×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مجلسِ شبِ عاشوره

بهمن 01, 1392 455

امام حسین کی زندگی کی آخری رات آگئی۔

آج کچھ بیان کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ بس دل یہ چاہتا ہے کہ کچھ میں رولوں اور کچھ آپ رولیں۔ خداجانے اس کے بعد زندگی ہے یا نہیں۔ یہ رونا وہ رونا ہے کہ انبیاء روتے رہے، مرسلین گریاں رہے۔آئمہ طاہرین کی وصیتیں ہیں کہ کچھ ہوجائے، دنیا کتنی ہی کروٹیں لے مگر حسین کو نہ بھول جانا۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں کی عاشور کی صبح کو اس طرح سے گریہ کرنا جس طرح سے ایک ماں اپنے جوان بیٹے کی لاش پر روتی ہے۔

افسوس! کہ جن کی وجہ سے اسلام، اسلام بنا، جن کی وجہ سے اسلام کی تکمیل ہوئی تھی، آج وہ وقت آگیا کہ عبادت کیلئے ایک رات کی بھیک مانگنا پڑی۔ یہ الفاظ، بہت ممکن ہے کہ آپ حضرات کو گراں گزرے ہوں لیکن کیا کروں کہ واقعہ یہی ہے۔

آج دوپہر کے وقت شمر ملعون کربلا کی سرزمین پر پہنچا ہے دوہزار سواروں کے ساتھ۔ جس طرح سے اور بہت سے واقعات اہلِ بیت کو معلوم تھے، یہ بھی معلوم تھا کہ امام حسین کا قاتل ایک شخص ہوگا جس کا نام ہوگا شمر جب یہ لوگ کربلا پہنچے تو انہوں نے گھوڑے اِدھر اُدھر اور اُدھر سے اِدھر دوڑانے شروع کئے تو زمین لرزنے لگی۔ بیبیوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کسی نے کہا کہ شمر آگیا۔ بیبیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مایوسانہ نگاہ سے دیکھا۔ دن ختم ہونے کو تھا۔ امام حسین کسی فکر میں ایک کرسی پر بیٹھے تھے جو جنابِ زینب کے خیمے کے باہر لگی ہوئی ہے۔ کچھ نیند سی آگئی۔ شمر یہ حکم لایا تھا ابن سعد کے نام ، ابن زیاد نے حکم دیا کہ پانچ ہزار سوار خیمہ گاہِ حسین پر حملہ کردیں۔ جس وقت وہ سوار آگے بڑھے، جنابِ زینب خیمے کے پردے سے لگی ہوئی کھڑی تھیں۔ بھائی کا منہ دیکھ رہی تھیں اور غالباً یہ خیال تھا کہ کل میرا بھائی مجھ سے بچھڑ جائے گا۔
مجلسِ شبِ عاشوره

