×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام باقر علیہ السلام کی شخصیت اور فیوض

بهمن 02, 1392 397

امام باقر علیہ السلام کی

شخصیت اور فیوض کے جائزہ کے لئے ہم تھوڑی دیر کے لئے تاریخ کے اوراق کے ہمسفر بن جاتے ہیں۔ یہ نظر آتا ہے کہ دعوت ذوالعشیرہ کے نتیجہ میں اس وقت کا عرب معاشرہ دو طبقوں میں بٹ گیا ، ایک رسول کا ہمنوا اور دوسرا مخالف ، دیکھتے دیکھتے آنحضرت کی رسالت کے ٢٣ سال گزر گئے۔ ذی الحجہ ١١ھ یعنی اپنی وفات سے ٢ ماہ قبل حضرت نے ""حکم بلغ"" کی تعمیل میں حضرت علی (ع) کی جانشینی کا اعلان کردیا۔ یوں تو اس اعلان پر بہت مبارک سلامت ہوئی لیکن دلوں کے راز ثقیفہ میں کھل کر سامنے آگئے اور جو فیصلے ہوئے وہ سب جانتے ہیں اور پھر چشم روز گار نے دیکھا کہ ٢٥ سال کے عرصے میں خلیفہ وقت کو مدینہ میں اپنے ہی مکان میں محصور اور متقول بن گئے اور اہلبیت کے مخالفین کی ہمتیں اتنی بڑھ گئی کہ خلیفہ راشدہ چہارم کو مسجد کوفہ میں عینی حالت نماز میں شہید کردیا گیا۔ اس ٢٥ سال کے عرصہ میں ظلم و استبداد کے ایسے مناظر نظرآتے ہیں کہ اﷲاکبر کے نعرے لگاتے ہوئے ہنستی بستی آبادیوں کو خدا اور رسول کے نام پر ویران کرتے چلے گئے۔ اسلامی مملکت کے وسعتوں میں اضافہ نے غرض مندوں کی فوج در فوج کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ اس تمام عرصہ میں واقعات کے دھاروں نے متذکرہ بالا دونوں گروہوں کو اپنے خود ساختہ اصول اور مقاصد میں پختگی پر مجبور کیا۔ بالخصوص سیرت شیخین کی اتباع ہیرو پرستی کے طور پر ابھر کر اسلام کے بیمار جسم میں سرایت کر گئی، زمانہ کے رجحان کا انداز ہ اس حقیقت سے لگاسکتے ہیں کہ امیر المومنین کی شہادت کے صرف ٢٠ سال بعد جب سانحہ کربلا واقعہ ہوا تو یزید کے لشکر کی تعداد ٣٠ ہزار سے ایک لاکھ تک بتائی جاتی ہے جبکہ فرزند رسول کے ساتھ صرف ٧٢ جاں نثار تھے ۔ اس دوران اسلام کی شکل اس طرح بگاڑ دی گئی کہ دربار شام میں سینکڑوں سر برآوردہ ہستیوں کی موجودگی میں یزید کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ (نعوذ باﷲ) محمد نے ایک کھیل کھیلا تھا نہ کوئی وحی نہ خبر آئی تھی۔ شیعوں کے لئے معاویہ اور یزید کا ٢٤ سالہ دور بہت مشکل زمانہ تھا امام سجاد (ع) اور امام باقر (ع) مسلسل محاصرہ میں رہے۔

متذکرہ ماحول کے باوجود شیعہ ائمہ نے رشد و ہدایت کے کارنامے انجام دیئے ہیں جو غیبت کبریٰ کے طویل زمانہ میں ہماری رہبری کے لئے روشنی کے مینار ہیں، امام باقر (ع) کی ایسی ہی چند خصوصیات اس مقالہ کی زینت ہیں۔ ان گزارشات کو ہم دلیل امامت سے شروع کرتے ہیں۔

Last modified on چهارشنبه, 02 بهمن 1392 11:51
Login to post comments