×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام حسین کی زینب کو وصیت

بهمن 01, 1392 468

امام حسین وصیت کرگئے تھے کہ زینب بہن!

میرا کام ختم ہوا اور تمہارا کام شروع ہوا، کربلا تک میرا کام تھا اور شام تک تمہارا ہے۔ زینب بہن! اپنے بھائی کو دعاوٴں میں یاد رکھنا۔

جب قیدی آئے ہیں دربار میں، بعض لوگ نہ سمجھے ہوں گے کہ یہ کون قیدی ہیں؟ ویسے قیدی چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ بتلاؤں، آپ سمجھ گئے ہیں۔ رسول اللہ کی بیٹیاں، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بیٹیاں۔ یہ قید کی گئی تھیں۔ مسلمانو! اگر کسی نے یہ خبر نہ سنی ہوتی تو شاید یہ سننے کے بعد دل کی حرکت بند ہوجاتی۔ رسولِ خدا کی بیٹی قیدی اور اس طرح کہ پہلے بازارِشام میں پھرائی بھی گئی ہیں!!

کبھی کبھی کچھ لوگوں کے دلوں میں یہ بات آتی ہے اور کبھی کبھی شکایت بھی پیدا ہوتی ہے کہ یہ کیوں ایسا ہوا؟ جنابِ زینب چاہتیں اور ذرا سے ہاتھ اُٹھا دیتیں کہ کیا مجال تھی ؟ کوئی قوت تھی کہ وہ اس طرح سے قید کرکے لے جاتا؟ بات یہ تھی کہ امام حسین وصیت کرگئے تھے کہ بہن! میرا کام ختم ہوا اور تمہارا کام شروع ہوا۔ کربلا تک میرا کام تھا، شام تک تمہارا کام ہے۔

جب سے حکومت دنیا میں بنی ہے، اس کا طریق کار یہ رہا ہے کہ کسی اپنے دشمن کو اگر وہ ذلیل کریں یا قتل کریں یا قید خانے میں ڈال دیں تو کوئی نہ کوئی عیب اس میں نہیں بھی ہے تو عیب اس میں لگایا جاتا ہے۔ پروپیگنڈا کروایا جاتا ہے اپنے آدمیوں کے ذریعے سے کہ یہ شخص اچھا نہ تھا، اس لئے قید خانے میں ڈالا گیا۔ یزید اس چیز کو اچھی طرح سے جانتا تھا کہ پروپیگنڈا کیوں اور کیسے کروایا جاتا ہے کیونکہ اُس نے اُس جگہ پرورش پائی تھی جو اس قسم کے پروپیگنڈے کا گھر تھا اور روزانہ وہ ان چیزوں کو دیکھتا تھا۔ وہ اچھی طرح سے سمجھ سکتا تھا کہ کسی شخص پر الزام لگانے کے کتنے طریقے ہوسکتے ہیں اور کس طرح سے لوگوں میں اس کے اثرورسوخ کا زائل کیا جاسکتا ہے۔امام حسین علیہ السلام یہ جانتے تھے اور اس کیلئے جنابِ امام حسین نے جنابِ زینب کو منتخب کیاتھا۔
میری بہن! حکومت جو پروپیگنڈا میرے خلاف کرے گی، اگر تم شام تک چلی جاؤ گی تویہ تمام قوتیں ختم ہوجائیں گی۔ ایک تمہاری آواز دنیا پر چھا جائے گی۔

اور یہی ہوا اور جنابِ زینب سلام اللہ علیہا اسی خیال سے چلیں۔ لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ ایک شخص نے ہم پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے اُسے قتل کردیا۔ اس کے ساتھیوں کو مار ڈالا۔ اُس کے بال بچوں کو گرفتار کیا اور وہ فلاں دن دمشق میں داخل ہوں گے۔ پچاس پچاس میل تک، سو سو میل تک جب یہ خبریں پہنچیں تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ کوئی غیر مسلم ہوگا، مسلمان نہ ہوگا جس نے یہ حملہ کیا ہے۔ وہ مسلمان نہ ہوگا جس کی عورتیں قید ہوکر آرہی ہیں۔ یہ لوگ جمع ہوگئے ، لاکھوں آدمیوں کا ہجوم، قافلہ قیدیوں کا آرہا ہے۔ کالے عَلَم دکھائی دئیے اور زیادہ متوجہ ہوگئے لوگ کہ یہ کیا ہے؟ ابھی تک خیال وہی ہے۔ اس کے جب قریب آئے وہ اونٹ جن کے ساتھ سر تھے تو لوگوں نے گھبرا گھبرا کردیکھنا شرو ع کیا اور آخر میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: ارے بھائی! کہا جاتا ہے کہ مسلمان نہیں! ان کی پیشانیوں پر تو سجدوں کے نشان ہیں اور اس کے بعد دوسرا کہتا ہے کہ اس کو تو چھوڑا، یہ تو دیکھو ان بیبیوں کی گودوں میں جو بچے ہیں، وہ قرآن پڑھتے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ یہ جو چیزیں دیکھیں تو اس کے بعد لوگوں نے پوچھنا شروع کیا:ارے بھئی! یہ کہاں کے قیدی ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں؟ کس خاندان کے ہیں؟ تو کسی نے بتلایا کہ جس کا کلمہ پڑھتے ہو، اُس کی بیٹیاں ہیں۔ وہ جو پروپیگنڈے ہورہے تھے، ایک مرتبہ ایک نظر میں ختم ہوگئے۔