جب میدان کی طرف دیکھا تو نظر آیا کہ سوار خیموں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک مرتبہ ہاتھ بڑھا کر امام حسین کا بازو پکڑ کر ہلایا۔ آپ نے فرمایا : بہن کیا بات ہے؟ کہا: بھیا! فوجیں بڑھ رہی ہیں۔امام حسین نے جنابِ عباس کو آواز دی۔ عباس ! ذرا ان سے جاکر پوچھو، یہ خیموں کی طرف کیوں آرہے ہیں؟ اِن کا ارادہ کیا ہے؟ جنابِ عباس ، حبیب ابن مظاہر ، زہیر بن قین، مسلم بن عوسجہ ، یہ سب کے سب آگے بڑھے۔ قریب پہنچ کر جنابِ عباس نے آواز دی: رُک جاؤ وہیں، خدا جانے کیسا اثر تھا کہ ایک مرتبہ گھوڑوں کی باگیں کھنچیں اور فوج رُک گئی۔ فرمایا: کیوں بڑھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ابن زیاد کا حکم آیا ہے کہ خیمہ ہائے حسین پر حملہ کردیا جائے۔ اسی کی تعمیل میں ہم بڑھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہیں ٹھہرے رہو جب تک میں اپنے آقا سے اجازت نہ لے آؤں۔ جو کچھ وہ جواب دیں گے، اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ ٹھہر گئے وہ لوگ۔ جنابِ عباس آئے: آقا! یہ جنگ اس وقت کرنا چاہتے ہیں۔ امام حسین نے فرمایا: بھیا! ان سے کہہ دو کہ میں ایک رات میں کہیں نہیں چلا جاؤں گا۔ مجھے ایک رات کی مہلت دے دو کہ میں جی بھر کر اپنے خدا کو یاد کرلوں۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہمیں حکم نہیں ہے، ہم اجازت نہیں دیں گے۔مگر فوراً ہی ایک دوسرے شخص نے کہا کہ اگر ترک و دیلم کافر ہوتے اور وہ ہم سے ایک رات کی اجازت مانگتے تو ہم دے دیتے۔ ارے یہ تو فرزند رسول ہیں۔یہ اگر ایک رات کی اجازت مانگ رہے ہیں تو دے دینے میں کیا حرج ہے؟ابن سعد کو خبر کی گئی۔ اُس نے یہ بات منظور کرلی گئی کہ اچھا اب جنگ کل صبح کو ہوگی۔

حضور! ایک رات مل گئی۔ میں نے یہ کہا تھا کہ مانگی ہوئی رات ہے، کیا حالت ہے؟ بیبیوں کی کیا حالت ہوگی؟ اصحاب کی کیا کیفیت ہوگی؟ اس کا تصور کوئی نہیں کرسکتا۔ بیبیاں یہ سمجھ رہی ہیں کہ کل تک یہ خیمے کچھ نہ ہوں گے۔ اصحاب یہ جان رہے ہیں کہ کل ہم نہ ہوں گے۔ جس قدر ہوسکے، خدا کی عبادت کرلو۔ سبحان اللہ! تاریخوں میں یہ الفاظ ہیں کہ سوکھے ہوئے ہونٹوں سے خدا کی تسبیح اس طرح سے کررہے تھے حسین کے ساتھی کہ آسمان و زمین گونج رہے تھے۔

اب مثال یہ دی ہے کہ جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز پھیلتی ہے۔ اسی طرح سے میدانِ کربلا میں اُن کی تسبیح کی آواز پھیل رہی تھی۔ امام حسین کی کیفیت یہ تھی کہ کبھی اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر تسبیح فرماتے تھے اور کبھی تھوڑی دیر کے بعد خیموں میں چلے جاتے تھے بیبیوں کو تسلیاں دینے کیلئے۔ ایک اہم واقعہ جو جو اِس شب میں ہوا، وہ یہ ہے کہ جنابِ زینب نے فضہ سے کہا ہے کہ فضہ! ذرا میرے ماں جائے کو تو بلالاؤ۔ امام حسین کو فضہ نے آواز دی: آقا! شہزادیٴ عالم یادکررہی ہیں۔ امام حسین علیہ السلام فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے۔ گردن جھکائے ہوئے خیمے کے دروازے پہر پہنچے، پردہ اُٹھایا، اندر داخل ہوئے۔ دیکھا کہ جنابِ زینب زمین پر سرجھکائے بیٹھی رو رہی ہیں۔
مجلسِ شبِ عاشوره

عزادارانِ حسین ! امام حسین نے پاس جاکر آواز دی: بہن! مجھے کیوں بلایاہے؟ بہن نے بھائی کے گلے میں ہاتھ ڈال دئیے۔ فرمایا:بھیا حسین ! ذرا بیٹھ جاؤ، میری ایک بات سن لو۔ جب مدینہ سے چلے، بہت مرتبہ دل گھبرایا مگر بھیا! تم سے نہ کہا تاکہ ایسا نہ ہو کہ میرے بھائی کو رنج ہو۔ اس کے بعد جب مکہ آئے اور مکہ سے نکلنا پڑگیا تو میرا دل اور زیادہ گھبرانے لگا مگر میں ضبط کرتی رہی۔ آپ سے کبھی ذکر نہ کیا۔ میرے بھائی حسین ! جس دن سے اس زمین پر پہنچے ہیں، ہر وقت میرا دل دھڑکتا رہا مگر میں نے آپ سے ذکر نہ کیا۔ میرے بھائی حسین ! یہ کیسی رات ہے کہ دل کو کسی طرح سے قرار نہیں آتا؟

