×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید ابن طاؤوس اور اشک ابو جعفر (مسنتصر)

دی 26, 1392 510

محمد بن احمد بن علقمی

مسنتصر کا وزیر اپنے دفتر میں بیٹھا تھا ہمیشہ کی طرح حکومت کے کاموں میں مشغول تھا کہ ابن طاؤوس و اسماعیل داخل ہوئے موید الدین فورا کھڑا ہوگیا ابن طاؤوس کا خاص احترام کیا اور پوچھا :” وہ مرد یہی ہے؟“

ابن طاؤوس نے جواب دیا:

”ہاں! اسماعیل بن حسن ہے کہا: اے اسماعیل ! یہ مرد جو سامنے کھڑا ہے میرا بھائی اورمیرا سب سے قریبی دوستی ہے۔“

وزیر جو صرف داستان سننے کا منتظر تھا اسماعیل سے درخواست کی کہ وہ داستان سنائے ہرقل کے جوان نے اپنی داستان سنادی۔

ابن العلقمی نے داستان سننے کے بعد فورا حکومت کے آدمیوں کو بغداد کے ماہر ڈاکٹروں کے پاس بھیجا سب کو اپنے یہاں جمع کیا سوال کیا:” تم سب لوگوں نے اس مرد کے زخم کامشاہدہ کیا ہے؟“

جواب دیا : ہاں!

پوچھا:اس کا علاج کیا ہے؟

جوا ب دیا : سوائے اس پھوڑے کے نکالنے کے او ر کوئی چا رہ نہیں ہے لیکن اس کے زندہ بچنے کا احتمال بہت کم ہے۔

وزیر نے پھرکہا: فرض کرو کہ اس کے زخم کا علاج کیا جائے اور یہ بچ جائے تو اس کے زخم کے ٹھیک ہونے میں کتنی مدت لگے گی؟

ایک شخص جو ڈاکٹروں کا استاد معلوم ہوتا تھا تھوڑا سا غور کرنے کے بعد جواب دیا: زخم کے ٹھیک ہونے میں کم از کم دو ماہ ضرور لگیں گے یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ زخم کی جگہ سفید نشان باقی رہے گا اور وہاں کبھی بھی بال نہیں اگیں گے۔

وزیر نے پوچھا : تم لوگوں نے رضی الدین ابوالقاسم علی بن موسیٰ کے گھر میں کتنے دن پہلے اس کے زخم کو یکھا تھا؟

جواب دیا : (۱۰) دس دن پہلے

اب وزیر نے سید ابن طاؤوس کے سامنے خوش نصیب ہرقلی کی ران سے کپڑا ہٹا کر ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ دوبارہ زخم دیکھیں ڈاکٹروں نے تعجب کے عالم میں اسماعیل کا پیر دیکھا داہنے پیرسے بھی کپڑا ہٹایا کہ شاید زخم وہاں ہولیکن سوائے صحت و سلامتی کے انھیں کچھ نہ ملا ان طبیبوں میں ایک عیسائی تھا اس نے نعرہ بلند کر کے کہا :

خدا کی قسم یہ کام عیسیٰ بن مریم کا ہے۔

وزیرنے کہا میں جانتاہوں یہ معجزہ کس کا ہے۔

کچھ دن بعد یہ داستان مستنصر کو معلوم ہوئی اس نے وزیر کو طلب کیا وزیر اسماعیل کے ساتھ آیا مستنصر نے ہرقل سے پوری داستان سنی مستنصر نے خادم کو حکم دیا کہ ایک ہزار سونے کے سکے حاضر کئے جائیں سکے حاضرہوئے مستنصر نے کہا :” یہ ہزار سکے تمہارے ہیں اسے لے لو اور اپنی مادی مشکلات برطرف کرو۔“

اسماعیل نے جواب دیا:نہیں لے سکتا ۔

خلیفہ نے سوال کیا : ” کس کا ڈر ہے؟“

اسماعیل نے جواب دیا : اس کا جس نے مجھے بیماری سے نجات دی اس نے فرمایا تھا کہ ابو جعفر (مستنصر) سے کچھ نہ لینا ۔ مسنتصر سخت مضطرب ہوا اور آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے۔

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 11:15
Login to post comments