک سب سے زیادہ وقت تک حکومت کر رہی کانگریس ذمہ دار ہے مگر مودی جی دوسری کانگریس بننے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟

    سوال یہ بھی ہے کہ آخر کانگریس اتنے تلخ فیصلہ دس سالوں سے کیوں نہیں لے رہی تھی. وہ جب بھی پٹرول ڈیزل یا ریل کرایہ میں اضافہ کی بحث بھی کرتی تو اپوزیشن میں بیٹھے بی جے پی کے یہی لیڈر زمین آسمان ایک کر دیتے. اب جب اقتدار انہیں مل گئی تو ان میں اتنی تبدیلی کیوں؟ کیا اقتدار ملتے ہی سارے مطلب بدل جاتے ہیں؟

    مودی جی ایک بات اس ملک کا  عام  آدمی پوچھنا چاہتا ہے. آپ کڑوے فیصلہ صرف غریب عام آدمی کے لئے ہی کیوں؟ اس سکوٹر، موٹر سائیکل میں ڈلنے والا پیٹرول اور گھر میں جلنے والا سلنڈر ہی مہنگا کیوں؟ مہنگائی کی مار اس پر ہی کیوں؟ اگر کچھ تلخ فیصلہ لینے ہی تھے تو امبانی کی گیس کی قیمت چار روپیہ سے دو روپیہ کر دیتے. ملک کے لوگ مان جاتے کہ آپ ایماندار ہیں اور عام آدمی کے درد کو محسوس کرتے ہیں. مگر غریب کا سلنڈر مہنگا کرکے اس کی جان نکال کر اگر آپ امبانی کو اس کی گیس کے چار روپیہ سے آٹھ روپیہ کر رہے ہیں تو آپ  ایک بہت بڑا گناہ کر رہے ہیں. اس ملک کے عام آدمی کے درد کو  سمجھیں. اسے تباہ مت کیجئے ورنہ آپ کو بھی منموہن سنگھ بنتے زیادہ دیر نہیں لگے گی.
سنجے شرما
(سنجے شرما، مصنف ویک اینڈ ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)

Last modified on Saturday, 05 July 2014 16:01
Login to post comments