میرے بھیا حسین !اس وقت میرا دل بڑا گھبرا رہا ہے۔ امام حسین نے کچھ تسلی دی۔ بہن! ابھی تو پوری رات ہے۔ کل ہوگا، جو کچھ ہوگا۔ اتنی کیوں گھبرا گئیں؟ اگر اتنی گھبرا جاؤ گی تو یہ بچے اور خواتین کس کے سپرد کروں گا؟ یہ بیبیاں کس کے ساتھ جائیں گی؟جنابِ زینب نے عرض کیا:میرے بھائی! اور سب چیزوں کو جانے دیں، مجھے یہ بتلائیں کہ یہ کون بی بی ہے جو خیموں کے دوسری طرف اکثر فریاد کرتی ہیں؟امام حسین نے فرمایا: بہن! پہچانا نہیں، یہ ہماری ماں فاطمہ زہرا ہیں جو ہمارے قافلے کے ساتھ ساتھ آئی ہیں۔۔

اچھا حضور!اصحاب کی یہ کیفیت ہے کہ باری باری کچھ پہرہ دے رہے ہیں اور باقی عبادت میں مشغول ہیں۔ کبھی پہرہ دینے والے عبادت کیلئے چلے جاتے ہیں اور باقی آکر پہرہ دینے لگتے ہیں۔ کیا دنیا نے کبھی ایسے اصحاب دیکھے ہیں؟

ارے جنگ ِاُحد میں رسول کے ساتھ تین آدمی رہ گئے تھے۔ جنگ ِحنین میں زیادہ سے زیادہ نو(۹) آدمی جنابِ رسولِ خدا کے ساتھ رہ گئے تھے۔ دنیا میں کبھی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جانتے ہوں کہ زندگی ختم ہورہی ہے لیکن ہونے سے پہلے یہ نہ دیکھیں کہ حسین کا کوئی بچہ زخمی ہوا۔

اس شب کا ایک واقعہ کتابوں میں آگیا اور وہ یہ کہ ادھر ابن سعد نے افسرانِ فوج کو جمع کیا ہے اور مشورہ ہو رہا ہے کہ کل صبح جنگ کس طرح سے شروع کی جائے تاکہ جلدی ختم ہو اور ابن زیاد کو خبر دی جائے کہ ختم ہوگئی۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ میں ایسا کرسکتا ہوں کہ آج رات کو ہی جنگ ختم ہوجائے۔ کل ضرورت ہی نہ رہے فو ج کے لڑنے کی۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کس طرح؟ اس نے کہا کہ جنگ ختم ہوجانے کا مقصد بس حسین کا قتل ہوجانا ہی تو ہے۔اگر حسین آج رات ہی قتل ہوجائیں تو پھر باقی کیا رہ جائے گا! اس سے پوچھا گیا کہ اس وقت کیسے اُنہیں قتل کیا جاسکتا ہے؟ اُس نے کہا کہ میں ابھی جاتا ہوں امام حسین کے پاس۔ اُن پر حملہ کردوں گا۔ اس میں شک نہیں کہ میں بھی مارا جاؤں گا لیکن تم ابن زیاد کے پاس جاکر میرے بچوں کی سفارش کردینا۔ چنانچہ یہ وہاں سے چلا، تلوار اس کے ہاتھ میں ہے۔ رات کا وقت ہے، آدھی رات سے زیادہ گزرچکی ہے۔ یہ جس طرف سے آرہا تھا، اس طرف ہلال پہرہ دے رہے تھے۔ ہلال نے دیکھا کہ کوئی شخص ادھر آرہا ہے۔ جب وہ قریب آیا تو اُنہوں نے اس کو روکا : کون ہے جو ادھر آرہا ہے؟ اُس نے اپنا نام بتایا۔ جب اور قریب آگیا تو انہوں نے کہا: کدھر جارہے ہو؟ اُس نے کہا کہ میں امام حسین کے پاس جارہا ہوں، کچھ میرا کام ہے۔

