×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عہد جاہلیت کے دوران توہم پرستی اور خرافات کی پیروی

دی 12, 1392 633

طلوعِ اسلام کے وقت دنیا کی

تمام اقوام کے عقائد میں کم و بیش خرفات اور جن و پری و غیرہ کے قصے شامل تھے۔ اس زمانے یونانی اور ساسانی اقوام کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اقوام میں ہوتا تھا۔ چنانچہ انہی کے قصوں اور کہانیوں کا ان پر غلبہ تھا یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو معاشرہ تہذیب و تمدن اور علم کے اعتبار سے جس قدر پسماندہ ہوگا، اس میں توہمات و خرافات کا اتنا ہی زیادہ رواج ہوگا۔ جزیرہ نما عرب میں توہمات کا عام رواج تھا۔ ان میں سے بہت سے تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ کر رکھے ہیں یہاں بطور مثال چند پیش کیے جاتے ہیں:

ایسی ڈور یوں کو جنہیں کمانوں کی زہ بنانے کے کام میں لایا جاتا تھا لوگ اونٹوں اور گھوڑوں کی گردنوں نیز سروں پر لٹکا دیا کرتے تھے۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ایسے ٹوٹکوں سے ان کے جانور بھوت پریت کے اثر سے بچے رہتے ہیں۔ اور انہیں کسی کی بری نظر بھی نہیں لگتی۔ اسی طرح جب دشمن حملہ کرنے کے بعد لوٹ مار کرتا ہے تو ایسے ٹوٹکوں کی وجہ سے ان جانوروں پر ذرا بھی آنچ نہیں آتی۔

خشک سالی کے زمانے میں بارش لانے کی غرض سے جزیرہ نما عرب کے بوڑھے اور کاہن لوگ ”سلع“ درخت جس کا پھل مزے میں کڑوا ہوتا ہے اور ”عشر“ نامی پیڑ (جس کی لکڑی جلدی جل جاتی ہے) گایوں کی دموں اور پیروں میں باندھ دیتے اور انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں تک ہانک کر لے جاتے۔ اس کے بعد وہ ان لکڑیوں میں آگ لگا دیتے، آگ کے شعلوں کی تاب نہ لاکر ان کی گائیں ادھر ادھر بھاگنے لگتیں اور سرمار مار کر ڈنکارنا شروع کر دیتیں۔ ان کے خیال میں ان گائیوں کے ڈنکارنے اور سرمارنے سے پانی برسنے لگتا تھا۔ ان کا یہ بھی گمان تھا کہ جب ورشا کی دیوی یا جل دیوتا ان گائیوں کو تڑپتا ہوا دیکھیں گے تو ان کی پاکیزگی اور پوترنا کو دھیان میں رکھ کر بادلوں کو جلد برسنے کے لیے بھیج دیں گے۔

وہ مردوں کی قبر کے پاس اونٹ قربان کرتے اور اسے ایک گڑھے میں ڈال دیتے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا یہ اقدام ہے کہ صاحب قبر عزت و احترام کے ساتھ اونٹ پر سوار میدان حشر میں نمایاں ہوگا۔

Last modified on پنج شنبه, 12 دی 1392 12:17
Login to post comments