×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سورۂ یوسف کی آیت نمبر 74-75 کی تفسیر

بهمن 01, 1392 598

سورۂ یوسف ( ع ) کی آیت 74 اور 75 میں

خدا فرماتا ہے :

قالوا فما جزاؤہ ان کنتم کاذبین قالوا جزاؤہ من وّجد فی رحلہ فہو جزاؤہ کذلک نجزی الظّالمین "

( جواب میں حکومت کے کارندوں نے جناب یوسف (ع) کے بھائیوں سے پوچھا ) اگر ( اس کے برخلاف ) تم لوگ جھوٹے نکلے تو ( جس نے چوری کی ہے ) اس کی کیا سزا تجویز دیتے ہو ؟ ( انہوں نے ) کہا سزا یہی ہے کہ جس کے بوجھ میں وہ پیمانہ مل جائے اس کو پکڑلیجئےگا ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں ۔

عزیزان گرامی ! یوسف ( ع ) کے بھائیوں نے جب چوری سے انکار کیا کہ آپ کو معلوم ہے ہم لوگ چور نہیں ہیں اور نہ ہی ہم بد عنوانی کا ارادہ رکھتے ہیں تو حکومت کے ملازمین نے بھی اسی لہجے میں پوچھا ٹھیک ہے اب اگر بالفرض آپ کے سامان میں گمشدہ ظرف مل گیا تو آپ کیا سزا تجویز دیتے ہیں ؟ انہوں نے بھی صاف طور پر کہہ دیا آپ چور کو پکڑلیجئے گا ہمارے یہاں یعقوب (ع) کی شریعت میں چوری کی یہی سزا دی جاتی ہے کہ خود چور سے چوری کا تاوان وصول کیا جائے اور جب تک تاوان نہ دے چور کو اپنے قبضہ و اختیار میں رکھا جائے ۔ در اصل یہ اقرار بھی جناب یوسف (ع) کے منصوبے کا ایک حصہ تھا تاکہ اس بہانے بنیامین کو مصر میں روکا جائے اور پھر ان کے توسل سے جناب یعقوب (ع) کو مصر بلایا جا سکے اور یوسف (ع) کو بھائی کے ساتھ باپ کا دیدار بھی نصیب ہوجائے ۔

Last modified on سه شنبه, 01 بهمن 1392 14:10
Login to post comments