آپ نے کہا: بے شک جاؤ، وہ امامِ وقت ہیں۔حاجت روائے عالم ہیں، تم جاؤ مگر یہ تلوا ریہاں رکھ جاؤ۔ اُس نے کہا: دیکھو! یہ میری توہین ہے ، میں تلوار ساتھ لے کر جاؤں گا۔ ہلال نے کہا: آج تو نہیں جانے دوں گا۔ اُس نے کہا: نہیں، مجھے ضروری جانا ہے۔ اس کے بعد اُس نے قدم بڑھانے کا ارادہ کیا۔ ہلال نے وہیں سے آواز دی: قدم بڑھایا تو سر نہ ہوگا۔ یہ آواز کچھ اتنی بلند ہوگئی تھی کہ امام حسین کے کانوں تک پہنچی۔ امام حسین نے آواز دی: ہلال! کون ہے؟ کس سے باتیں کررہے ہو؟ جنابِ ہلال نے عرض کیا: مولا !یہ شخص آپ کی خدمت میں آنا چاہتا ہے۔ میں اسے نہیں چھوڑوں گا جب تک تلوار نہ رکھ دے۔ مجھے اس کی صورت سے اندیشہ معلوم ہوتا ہے ۔ امام حسین نے فرمایا: ہلال! آنے دو۔ اب امام کا حکم، کیا کریں ۔ ہلال نے اُسے چھوڑا مگر کس طرح؟ جب وہ امام حسین کے سامنے جا کھڑا ہوا تو امام حسین نے دیکھا کہ اُس کی تلوار کے قبضے پر ہلال کا ہاتھ ہے۔ یہ دیکھ کر امام حسین مسکرائے۔ہلال! یہ کیا ہے؟ عرض کرتے ہیں: مولا ! مجھے اس بات کی اجازت دیجئے کہ میں اس کی تلوار کے قبضے پر سے ہاتھ نہ ہٹاؤں۔

ہلال نے اس وقت اس کی تلوار کے قبضے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ارے عاشور کے دن تم سب کے سب کہاں تھے جب شمر خنجر لے کر آیا تھا، کوئی نہ تھا جو اس پر ہاتھ رکھتا۔ کیا عرض کروں، رات گزررہی ہے۔ بس ایک دفعہ عرض کردوں۔ کتابوں میں یہ چیز بھی ہے کہ امام حسین بیبیوں کے خیموں کی طرف وقفوں وقفوں سے جاتے ہیں۔ ایک یہ مقصد ہے کہ کوئی چھپ کر ادھر نہ آجائے اور یہ بھی مقصد ہے کہ ذرا بیبیوں کو دیکھیں کہ کس عالم میں ہیں۔ بعض کتابوں میں یہ بھی ہے کہ جب مادرِ علی اکبر کے خیمے کی طرف تھے تو دیکھا کہ علی اکبر کچھ آرام کررہے ہیں۔ ماں نے ایک شمع جلا رکھی ہے اور پاس بیٹھی ہوئی علی اکبر کی صورت دیکھ رہی ہیں۔ ماں کہہ رہی ہے: میرے لال! کل یہ چاند سی تصویر مٹ جائے گی۔ جنابِ زینب کے خیموں کی طرف گئے، دیکھا کہ زینب نے اپنے بچوں کو بٹھا رکھا ہے اور فرمارہی ہیں: بچو! کل قربانی کا دن ہے۔ میں تمہیں اپنے بھائی پر قربان کردوں گی۔ بہرحال امام حسین روتے رہے۔
مجلسِ شبِ عاشوره