اس کے بعد وہ طبقہ جو اُمراء کا طبقہ سمجھا جاتا تھا، جن کے خیالات دنیا کی طرف مرکوز رہتے ہیں، اُن سے سامنا ہوا۔ حضور! جب دربار میں یہ قافلہ پہنچ گیاتووہاں کم سے کام سات سو کرسیاں تھیں جن پر ارکانِ دولت اور روٴسائے وج بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے بڑے آدمی اِدھر اُدھر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ دروازے کی طرف سے زنجیروں کی آواز آئی۔ اب جو نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک بیمار ہے، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے ہوئے، نظر جھکائے ہوئے چلا آرہا ہے۔

اس کے بعد بیبیاں نظر آئیں اور بیبیاں کس طرح سے زبان سے الفاظ نکلتے نہیں ہیں مگر کیا کروں؟ کہلوایا زمانے نے، کسی کے سر پر چادر نہیں، ایک طرف بیٹھ گئیں یہ بیبیاں سرجھکائے۔ یزید یہ سمجھ رہا تھا کہ میری فتح کی خوشی ہے۔ وہ اپنی فتح کی خوشی میں مخمور تھا۔ شمر نے آکر سرپیش کیا بطور تحفہ۔یزید نے رومال ہٹایا۔ جب لوگوں کی نظریں پڑیں ، قتل ہوئے چار پانچ مہینے گزر گئے ہیں مگر دیکھنے والوں کے بیان ہیں کہ خدا کی قسم! اتنا خوش شکل چہرہ کبھی نہیں دیکھا جتنا یہ کٹا ہوا سر تھا۔

چہرے سے نور نکل رہا تھا۔ بعض لوگ جن کی روحوں میں سعادت تھی، سر کو دیکھتے ہی گھبراگئے۔ یہ کیا ہوا؟ کس کا سر ہے؟ کبھی بیبیوں کی طرف نگاہ ہے، کبھی امام زین العابدین کی طرف۔ امام زین العابدین سر نہیں اُٹھاتے، سر جھکائے ہوئے ہیں۔ آپ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ کربلا سے قید ہو کر جب چلے، کوفے میں قید رہے، ابن زیاد کے دربار میں پیش ہوئے، کوفے سے پھر شام کے راستے دمشق، بارہ سو میل کا راستہ،اس تمام راستے میں امام زین العابدین کی حالت یہ رہی کہ ہمیشہ سرجھکائے ہوئے رہتے تھے۔ دل میں نشتر چبھنے لگتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب یہ چیز میرے خیال میں آجاتی ہے، بنی ہاشم کا جوان،22سال کی عمر، رسول کا نواسہ، علی کا پوتا، امام حسین علیہ السلام آخری وصیت میں فرما گئے تھے: بیٹا! ماں اور بہنوں کا ساتھ ہے، گھبرا نہ جانا، میری محنت برباد ہوجائے گی۔

ایک فقرہ اگرآپ کے سامنے عرض کروں تو شاید یہ بے محل نہ ہوگا، ایک مرتبہ ایسا ہوا اور یہ ہوتا چلا آرہا ہے، ذرا ذرا سی بات پر شمر جنابِ امام زین العابدین علیہ السلام کو ستاتا تھا۔ نوکِ نیزہ سے اذیت دیتا تھا، بازارِ شام میں ایک مرتبہ امام زین العابدین گر پڑے۔ بیمار کو ٹھوکر لگی، گر پڑے، اُس نے نیزے کی نوک سے تکلیف دی، تڑپ کو اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے باپ کے سر کی طرف نظر کرکے عرض کرتے ہیں:
بابا! میری کمرکو دیکھئے، کتنی زخمی ہوچکی ہے۔جنابِ زینب نے جب یہ دیکھا تو آواز دی: بیٹا! منزل قریب آگئی ہے، گھبراؤ نہیں۔

جب یزید نے دربار میں خطاب کیا، تمہارے بھائی کو خدا نے قتل کیا، تم کو رُسوا کیا کہ قید ہوکر میرے دربار میں آئے ۔ جنابِ زینب کوموقعہ ملا کہ یہ وقت ہے کہ اُس تمام پروپیگنڈے کو اسی جگہ ختم کردوں تو ایک مرتبہ آپ نے آواز دی: "یزید! خاموش ہوجا، کیا بک رہا ہے؟ تو یہ کہتا ہے کہ میرا بھائی قتل ہوا، اُس کی ہمیں پروا نہیں، قتل ہونا ہماری میراث ہے۔ رہ گئی یہ چیز کہ تو نے ہمیں گرفتار کیا اور دربار میں لایا، ہماری ذلت نہیں ، تو ذلیل ہوگا جب قیامت کا میدان ہوگا تو میرے نانا پوچھیں گے"۔ اتنی باتیں کی تھیں جنابِ زینب نے کہ دربار والے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے کہ علی کی آوازکہاں سے آئی۔ آپ نے فرمایا: "دربار والو! تم ہمارا تماشہ دیکھنے کیلئے بیٹھے ہو، تمہیں پتہ نہیں کہ میں کون ہوں؟ ارے تمہارے رسول کی جو بیٹی تھیں ناں فاطمہ زہرا ، اُن کی بیٹی زینب ہوں۔ یہ کٹا ہوا سر میرے بے گناہ مظلوم بھائی کا ہے۔

نام کتاب:  روایات عزا

 مصنف:  علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ

Last modified on سه شنبه, 01 بهمن 1392 11:46
Login to post comments