بس حضور! اب اس سے آگے نہیں کہہ سکتا۔ بس ایک دو فقرے آخر کے سن لیں۔ کل نہ خیمے ہوں گے، یہ بیبیاں اس وقت پردے میں بیٹھی ہیں، کل فرش پر بیٹھی ہوں گی، نہ اُن کے بھائی ہوں گے، نہ اُن کے بیٹے ہوں گے۔

صبح سے جنگ شروع ہوگئی۔ وہ وقت آیاکہ اب حسین کا کوئی مددگارنہ رہا۔ ایک مرتبہ فریاد کی آواز بلند کی:

"ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا،ھَلْ مِنْ مُغِیْثٍ یُغِیْثُنَا"۔

"کوئی ہے جو اس عالمِ بیکسی میں میری مدد کو آئے"۔

بیبیوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ حسین آئے، جنابِ زینب نے کہا: علی اصغر نے اپنے آپ کو گہوارے سے گرا دیا۔ فرماتے ہیں: ہاں! مجھے دے دو۔ لے آئے میدان میں۔ بچے کے تیر لگا۔ حسین نے قبر بنائی، دورکعت نمازِ شکر ادا کی۔ پھر اس کے بعد خیمے میں آئے۔ آخری مرتبہ خیمے میں آئے۔ اب ذراتصور تو کیجئے، صبح کے وقت گھر بھرا ہوا تھا۔ اس وقت کوئی نہیں ہے۔ علی اکبر بھی سینے پر برچھی کھائے ہوئے سورہے ہیں۔ عباس بھی نہر کے کنارے بازو کٹائے ہوئے آرام کررہے ہیں۔ امام حسین خیمے کی طرف تشریف لائے اور اب وہ فریاد کی آواز ہے۔ دنیا میں کوئی نہ تھا جس کے کان میں یہ آواز نہ پہنچی ہو۔ امام حسین نے فرمایا: کوئی ہے جو اس مصیبت کو حرمِ رسول سے دور کرے! کوئی ہے جو میری فریاد کو پہنچے!

حضورِ والا!یہ جو ایک دو مرتبہ آواز بلند کی اور کسی طرف سے جواب نہ آیا۔ میرے خیال میں جو انبیاء کھڑے ہوئے ہیں نا میدانِ کربلا میں، انہوں نے لبیک کہا ہوگا مگر حسین نے فرمادیا ہوگا: تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔ اب کیا ہوا، یہ دوسری مرتبہ فریاد کی آواز جو بلند کی، یہ دوسری مرتبہ ہے کہ خیموں سے بیبیوں کے رونے کی آواز باہر آئی۔ اب جو دیکھا تو یہ قیامت دیکھی کہ امام زین العابدین علیہ السلام ، جو غشی کے عالم میں تھے، جب یہ آواز اُن کے کان میں پہنچی، ایک مرتبہ اُٹھے، تلوار پکڑی، گھٹنوں کے بل چلے، خیمے کا پردہ اُٹھایا، باہر نکل گئے۔ اُمّ کلثوم نے دامن سے پکڑا، کہا: بیٹا! کدھر جارہے ہو؟ امام زین العابدین فرماتے ہیں: مجھے چھوڑ دو۔ میرا مظلوم باپ مدد کیلئے پکار رہا ہے۔ امام حسین نے جب یہ دیکھا تو تشریف لائے، آواز دی:بہن ! میرے بیٹے کو نہ چھوڑنا۔ نسلِ امامت منقطع ہوجائے گی۔ امام زین العابدین علیہ السلام کو خیمے میں لے گئے۔ اس کے بعد امام زین العابدین نے ایک چیخ ماری اور پھر آنکھیں بند ہوگئیں۔ اچھا بس آخری منزل میں پہنچ جاؤں۔ وہ وقت آیا کہ حسین گھوڑے سے گرنے لگے۔ بس حضور! اس کے بعد ختم۔ سنبھلا نہ جاسکا کیونکہ پیشانی کا تیر جب نکالا تو خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔

حسین کا گھوڑے پر سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ ایک مرتبہ زمین کی طرف دیکھا: فرماتے ہیں: میرے نانا کے وفادار گھوڑے! میں اگر یہاں گرگیا تو خیمے سامنے ہیں۔ میری بہن خیمے کے دروازے پر کھڑی ہے۔

اگر قاتل نے آکر میرا سرکاٹا، میری بہن مر جائے گی۔ مجھے اس جگہ لے جا جہاں سے خیمے دکھلائی نہ دیں۔ گھوڑا ایک نشیب کے مقام پر ٹھہرا۔ آپ نے آنکھ کھول کر دیکھا : کہا، ہاں! یہی تو وہ زمین ہے جو میرے نانا نے مجھے دکھلائی تھی۔ گھوڑے نے اپنے گھٹنے ٹیکے۔ حسین ایک طرف کو جھکے ۔ اور کیا عرض کروں؟ فوراً زمین پر نہ پہنچ سکے۔ زبان سے نکلتی نہیں ہے بات! زمین سے لگنا تھا کہ ایک مرتبہ زمین کو دھچکا سا لگا۔ فضا کا رنگ بدلا، زینب دروازے پر کھڑی ہوئی یہ دیکھ کر گھبرا گئیں۔ آج زینب کا کوئی نہیں ہے ۔ یہ سمجھ کرکہ بھائی قتل ہوگئے، ایک مرتبہ خیمے سے باہر آگئیں۔ چادر کا ایک سرا سر پر ، ایک زمین پر لگتا ہوا۔ ایک جگہ پہنچیں۔ یہ کچھ بلند تھیں، وہاں سے دیکھا کہ حسین گرم زمین پرتڑپ رہے ہیں۔

عزادارو!ذرا تصور کرنا، زینب کس سے کہے؟ ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک شخص فوج سے نکلا خنجر لئے ہوئے، زینب سمجھیں کہ یہ میرے بھائی کو قتل کرنے کیلئے آرہا ہے۔ ہائے! بیکس بہن کیا کرے، کس سے کہے؟ ایک مرتبہ آواز بلند کی:

"وَامُحَمَّدَاہُ، وَا عَلِیَّاہُ"۔

بابا! نجف سے آؤ، نانا مدینہ سے آؤ۔

امام حسین کے کان میں آواز پہنچی۔ سر اُٹھایا، دیکھا کہ بہن کھڑی ہوئی فریاد کررہی ہے۔ امام حسین نے اشارے سے کہا کہ ابھی میں زندہ ہوں۔ خیمے میں چلی جاؤ۔ بھائی کا حکم، زینب چلیں خیمے کی طرف۔ بس دو تین قدم چلیں، پھر آواز دی:یا محمداہ!

ارے اس طرح سے خیمے میں جب پہنچیں ، تھوری دیر کے بعد زمین میں زلزلہ آیا۔ گھبرا گئیں کہ یہ زلزلہ کیسا! گھبرائی ہوئی امام زین العابدین کے خیمے میں پہنچیں۔ ایک مرتبہ بازو پکڑ کر ہلایا:بیٹا زین العابدین ! اُٹھو! امام زین العابدین کی آنکھ کھلی، فرمایا: پھوپھی جان! کیا ہے؟ کہا دیکھو یہ زلزلہ آرہا ہے۔ امام زین العابدین نے فرمایا: پھوپھی جان! خیمے کا پردہ ذرا اُٹھاؤ، اب جو پردہ اُٹھا، کیا دیکھا کہ حسین کس سر نیزے پر بلند ہے اور فوجِ یزید خوشیاں منارہی ہے۔

نام کتاب:  روایات عزا

 مصنف:  علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ

Last modified on سه شنبه, 01 بهمن 1392 10:54
Login to post comments